BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 November, 2005, 08:16 GMT 13:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نہ میکہ سلامت رہا اور نہ ہی سسرال

زلزلے کی متاثرین لڑکیاں: جن کا کوئی نہ رہ گیا
زلزلے کی متاثرین لڑکیاں: جن کا کوئی نہ رہ گیا
پاکستان میں گزشتہ ماہ آنے والے زلزلے سے یوں تو متاثرہ افراد کی، جو اب مختلف خیمہ بستیوں میں مقیم ہیں، ہر ایک کی اپنی اپنی دکھ بھری کہانی ہے لیکن بالاکوٹ کی ایک خیمہ بستی میں رہائش پذیر شہناز ہارون کی کہانی کئی متاثرین سے اس لیے مختلف ہے کہ ان کا نہ میکہ سلامت رہا اور نہ ہی سسرال۔

تیس سالہ شہناز آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے محض دو روز قبل اپنے دو بچوں کے ہمراہ مظفرآباد کی جہلم ویلی کے چھوٹے شہر گڑھی دوپٹہ کے قریب مالسیہ گاؤں سے اپنے میکے یعنی بالا کوٹ آئیں اور زلزلے سے جہاں ان کا سسرالی گھر تباہ ہوگیا وہاں ان کے ماں باپ کا مکان بھی تباہ ہوگیا۔

بالا کوٹ میں سڑک کنارے دریائے کنہار کے دائیں کنارے واقع زندگی ٹرسٹ کی بستی میں خیمہ زن شہناز ہارون سے جب ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کا اپنے شوہر سے رابطہ ہوا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ جب تک صورتحال بہتر نہ ہو اس وقت تک بالا کوٹ میں ہی رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے چچا اور ایک چچا زاد بھائی زلزلے سے ہلاک ہوگئے ہیں لیکن باقی میکے اور سسرال کے قریبی رشتہ داروں میں جانی نقصان نہیں ہوا۔ البتہ ان کے مطابق ان کا مالی نقصان بہت ہوا ہے۔

شہناز ایک سکول ٹیچر ہیں اور خیمے کی زندگی میں رہتے ہوئے بھی ان کی خواہش ہے کہ وہ بچوں کو تعلیم دیں اور اس کے لیے انہوں نے ٹرسٹ کے رضاکاروں سے ایک اضافی خیمہ بھی مانگا ہے۔

اس بستی کے منتظم عبدالغفار نے، جو کہ لاڑکانہ سندھ کے ہیں، بتایا کہ ایک سو خیموں پر مشتمل ان کی بستی میں رہنے والے پانچ سو سے زیادہ افراد میں سے چالیس کے قریب بچے ہیں جو پڑھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کہ ٹرسٹ کی جانب سے مفت کتابیں، کاپیاں اور پینسلیں وغیرہ منگوائی گئی ہیں اور فی الحال وہ بچوں کو ڈرائنگ سکھاتے ہیں۔

ان کے مطابق بچوں کو اپنی کلاسوں کے مطابق پڑھانا فی الوقت مشکل ہے اور اس لیے وہ بچوں کو روزانہ ڈرائنگ کی مشق کراتے ہیں تاکہ بچوں کو مصروف رکھا جاسکے اور ان کی سکول کی عادت بھی برقرار رہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ آئندہ کچھ دنوں تک باضابطہ سکول شروع کرنے کا ارادہ ہے اور متاثرین میں شہناز سمیت کچھ ایسی پڑھی لکھی خواتین بھی ہیں جو بچوں کو مفت پڑھانا چاہتی ہیں۔

66آپ کی کہانیاں
’میری بچی زلزلے سے تو بچ گئی، مگر۔۔۔‘
66عاشق اور قائم کی یاد
ایک پانچویں جماعت کے بچے کی کہانی
66خصوصی تصاویر
مظفرآباد : زلزلے سے پہلے اور بعد
66’کمروں سےڈر لگتا ہے‘
زلزلے سے متاثرہ بچوں کی کہانیاں
اسی بارے میں
آپ کی صحافت
26 October, 2005 | Blog
جستی چادروں کے گھر
22 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد