پاکستان اور کشمیر میں زلزلے کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے علاوہ غیر سرکاری اور عالمی ادارے زلزلے کے متاثرین کی امداد کے سلسلے میں سرگرم ہیں۔ صدر مشرف کے امدادی فنڈ اور اقوام متحدہ کی فلیش اپیل کی مد میں کروڑوں ڈالر جمع اور خرچ کیے جا چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک اعتماد سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ متاثرین کی تکالیف کو مکمل طور دور کیا جا سکا ہے۔ اب متاثرین کے لیے قائم کیے گئے کیمپوں سے بیماریاں پھیلنے اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سردی سے ہلاکتوں کی خبریں موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ آپ کے خیال میں حکومت، غیر سرکاری اور عالمی ادارے سردی اور بیماریوں کی شکل میں سامنے آنے والے چیلنجوں کا کامیابی سے مقابلہ کر سکیں گے؟ کیا زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں نیا سال شروع ہونے سے پہلے تعمیرِ نو کا مرحلہ شروع کیا جا سکے گا؟ آپ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پھوٹ پڑنے والی بیماریوں پر قابو پانے کے بارے میں کیے جانے والے حکومتی دعوے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
جاوید، جاپان: ہاں ضرور کرے گا کیوں کہ بادشاہ کو اپنی بادشاہت کا دور بڑھانا ہے سن دو ہزار سات میں جب الیکشن ہونے والے ہیں۔ سیاسی اقتدار کے بھوکے فوجی جرنیلوں کو کوئی تو ڈرامہ کرنا ہے تعمیر نو کے لئے لاکھوں فائلیں بنیں گی اور ان فائلیں بنانے والوں کے لئے اربوں کا بجٹ ہوگا۔ عطیہ عارف، کینیڈا: بس ایک ہی جذبے کی ضرورت ہے: حکومت اور متاثرین کے لئے: ہمت مرداں مدد خدا۔ دوسروں کی طرف دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، جو کرنا ہے خود ہی کرنا ہے۔ طارق محمود، سرگودھا: صرف باتیں ہوسکتی ہیں اور کچھ بھی نہیں۔ فنڈز اب آہستہ آہستہ وہاں جائیں گے جہاں ان کو ہونا چاہئے: مارکیٹ میں۔ صفدر عباس نقوی، کراچی: حکومتِ پاکستان کبھی بھی اپنے عوام سے مخلص نہیں رہی، یہی وجہ ہے کہ ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود تعمیر نو کے لئے صرف زبانی جمع خرچ سے کام لیا جارہا ہے۔ گار دیکھا جائے تو پاکستان کو اب تک ملنے والی امداد سے بہت کچھ کیا جاسکتا تھا۔ سب سے بڑھ کر متاثرین کو سر چھپانے کی جگہ فراہم کی جاسکتی تھی تاکہ وہ شدید سردی سے محفوظ رہ سکتے۔ آصف ججہ، ٹورانٹو: یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اور حکومت اور عوام کے درمیان کوئی کوریلیشن بھی نہیں۔ ساجد شاہ، بیلفاسٹ: پاکستان کے عوام کو سلام، انشاء اللہ کیمپوں کی حالت بتدریجبہتر ہوجائے گی۔ حکومت اور خصوصی طور پر عوامی کوششوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ تعمیر نو کا کام جل شروع ہوجائے گا۔ جمال اختر خان، فیصل آباد: زندگی میں ہر چیز ممکن ہے اگر بندہ کوشش کرے تو۔ ہمارے حکمران تو صرف دنیا سے مانگنے کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ پریکٹیکل نام کی کوئی چیز نہیں ہے، گر یہ اپنے ساتھ عوام کو بھی اعتماد میں لیکر کام شروع کریں تو انشاء اللہ بہت جلد مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ ارباب اختیار سے گزارش ےکہ وہ کچھ کریں پر پریکٹیکل ورنہ بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔ کامرن تہاور، گلبرگ، لاہور: موجودہ حالات میں وسائل اور افراد کی ضرورت ہے۔ ناصر عباسی، اسلام آباد: یہ اتنا بڑا حادثہ ہے کہ اس کے اہداف کے بارے مںی حتمی طور پر قبل از وقت کچھ کہنا مشکل ہے۔ ہاں ایسے حالات میں جب ہزاروں مربع میل کا علاقہ تہ و بالا ہوچکا ہو تو مشکلات سے ضرور سامنا ہوگا۔ پاک آرمی کی بے مثال خدمت، دوست ممالک کے ساتھ اس زلزلے کی تباہ کاریوں کے چیلنج کا سامنا کرسکیں گے۔  | آزمائش کی اس گھڑی میں  پاکستانی لوگوں نے یہ چیز ثابت کردی کہ آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان کا ہر افرد ایک جسم کی طرح ہے جس کے ایک حصے میں اگر درد ہو تو تو سارا جسم بھی درد محسوس کرتا ہے۔ انٹرنیشنل کمیونیٹی نے بھی کافی اچھی امداد کی ہے لیکن اس لیول کی نہیں کے جس طرح ہونی چاہئے تھی۔ ہر ایک جانتا ہے کہ یہ سونامی سے بھی بڑا سانحہ تھا پھر بھی عالمی برادری نے امداد دینے میں کنجوسی کی۔  سلمان مدثر، اسلام آباد |
سلمان مدثر، اسلام آباد: میں ایک طالب علم اور محب وطن پاکستانی بھی ہوں۔ مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ کیوں ہم لوگ خود اپنے آپ کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور یہ کیوں نہیں سمجھ سکتے کہ ہم ایک ترقی پزیر ملک ہیں۔ زلزلے جیسا سانحہ ہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، اس لئے ہماری تیاری بھی اس لیول کی نہیں تھی کہ ہم اس سانحے سے نمٹ لیتے۔ گورنمنٹ نے جو بھی کیا اور جو کچھ تاحال کررہے ہیں وہ اپریسیشن کے لائق ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی لوگوں نے یہ چیز ثابت کردی کہ آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان کا ہر افرد ایک جسم کی طرح ہے جس کے ایک حصے میں اگر درد ہو تو تو سارا جسم بھی درد محسوس کرتا ہے۔ انٹرنیشنل کمیونیٹی نے بھی کافی اچھی امداد کی ہے لیکن اس لیول کی نہیں کے جس طرح ہونی چاہئے تھی۔ ہر ایک جانتا ہے کہ یہ سونامی سے بھی بڑا سانحہ تھا پھر بھی عالمی برادری نے امداد دینے میں کنجوسی کی۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: میری ناقص رائے سے متفق شاید سب نہ ہوں لیکن اصل حقائق سے پردہ پوشی نہیں ہونی چاہئے۔ بلی کے آنکھ بند کرلینے سے کبوتر چلا نہیں جایا کرتا۔ ہم متاثرین کے حالات کو حقیقت کے تناظر میں ہی دیکھیں۔ ان علاقوں کے موسم کا حال کچھ ایسا ہے کہ عام حالت میں بھی فلایٹ میں دس سے پندرہ دنوں کی تاخیر ہوجایا کرتی تھی۔ اور ملکی رابطے کٹ جایا کرتے تھے لیکن اب جبکہ حالات دوسری طرح کے ہیں: اس وقت لوگوں کے پاس مسائل خود حل کرنے کے لئے سب وسائل موجود تھے، لیکن اب وہ ہر بات کے لئے دوسروں کے محتاج ہیں۔ راجہ یونس، دمام: کشمیر اور پاکستان ر قیامت گزری، ایک ماہ سے زیادہ ہوچکا ہے مگر تاحال کوئی مربوط اور جامع پالیسی تیار نہیں کی جاسکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سِول انتظامیہ سے کام لیا جائے۔ انٹرنیشنل کمیونیٹی ابھی تک تذبذب کا شکار ہے اور جو امداد متوقع تھی اس کا صرف بارہ فیصد ہی حاصل ہوپایا ہے۔ اسحاق ملک، ملتان: بدقسمتی سے زلزلے میں زیادہ تر عام اور غریب لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ گار کہیں غلطی سے اکا دکا امیر ملوگ متاثر ہوئے بھی ہیں تو ان کے اندرون ملک اور بیرون ملک دس دس محلات ہیں۔ وہ وہاں رہ لیں گے۔ اس لئے حکومت کو کبھی متاثرین کی پرواہ ہوگی ہی نہیں کیوں کہ غریبوں کا درد صرف غریب لوگ ہی جان سکتے ہیں۔ ذیشان ملک ثانی، چینیکوٹ: اس نفسہ نفسی کے دور میں کون کسی کا ساتھ دیتا ہے۔ اپنے سگے بھی نہیں۔ یہ تو ہماری نکمی حکومت ہے جس کو مانگے کے علاوہ کوئی کام نہیں اور مجھے پتہ ہے یہ میرے الفاظ بی بی سی اردو والے کبھی بھی نہیں شو کریں گے۔ سید قمر عباس، بھکر: تعمیر نو میں تاخیر کی بنیادی وجہ غیرملکی امداد کی بندر بانٹ پر سمجھوتہ ابھی تک نہ ہو پانا ہے۔ کیوں کہ ہماری سیاست کے شاید حلف میں شامل ہے کہ کوئی بھی کام بغیر کمیشن کے نہیں کرنا۔ جس روز کمیشن کا ریٹ طے ہوجائے گا یہ کام باہر کی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے چل پڑے گا۔ لیکن اس گھڑی کے آنے تک وقت بہت آگے نکل چکا ہوگا۔ مینا سحر، نونہ، پنجاب: ہم جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ پاکستان کی مدد کررہا ہے۔ بہت شکریہ۔ نغمانہ ریاضی، اسلام آباد: پاکستانی حکمرانوں اور فوج پاکستانی عوام کی نفسیاست جان گئے ہیں اور وہ یہ کہ عوام کے اندر پھوٹنے والے لاوا کو ہیلے، بہانوں اور دھونس سے وقتی طور پر دبا دیتے ہیں۔۔۔۔ (واضح نہیں۔ قاسم الدین چودھری، اسلام آباد: بحالی تو بہت دور کی بات ہے ابھی تک تو مظفرآباد کے پندرہ کلومیٹر ریڈیئس مںی پہلی امداد بھی نہیں پہہنچ سکی۔ اس کے لئے امدادی اداروں کو چاہئے کہ وہ مختلف علاقوں کو تقسیم کرلیں تاکہ امداد ہر جگہ پر پہنچ سکے، پھر وہاں کے مقامی افراد کو شامل کریں۔ ویسے دیہاتوں میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کی ہے۔ عارف قریشی، ٹانڈو محمد خان: میرے خیال میں یہ سب ناممکن سا لگتا ہے کیوں کہ نیو تعمیر تو الگ بات رہی ان بےکسوں کی امداد ہی ہوجائے تو بڑی بات ہے۔ مشکل ہے بہت مشکل ہے۔ مسعود عالم، جبیل: موجودہ حالات میں یہی مشورہ ہے کہ ان حادثات کو ہر حال میں دور کیا جائے کہ امدادی رقوم اور سامان کی تقسیم مکمل شفاف ہو۔ رہا معاملہ تعمیر نو کا تو تمام خیمہ بستیوں میں رہنے والوں کو موسم بہتر ہونے تک دیکھ بھال جاری رکھی جائے۔ اور جوں ہی موسم اجازت دے ان کو واپس اے کے میں مالی امداد کے ساتھ ان کی جگہوں پر منتقل کیا جائے تاکہ وہ مزید بوجھ بننے کی بجائے اپنی زندگی کو دوبارہ شروع کرسکیں۔ شمیم اختر، پاکستان متاثرین کے ’مسائل‘ ہماری فوج کے ’وسائل‘ بڑھا رہے ہیں جیسا کہ ’جہادِ افغانستان‘ نے اسی اور ’کشمیری جدوجہد‘ نے نوے کی دہائی میں کیا تھا۔ اس وقت بھی متاثرہ علاقوں میں سب سے عمدہ خیمے اور خوراک وغیرہ فوجیوں ہی کے پاس ہیں۔  | غیر جانبداری مشکوک  فوج پر بہت زیادہ تنقید کرکے بی بی سی نے اپنی غیر جانداری مشکوک بنا دی ہے۔  کریم خان، کینیڈا |
کریم خان، کینیڈا ایوب خان کے زانے میں بننے والے تربیلہ ڈیم کے متاثرین آج تک بے انصافی کا رونا رو رہے ہیں تو زلزلے کے متاثرین کا آپ خود اندازہ لگا لیں۔ اس ملک میں لوگ بہت جلد بھول جاتے ہیں اور حکومت تو اس کا بہانہ ڈھونڈتی ہے۔ بہرحال دنیا نے زلزلہ زدگان کی مدد نہ کرکے کم ظرفی کا ثبوت دیا ہے۔ بی بی سی کی کوشش اچھی ہے لیکن فوج پر بہت زیادہ تنقید کرکے بی بی سی نے اپنی غیر جانداری مشکوک بنا دی ہے۔ نصرت خان، لندن میں خود صوبہِ سرحد میں بالا کوٹ کی رہنے والی ہوں۔ زلزلے کے بعد میں نے جو کچھ دیکھا اس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ متاثرین بس خالق اور مخلوق کے آسرے پر زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔ بیرونی ممالک سے کافی امداد پہنچ چکی ہے، حکومت اگر کچھ کرنا چاہے تو ایک ماہ میں شہر دوبارہ کھڑا کرسکتی ہے لیکن اس نے پچیس ہزار کا اعلان کرکے متاثرین کے منہ پر قدرت سے بھی بڑا طمانچہ مارا ہے۔ ہماری حکومت دس سال میں بھی تعمیرِ نو کا کام شروع نہیں کرے گی۔ افتخار احمد کشمیری، برطانیہ تعمیرِ نو سے پہلے ہونے والی تباہی کے اثرات سے نکلنا ہوگا۔ لوگ مر رہے ہیں، امداد مستحق لوگوں تک نہیں پہنچ رہی، خوراک اور ادویات کا مسئلہ ہے، پہلے ان آفات سے نمٹ لیں پھر تعمیرِ نو کی سوچی جائے گی۔ عینی سیدہ، کراچی عوام اور حکومت بشمول فوج پچھلے پانچ سالوں سے بداعتمادی کی فضاء میں رہ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب تو اتنی بڑی آفت کے دوران بھی یہ فضاء قائم ہے۔ ضرورت تمام سول سوسائٹی کو حکومتی سطح پر ساتھ ملانے کی ہے۔ عمران خان جیسے منتظم، ایدھی صاحب جیسے سوشل ورکر، عاصمہ جہانگیر جیسی کھری عورت اور عدنان جیسے انسان دوستوں کو زلملہ زدگان کی مدد پر مامور کیا جائے۔ یہ ڈنڈے کا نہیں عقل استعمال کرنے کا وقت ہے۔ محمد ادریس نذیر، ہانگ کانگ یہ کہنے سے پہلے کہ کون اچھا، کون برا کررہا ہے، اللہ سے دعا کرنی چاہئے کہ سب کی مشکل آسان کرے۔ اپنے طور پر جتنی مدد ہوسکے کریں۔ محمد علی، برطانیہ آخر بی بی سی کو میرے الفاظ کے لیے جگہ کیوں نہیں ملتی؟ خیر، مجھے نہیں لگتا کہ حکومت آگے موسم کے مسائل کو حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ اب تک تو یکومت صرف لوگوں کو بے وقوف بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ اسے اپنی کمزوریوں کو اعتراف کرنا ہوگا تاکہ صورتِ حال کو ہر قیمت پر بہتر بنایا جاسکے۔ ہمیں بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے چاہئیں تاکہ اس ناکارہ فوج کی تعداد کم کی جاسکے کیونکہ اب تک اس نے ہمیں فائدے سے زیادہ نقصان ہی پہنچایا ہے۔  | انشاء اللہ  کہانیاں سنتے رہے ہیں اور کہانیاں سنتے رہیں گے انشاء اللہ۔ متاثرین کو خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔ لوگوں کو چاہئے آگے بڑھیں۔  اے رضا، ابوظہبی |
اے رضا، ابوظہبی سرکاری سطح پر بدقسمتی سے کسی بھی قومی معاملے میں ہماری کارکردگی کبھی اچھی نہیں رہی۔ کہانیاں سنتے رہے ہیں اور کہانیاں سنتے رہیں گے انشاء اللہ۔ متاثرین کو خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔ لوگوں کو چاہئے آگے بڑھیں۔ کارباری اداروں اور صاحبِ حیثیت حضرات کو چاہئے کہ مصیبت زدگان کو آباد کرنے میں مدد دیں۔ عقیل اصغر بدایونی، نیویارک افغان جنگ کے زمانے میں بے گھر ہونے والے چالیس لاکھ افغانوں کو کس حکومت نے بٹھا کر کھلایا تھا، کِسی نے نہیں۔ سب نے اپنی مدد آپ کے تحت زندگی کا آغاز کیا۔ محنت مزدوری کی اور آنے والی نسل کو پالا پوسہ۔ محنت اور لگن کا جذبہ ہو انسان ہر مشکل سے نکل سکتا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ متاثرین کے دُکھ درد دور فرمائے، آمین۔ پروین شاکرہ، ٹورانٹو حکومت کو چاہیے کہ عوامی سطح پر لوگوں کو جمع کر کے ان سے تجاویز لی جائیں کیونکہ تنقید کرنا تو بہت آسان ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگ اِن وسائل میں رہ کر کسی ٹھوس تجویز کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ طارق محمود خان، کینیڈا میری رائے میں حکومت زلزلے کے متاثرین کے لیے کچھ نہیں کرے گی۔ زندگی کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے متاثرین کو خود ہی کچھ کرنا پڑے گا۔ سید شفیق شاہ، اٹک حکومتی بیانات اور زمینی حقائق میں بہت فرق ہے۔ اب تو بارش شروع ہو چکی ہے، اولے پڑنے لگے ہیں اور برف باری کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ اب تو ہر آنے والا دِن متاثرین کے لیے مشکل سے مشکل ہوتا جائے گا۔ اللہ رحم کرے۔ سہیل رانا، ٹورانٹو مجھے یاد ہے کہ اپنے گھر میں دو کمروں کا اضافہ کرنے میں مجھے دو مہینے سے زیادہ لگ گئے تھے۔ پیسہ بھی تھا اور مزدور مستری بھی تھے۔ اب جہاں اس قدر وسیع پیمانے پر تباہی آئی ہے تو کچھ وقت تو لگے گا زندگی کو واپس ڈھنگ پر لانے میں۔ حکومت کیا کرے، حکومت بھی انسانوں پر مشتمل ہے کوئی ماورہ مخلوق تو نہیں ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ میاں آصف محمود، لاہور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اِس قسم کے قومی سانحے کا مقابلہ پوری قوم کو مل کر کرنا ہوتا ہے۔ ایسی متنازعہ باتوں سے بچنا ہو گا جن سے عوام بالخصوص زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے مدد کے منتظر لوگوں میں مایوسی یا حکومت کے خِلاف جذبات پرورش پائیں۔ اِس سلسلے میں مظفرآباد میں کی جانے والی کارروائی فوری طور پر بند کرنی ہو گی تاکہ جِن لوگوں کو حکومت نیچے بلا رہی ہے وہ بلا خوف نیچے آ جائیں۔ جتنی جلدی ممکن ہو عوام کی فیورٹ قیادت کو ساتھ ملا کر عوام کو مطمئن کرنا ہوگا۔ ہماری حکومتیں جو ماضی میں کرتی آ رہی ہیں، اب تک زلزلے کے بعد اُس کو دیکھتے ہوئے تو تمام باتیں مشکل سے ہی ہوتی نظر آ تی ہیں۔ خدا اِن کو عقل کے ناخن دے۔ کافی مشکل کام ہے خدا خیر کرے۔ شریف خان، فرینکفرٹ، جرمنی میرے خیال میں جو نقصان اس زلزلے میں ہوا ہے وہ بہت بڑا نقصان ہے۔ اس زلزلے میں جن عمارتیں تباہ ہوئی ہیں، ان کو بنانے میں بہت وقت لگے گا۔ سردی تو شروع ہو گئی ہے اور یہی وقت ہے کہ لوگوں تک جلد از جلد امداد پہنچائی جائے نہیں تو بہت سارے لوگ سردی سے، بیماری سے مر جائیں گے۔ عبدالغفور، ٹورانٹو، کینیڈا میرے خیال میں تو تعمیرِ نو کروڑوں کا نہیں اربوں کا منصوبہ ہے اور اگر حکومت کے پاس مطلوبہ رقم موجود نہیں ہوگی تو تعمیرنو کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔ ویسے بھی سردی کی آمد آمد ہے اور اِس قدر سرد موسم میں تعمیری سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل ہو گا۔ عقل مندی کا تقاضہ یہ ہے اوپر پہاڑوں پر موجود لوگوں کو اِس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ سردیوں کے موسم میں میدانی علاقوں میں قائم خیمہ بستیوں میں آ کر رہیں جہاں ناصرف وہ سردی سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ بیماریوں کی روک تھام کے لیے موبائل ہسپتالوں سے بھی استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ امداد علی شاہ، بکیرہ شریف وزیروں اور افسروں کے گھروں کی تو تعمیرِنو ہو ہی جائے گی لیکن عوام گھروں کے تعمیر ’نو‘ (یعنی نہیں)۔  | برفباری کی دستک  سب حکومتی دعوے ڈھونگ ہیں، ابھی تک تو ملبہ بمعہ لاشوں کے ویسے کا ویسے پڑا ہوا ہے۔ وہ کہیں ٹھکانے لگے گا تو تعمیرِنو شروع ہو گی۔  امین اللہ شاہ، پاکستان |
امین اللہ شاہ، پاکستان سب حکومتی دعوے ڈھونگ ہیں، ابھی تک تو ملبہ بمعہ لاشوں کے ویسے کا ویسے پڑا ہوا ہے۔ وہ کہیں ٹھکانے لگے گا تو تعمیرِنو شروع ہو گی۔ لیکن اب برفباری بھی دستک دے رہی ہے۔ اس لیے یہ کام مارچ 2006 سے پہلے ہونا ممکن نہیں اور اس سُستی کی ذمہ دار حکومت کی ناقص پالیسی ہے جو ابھی تک اس سانحے سے نپٹنے کی کوئی واضح منصوبہ بندی سامنے نہیں لا سکی۔عباس حیدر، بھکر حکومت کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ پہلے قرض اتارو ملک سنوارو رقم کا آج تک کوئی پتا نہیں چلا۔ شہریار خان، سنگاپور زلزلے کے بعد ساری دنیا سے جو امداد رقم اور اشیاء کی شکل میں مِل رہی ہے میرے خیال میں وہ بچ جانے والے لوگوں کے سامنے ایک نئی زندگی شروع کرنے کے لیے نہایت موزوں ہو گی۔ متاثرین کو اپنے بنیادی ضروریات کے لیے ایک گھر، کچھ کپڑے اور روزانہ کی خوراک اور طبی اشیاء کی ضرورت ہو گی۔ زلزلے والے علاقے کے لوگوں کا طرزِ زندگی ویسے بھی بالکل سادہ سا ہوتا ہے۔ فی الحال انہیں کِسی آسائش کی کوئی طلب نہیں ہے۔ مزید امداد کا واویلا صرف عیش و عشرت کے متاثرین زیادہ کر رہے ہیں۔ عام آدمی کو پھر بھی اپنے ہی بل بوتے پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ غریبوں کا اصل مدد کرنے والا تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ متاثرین کو مزید وقت ضائع کرنے کی بجائے آچے، کترینا اور افغانستان کے مصیبت زدہ لوگوں کو ملنے والی عالمی امداد سے سبق سیکھنا چاہیے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال دیکھیں جی ناامیدی کفر ہے، مگر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ حکومت نے اپنے معدود وسائل کے اندر رہ کر بے پناہ کام کیا ہے۔ مگر اب ایک بار پھر موسم اور قدرت کا نظام ہے یعنی برف باری اور سخت سردی۔ این جی اوز اور عالمی ادارے بہت کام کر رہے ہیں۔ جہاں تک بیماریوں اور صحت کا مسئلہ ہے تو اِس حوالے سے بھی بہت کام کیا جا رہا ہے۔ اِسی طرح تعلیم کے میدان میں ابھی بہت کام کی ضرورت ہے۔ تعمیرنو کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ |