زلزلہ سے میڈیا بری طرح متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جہاں پر سکول، کالج، ہسپتال، بینک، عدالتیں اور سرکاری دفاتر زمین بوس ہوئے وہاں پر میڈیا کے اداروں کوبھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ جہاں پر اخبارات کے دفاتر، ریڈیوسٹیشن ، ٹی وی چینل کے ادارے اور پریس کلب تباہ ہوئے اور کئی صحافیوں کونقصانات اُٹھانے سے میڈیا کا نظام مفلوج ہوا وہاں پر ہزاروں گھروں میں دیگر سامان کی طرح ریڈیو اور ٹی وی سیٹ کے ٹوٹ پھوٹ جانے سے اطلاعات کی رسائی کا نظام بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق زلزلے سے قبل صوبہ سرحد کے شہر بٹگرام ، بالاکوٹ اورمانسہرہ اور آزاد کشمیر کے مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ شہروں میں تقریباً اکیاسی فیصدگھروں میں ریڈیو اور باون فیصد گھروں میں ٹی وی سیٹ موجود تھے۔ اُن میں چھہتر فیصدکے ریڈیو اور ستانوے فیصد کے ٹی وی سیٹ زلزلے سے تباہ ہوگئے ہیں۔
پاکستان میں میڈیا کی ترقی کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے انٹرنیوز نیٹ ورک کے سروے کے مطابق زلزلے سے قبل ان شہروں میں چھپن فیصد لوگ ریڈیو پاکستان اور چوبیس فیصد افراد بی بی سی سنتے تھے جبکہ دو فیصد لوگوں کو پاور ایف ایم 99 اور ایک فیصد کو وائس آف امریکہ اور اتنے ہی فیصد لوگوں کو سرکاری ایف ایم 101پسند تھا۔ سرو ے کے مطابق زلزلے سے پہلے جن گھروں میں ٹی وی موجود تھا اُن میں پینتیس فیصد پی ٹی وی ، اکیس فیصد پی ٹی وی ورلڈ اور پانچ فیصد گھروں میں آزاد کشمیر ٹی وی دیکھا جاتا تھا جبکہ جیو ٹی وی اور خیبر ٹی وی ڈھائی ڈھائی فیصد گھروں اور بی بی سی ، سی این این ، دوردرشن ، سٹار پلس اور سٹار سپورٹس ایک ایک فیصد گھروں میں پسندیدہ چینلزتھے۔ سروےکے نتائج کے مطابق زلزلے کے بعد کے منظر میں جن اُنیس فیصد افراد کے ریڈیو سیٹ بچ گئے تھے اُن میں سے اب بی بی سی اور ریڈیو پاکستان گیارہ گیارہ فیصد افراد کے پسندیدہ ریڈیو سٹیشن جبکہ چار فیصد وائس آف امریکہ اور ایک فیصد افراد ایف ایم 101سنتے ہیں۔ زلزلے کے بعد ٹی وی صرف ایک فیصد گھروں میں بچے ہیں جن پر صرف پی ٹی وی آرہا ہے۔ زلزلے سے میڈیا کے روایتی ذرائع شدید متاثر ہونے کا ایک منفی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اطلاعات کے غیر مصدقہ ذرائع اُبھر آئے ہیں جن سے افواہیں فروغ پا رہی ہیں . آٹھ فیصد افراد کا یہ کہنا تھا کہ اُنہیں کہیں سے بھی اطلاعات نہیں مل رہیں جبکہ کسی ایک شخص نے بھی مسجد یا علماء کو اطلاعات کا ذریعہ نہیں بتایا۔ کچھ اور نتائج جو سامنے آئے اُن سے یہ پتہ چلا کہ تراسی فیصد افراد کو طبی امداد حاصل ہو چکی ہے، نواسی فیصد کے مطابق اُن کو پینے کا پانی دستیاب ہے۔ ستاسٹھ فیصد کے لئے معقول غذا کا انتظام ہے ، صرف اٹھائیس فیصد کے پاس لیٹرین کی سہولت اور اکاون فیصد کو بجلی دستیاب ہے جبکہ سنتیس فیصد کے پاس گرم کپڑے اور چھالیس فیصد افراد کے پاس ٹینٹ یا عارضی چھت موجود ہے . ان میں سے اکہتر فیصد اپنے تباہ شدہ گھروں سے دُور خیمہ بستیوں میں اور اُنتیس فیصد اپنے سابقہ گھروں کے قریب ہی ڈیرہ کئے ہوئے ہیں۔ رہائشی مستقبل کے بارے میں سوال کے جواب میں اِن گھر بدر افراد میں سے بیالیس فیصد کا اِرادہ مستقبل قریب میں اپنے موجودہ عارضی مقام پر رہنے کا ہے، چھ فیصد کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ، چار فیصد کسی تیسرے مقام کی جانب کوچ کرنا چاہتے ہیں جبکہ اٹھارہ فیصد اپنے تباہ شدہ گھروں پر نیا گھر تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صرف ارسٹھ فیصد افراد کے مطابق انہیں کسی قسم کی امداد مل سکی ہے۔ باقی اپنی مدد آپ کی بنیاد پرگزارہ کررہے ہیں۔ |
اسی بارے میں مانسہرہ میں قیمتیں تیز ہوگئیں16 November, 2005 | پاکستان پانچواں کراسنگ پوائنٹ کھل گیا16 November, 2005 | پاکستان زلزلہ، سردی: مزید ہلاکتوں کا خدشہ 14 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: سولہ ہزار تعلیمی ادارے متاثر14 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||