مینٹل ہسپتال میں زلزلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیتالیس سال حملہ آور رہے جملہ مسلمان جدون، ترین، قاضی اور گروپِ محمد عرفان یہ شعر ہری پور کے شیرافضل خان جدون نے مجھے سنایا جو اسوقت ڈھاڈر مینٹل ہسپتال میں ہیں۔شیر افضل کے لیے یہ جگہ اجنبی نہیں ہے وہ انیس سو ستر سے یہاں آ جا رہے ہیں۔ ہسپتال کے عملے نے بتایا کہ جب شیر افضل کی حالت بہتر ہوجاتی ہے تو ہم انہیں انکے بیٹے کے پاس پہنچا دیتے ہیں اور جب انکی حالت بگڑنے لگتی ہے اور یہ دوا کھانا چھوڑ دیتے ہیں تو پھر بیٹا شیر افضل کو ہمارے ہاں چھوڑ جاتا ہے۔ خود شیر افضل کے بقول پاگل خانے سے میری آشنائی کی تین وجوہات ہیں۔پہلی وجہ یہ کہ انیس سو ستر میں محکمہ جنگلات والوں نے مجھے دھوکے سے یہاں بھجوا دیا۔
تیسرا پوائنٹ یہ ہے کہ انیس سو اسی میں میں نے دیواروں پر دبا کے چاکنگ کی اور صرف یہ نعرہ لکھا کہ جہاد اقصٰی کے لیے ہے۔باقی سب سیاست ہے۔ ظاہر ہے اسکے بعد میرے کیس میں حکومت بھی انوالو ہوگئی اور میرا غصہ اور پریشانی پچاس فیصد سے زیادہ ہوگئے۔اس لیے مجھے یہاں پر رہنا پڑ گیا۔ میں نے شیرافضل سے پوچھا کہ آٹھ اکتوبر کو جوکچھ ہوا وہ کیسا تھا۔شیر افضل نے کہا۔بس ایک اتفاقی حادثہ ہے
گنڈاں کھولاں وے تھاناں دی مک گئی جند میری مہربانی اے خاناں دی یہ ماہیا سناتے سناتے شیرافضل لیفٹ رائٹ ایکشن میں چلتا چلا گیا۔ میری ملاقات مجاہد حسین سے بھی ہوئی جسکا دماغ ہسپتال کے عملے کے مطابق بارہ برس پہلے شادی کے چوبیس گھنٹے میں گھوم گیا۔ مجاہد نے اپنا ایک پاؤں اپنی ہی گردن پر رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے بتایا کہ اسکے دو گھر ہیں ایک قیوم آباد کراچی میں اور دوسرا جامع مسجد خوشحال خان کے سامنے۔میں نے پوچھا کہ مسجد خوشحال خان کس جگہ ہے۔کہنے لگا’بس تم مسجد تک پہنچ جاؤ وہاں کسی سے بھی جگہ کا نام پوچھ لینا‘ مجاہد حسین نے بتایا کہ جب زلزلہ آیا تو وہ اسی بیرک میں تھا۔مگر زلزلے نےمجھ سے کہا چل نکل۔میں باہر آگیا اور یہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں ان سب سے ہاتھ ملایا۔یہ لوگ خوش ہوگئے اور انہوں نے مجھے گھر بھجوادیا۔دل کی باتیں تم کو تو بتائیں گے۔ایسے موسم پھر کب آئیں گے۔بس یہاں نشریات بند۔سیل ختم۔ بیرک میں بند دو نوجوانوں نے جب مجھے پہلے شیر افضل اور پھر مجاہد سے باتیں کرتے دیکھا تو وہ بھی بے چین ہوگئے۔میڈیکل سپرینڈینڈنٹ سجاد حسین نے ان دنوں کو باہر آنے کی اجازت دے دی۔ یہ دونوں سگے بھائی ہیں عبدالقیوم اور محمد اکرم۔دونوں کو انکے والد نے تنگ آ کر یہاں چھوڑا ہے۔ عبدالقیوم کا خیال تھا کہ میں ڈاکٹر ہوں۔اس لیے وہ مجھے بار بار یقین دلا رہا تھا کہ اسے نہ صرف راستہ اچھی طرح معلوم ہے بلکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کونسی ویگن اسے گھر لے جائے گی۔وہ اس بات سے ڈر رہا تھا کہ اس پر چھت گر جائے گی۔ میڈیکل سپرینڈینڈنٹ سجاد حسین نے بتایا کہ یہ واحد بیرک ہے جو نسبتاً بہتر ہے باقی چار تو ملبے کا ڈھیر ہیں۔’ہم مریضوں کو کچھ دیر تو خیموں میں رکھ سکتے ہیں لیکن رات کو ٹھنڈ اور فرار ہونے کے خدشے کے سبب انہیں اس بیرک میں ہی رکھنا پڑتا ہے۔‘ جس وقت سجادحسین مجھ سے گفتگو کررہے تھے عبدالقیوم کے ذہن میں ایک اور آئیڈیا آیا۔ آپ ایسا کریں کہ میرے ابے کو ٹیلی فون کردیں کہ میری بیرک میں زلزلہ آگیا ہے۔وہ گھبرا کر بھاگتا ہوا آجائےگا اور مجھے اور بھائی کو لے جائے گا۔ لیکن جب عبدالقیوم کو یہ بتایا گیا کہ زلزلہ صرف بیرک میں نہیں آتا بلکہ بڑے علاقے میں آتا ہے تو وہ خاموشی سے ایک کونے میں اکڑوں بیٹھ گیا۔شاید کسی نئی پلاننگ کے لیے۔ ڈھاڈر مینٹل ہسپتال اس بلڈنگ کمپلیکس میں چار برس پہلے قائم کیا گیا جو انیس سو انتالیس میں ٹی بی سینیٹوریم کے لیے بنا تھا۔ یہاں ڈیڑھ سو بستروں کی گنجائش تھی جن میں سے سو ذہنی مریضوں کے لیے مختص تھے۔زلزلے نے چھ میں سے چار عمارات کو ڈھیر کردیا۔ایک ڈاکٹر منیر شاہ اور اسکی نئی نویلی دلہن گھر کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہوگئے۔لیکن اسی مریضوں میں سے کسی کو خراش نہ آئی کیونکہ زلزلے کے وقت وہ بیرکوں سے باہر ناشتے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔ میڈیکل سپرینڈینڈنٹ نے بتایا کہ پانچ مریضوں کو پولیس دوبارہ جیل لے گئی۔پانچ چھ لاوارث ہمارے ساتھ رہ گئے اور باقی اپنے وارثوں تک پہنچا دیئے گئے۔ان میں سے پندرہ اب واپس آگئے ہیں۔ سپرینڈینڈنٹ سجاد حسین نے بتایا کہ اب صرف چار ڈاکٹر موجود ہیں۔ایک ایمبولینس ہے۔زلزلے کے بعد ماہرِ نفسیات ایک مرتبہ مریضوں کا معائنہ کرچکا ہے۔نفسیاتی دواؤں کی کوئی قلت نہیں۔نقصان کا اندازہ بیس کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔ اب تک محکمہ صحت یا کسی اور سرکاری ادارے کی جانب سے مدد نہیں ملی۔کسی اعلی افسر نے ہسپتال کا معائنہ نہیں کیا۔کچھ خیمے اور خوراک این جی اوز کی مہربانی سے میسر آگئے ہیں۔ ڈھاڈر مینٹل ہسپتال کے دو سو ایکڑ کے احاطے میں کیوبا کا ایک فیلڈ ہسپتال قائم ہے اور افغانستان کی ایک این جی او ابنِ سینا نے اپنا میڈیکل کیمپ لگا رکھا ہے۔انکے پاس زخموں اور ہڈیوں کے کئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر کام کررہے ہیں۔بس کمی ہے تو کسی نیورو اسپیشلسٹ یا سائکاٹرسٹ کی۔ | اسی بارے میں ’امداد مستحق افراد کو نہیں مل رہی‘29 October, 2005 | پاکستان مالی امداد پالیسی میں پھر تبدیلی29 October, 2005 | پاکستان دیکھو بچو ہاتھی آیا30 October, 2005 | پاکستان جب کوئی احساس ہی نہ رہے 28 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||