BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 November, 2005, 18:48 GMT 23:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہروں پر متاثرین کے مسائل کا دباؤ

 بالا کوٹ
بڑھتی ہوئیسردیوں کے باعث بالا کوٹ کی نواحی پہاڑیوں سے لوگ اب نیچے شہروں میں آنا شروع ہو گئے ہیں
پاکستان میں گزشتہ ماہ کے زلزلے سے شدید متاثر ہونے والے صوبہ سرحد کے شہر بالا کوٹ کی نواحی پہاڑی چوٹیوں پر سردی میں اضافے کی وجہ سے لوگ مال مویشیوں کے ساتھ نیچے شہر آنا شروع ہوگئے ہیں، جس سے شہر میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ آئے دن مختلف علاقوں سے بالا کوٹ آنے والے لوگوں کی وجہ سے جہاں خیموں کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے وہاں کھانے پینے کی اشیاء کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

مال مویشیوں کا ریوڑ لے کر آنے والے زلزلہ زدگاں حمید اللہ نے بتایا کہ انتظامیہ والے انہیں آبادی سے دور برفیلے پانی والے دریائے کنہار کے کنارے رہنے کا کہتے ہیں۔ ان کے مطابق وہاں ٹھنڈ بہت زیادہ ہے اور اگر انہیں مناسب جگہ نہیں ملی تو وہ مانسہرہ کا رخ کریں گے۔

جو ریوڑ بالا کوٹ میں دکھائی دیے وہ گائیوں، بکریوں اور بھیڑوں کے تھے۔

پچاس ہزار کے قریب آبادی والے شہر بالا کوٹ میں تھانے کا ملبہ ہٹانے کا کام ایک دھماکے کے بعد بند کردیا گیا ہے۔ ملبہ ہٹانے والی ایک فوجی ٹیم کے سربراہ نائب صوبیدار سرفراز حیدر نے بتایا کہ تھانے کے مال خانے میں پٹاخوں کی ایک بوری پڑی تھی اور جیسے ہی بلڈوزر نے ملبہ ہٹایا تو دھماکہ ہوا۔

البتہ انہوں نے بتایا کہ بوائز ہائی سکول کا ملبہ ہٹایا گیا ہے، جہاں وفاقی وزیر پیداوار جہانگیر ترین اپنے ذاتی خرچے پر جستی چادروں کے کمروں والا سکول تعمیر کر رہے ہیں۔یہ سکول افغانی انجینئر تعمیر کر رہے ہیں۔

اس جستی سکول میں فرش پر لوہے کا جنگلہ ویلڈنگ کرکے کھڑا کیا جاتا ہے اور جستی چادروں کے درمیاں چار سے پانچ انچ موٹا سخت فوم نما مواد ’پیک‘ کر کے دیواریں بنائی جاتی ہیں۔

انجینئرز کے مطابق اس طرح کی تعمیرات سے جہاں زلزلے سے بچا جاسکتا ہے وہاں سردی کو بھی کافی حد تک روکا جاسکتا ہے۔

سکول کے وسط میں دو اجتماعی قبریں تھیں۔ جس کے بارے میں سرفراز حیدر نے بتایا کہ ایک قبر میں اسی سکول کے چالیس اور دوسری میں تئیس بچے دفن ہیں۔

دریائے کنہار کی دونوں جانب واقع شہر بالا کوٹ میں گری ہوئی دوکانوں کے ڈھانچوں کے اندر لوگوں نے سبزیاں، میوہ جات اور دیگر اشیائے ضرورت بیچ رہے ہیں۔

پل کے قریب لکڑیوں کے فریم میں جستی چادریں لگا کر ایک قصاب نے گوشت فروخت کرنا بھی شروع کردیا ہے۔

شہر میں جگہ جگہ خیمہ بستیاں ہیں اور کچھ بستیوں میں جہاں سکول نظر آئے وہاں ’بینک آف خیبر‘ نے بھی ایک خیمے میں کام شروع کردیا ہے۔

زلزلے کو آئے چھ ہفتے گزر چکے ہیں لیکن اب بھی شہر میں ملبے کے ڈھیر پڑے ہیں جہاں سے نائب صوبیدار سرفراز حیدر کے مطابق وہ آئے دن اکا دکا لاشیں بھی نکالتے ہیں۔ ان کے مطابق چند روز قبل جب ایک مسجد کے پیش امام مولوی ادریس لاش نکالی تو وہ گل سڑ چکی تھی۔

اسی بارے میں
زلزلہ متاثرین کے لیے رت جگا
09 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد