میرا کا ’فور سٹار‘ کیمپ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع بٹ گرام کی تحصیل الائی کے متاثرین زلزلہ کے لئے میرا کے مقام پر قائم خیمہ بستی کئی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں نہ صرف طبی امداد مہیا کرنے والا کیوبا کا طبی عملہ ہی موجود نہیں بلکہ چوبیس گھنٹے کھلی رہنے والی ایک سبزی کی دوکان بھی موجود ہے۔ چاروں جانب اونچے پہاڑ، ایک جانب تندوتیز دریاے سندھ اور دوسری طرف شاہراہ قراقرم۔ یہ مقام ہے میرا کا جہاں آج کل قریبی تحصیل الائی کے متاثرین زلزلے کو ایک خیمہ بستی میں رکھا جا رہا ہے۔ کیمپ پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہاں دنیا کے تقریبا دوسرے کونے سے آئے کیوبا کے ساٹھ ڈاکٹرز اور نرسز بھی موجود ہیں۔ ان سے ملنے کا شوق پیدا ہوا اور جاننا چاہا کہ پاکستان آنا انہیں کیسا لگا۔ لیکن زبان تبادلہ خیالات میں آڑے آئی۔ انہیں انگریزی کی اس طرح سدھ بدھ نہیں تھی جیسے ہمیں لاطینی زبان کی۔ اشاروں سے بھی جب بات نہ بنی تو دل برداشتہ ہوکر واپس لوٹ آئے۔
البتہ اس ساری ’ہوں ہاں’ میں صرف یہ معلوم ہو سکا کہ کیوبنز نے آنے کے بعد اپنے مطلب کے اردو کے دو تین الفاظ یعنی ’درد، خارش، کلہاڑی یا ہتھوڑی’ سیکھ لئے ہیں جن سے وہ اپنا کام چلا لیتے ہیں۔ زخمی شخص کو شاید اپنی مشکل سمجھانے کی ضرورت نہیں ہوتی لہذا اس کے لئے کوئی لفظ نہیں سیکھ سکے۔ کیوبن ڈاکٹروں کے خیموں کے داخل ہونے کے راستے پر چھوٹا سا قومی پرچم لگا تھا۔ کسی نے بتایا کہ کیوبنز اتنی جلدی میں آئے کہ ساتھ کچھ بھی نہیں لائے۔ بعد میں جو سامان آیا ان میں بڑے سبز فوجی خیمے کافی پرانے معلوم ہو رہے تھے۔ ایک اور دلچسپ بات کیوبنز کے رہائشی خیموں کے گرد امریکی ادارے یو ایس ایڈ کی حفاظتی مقصد کے لئے لگی چادر تھی۔ کیوبا اور امریکہ کے تعلق جیسے بھی ہوں یہاں کوئی تناؤ دیکھنے کو نہیں ملا۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد سے حکام کے مطابق کشمیر اور صوبہ سرحد میں کیوبا کے ایک ہزار ڈاکٹر طبی امداد مہیا کرنے میں مصروف ہیں۔ اس ملک کے طبی ماہرین دنیا کے مختلف ممالک میں فرائص انجام دے رہے ہیں۔ کیوبا کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کے ملک میں زلزلے کبھی نہیں آتے اور یہاں آکر انہیں محسوس کرنا عجیب لگتا ہے۔ ان کیوبنز کو مسالے دار کھانوں کی بھی عادت نہیں لہذا انہوں نے کھانے پینے کا خود انتظام کیا۔ یہ طبی معالج روزانہ ڈیڑھ سو کے قریب کیمپ کے مریض دیکھتے ہیں۔ ان میں ان کے بقول اکثریت اسہال یا جلدی بیماریوں سے متاثر لوگ ہوتے ہیں۔ یہاں پہنچے تو سوچا یہاں ایک رات خیمے میں بسر کرکے متاثرین کی حالت کا اندازہ لگایا جائے۔ کیمپ کی فوجی انتظامیہ نے کھلے دل سے مہمان نوازی کی۔ فورا چین سے آیا بہترین گرم نیلا نیا خیمہ نصب ہوا جسے بعد میں باضابطہ طور پر گیسٹ روم کا نام بھی دے دیا گیا۔ اندر نرم میٹرس لگائے دئے گئے اور بجلی کا بھی انتظام آنا فانا ہوا۔ رات آٹھ بجے کے بعد کیمپ کا چکر لگانے نکلے تو کوئی دیکھائی نہ دیا۔ صدر دروازے پر دو بڑے قمقموں کے علاوہ پورا کیمپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہر کوئی اپنے خیمے میں دبکا تھا۔ خیموں سے بچوں بڑوں سب کا شور سنائی دے رہا تھا۔ تاہم اس کیمپ کی ایک اور خصوصیت یہاں چوبیس گھنٹے کھلی رہنے والی سبزی اور سیگریٹ کی دوکان ہے۔ اور تو اور یہاں نسوار بھی باآسانی دستیاب ہے۔ یہ خیمے میں قائم دوکان میرا کے ہی رہائشی رحیم زادہ کی ہے۔ اس نہ بتایا کہ یہاں ممکنہ کاروبار دیکھ کر اس نے یہ دوکان یہاں لگا دی جس کے لئے تازہ سبزی وہ مانسہرہ سے روزانہ لاتا ہے۔ ’آٹھ نو سو کی بکری ہوجاتی ہے۔ ہم مہنگا نہیں بچیتے مانسہرہ کے نرخ پر ہی سبزی دیتے ہیں۔‘ خیمہ بستی کے ایک مکین خلیل الرحمان کو کھیرے خریدتے دیکھا تو دریافت کیا کہ کیمپ میں سرکاری کھانا تو ملتا ہے پھر سبزی خریدنے کی ضرورت کیوں محسوس کی تو اس نے کہا کہ انہیں دال پسند نہیں۔ فن لینڈ کی فوج کے زیراستعمال نئے گرم خیمے، مال میوشی کو رکھنے کا انتظام اور ان کے لئے چارہ کا انتظام، صاف پینے کا پانی اور مفت کیوبن طبی امداد جیسی سہولتیں میرا کیمپ میں رہنے والے متاثرین کی تکالیف میں کمی کا سبب ضرور بن رہی ہیں۔ چلتے پھرتے تو شاید زلزلے کے جھٹکوں کا احساس نہیں ہوا لیکن رات کھانے کی میز سے جو وہ ہلانے لگے تو صبح تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ ایک زمین پھٹنے کا خوف نہ ہو تو خیمے میں زلزلہ کا ڈر تقریبا ختم ہوجاتا ہے۔ نہ باہر بھاگنے کی ضرورت نہ عمارت کے گرنے کا خوف۔ میرا میں سردی کی شدت بھی اتنی نہیں تھی جتنی ہم توقع کر رہے تھے۔ اس کی ایک وجہ اونچے پہاڑوں میں گھری اس وادی کا سطح سمندر سے صرف دو ہزار فٹ کی بلندی پر ہونا بتائی گئی۔ صبح صبح لذیز فوجی پراٹھوں کا ناشتہ کیا اور اگلی منزل کی راہ لی۔ راستے میں ایک ساتھی کے ساتھ میرا کیمپ کا دیگر خیمہ بستیوں سے موازنہ کیا تو اسے ہوٹلوں کی طرز پر ’فور سٹار’ درجہ دینے کو جی چاہا۔ لیکن پھر خیال آیا کہ کتنوں کو یہ گرم چینی خیمے یا نئے میٹرس ملے ہوں گے۔ خیمہ پھر خیمہ اور گھر گھر ہوتا ہے۔ خیمہ جیتنا بھی آرام دے ہوگھر کی جگہ تو یقینا نہیں لے سکتا۔ |
اسی بارے میں درد کا رشتہ، کیوبا کے ڈاکٹر18 November, 2005 | پاکستان ’میں پرسچہ سے سبطین علی ہوں۔۔۔‘18 November, 2005 | Blog زلزلہ سے میڈیا بری طرح متاثر16 November, 2005 | پاکستان آپ کی صحافت: ’نسل انسانیت ایک ہے‘16 November, 2005 | Blog | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||