BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 November, 2005, 22:23 GMT 03:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورۂ پاکستان
پاکستانی شائقین انگلینڈ کرکٹ ٹیم کو خوش آمدید کہتے ہوئے
پاکستانی شائقین انگلینڈ کرکٹ ٹیم کو خوش آمدید کہتے ہوئے

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورہ پر ہے۔ انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان پہلا کرکٹ ٹیسٹ ملتان میں بارہ نومبر کو شروع ہوا۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان یہ کرکٹ سیریز ایسے وقت ہورہی ہے جب پاکستان حالیہ زلزلے کے سانحے سے گزرہا ہے۔ کیا آپ کرکٹ سیریز دیکھ رہے ہیں؟

کیا ایسے وقت میں یہ کرکٹ سیریز منعقد کرنی چاہئے تھی؟ کیا کرکٹ سے لوگوں کی توجہ زلزلے کے متاثرین کی جانب سے ہٹ سکتی ہے؟ آپ کرکٹ سیریز کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

آپ کی رائے

آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200


فریحہ شمیم، پیرس:
جو لوگ اس کرکٹ سیریز پر اتنا شور مچا رہے ہیں، کیا انہوں نے متاثرین کے غم میں کھانا پینا چھوڑ رکھا ہے؟ یقیناً نہیں۔ بس موقع مل جائے کسی طرح یہ ثابت کرنے کا کہ سارے جہاں کا درد میرے جگر میں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ کرکٹ، متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی نہیں، بلکہ ایک مرہم ثابت ہوگی۔

جنید باری، سپین:
میں نے اس صفحے کے تمام پیغام پڑھے ہیں اور بس یہی کہوں گا کہ انسان جب تک اندر سے خوش نہ ہو تو چاہے وہ ظاہری طور پر کتنی پھر تفریح کرے، وہ اپنے آپ کو دکھ دینے کے مترادف ہوگا۔ لیکن یہ دنیا شروع سے اسی طرح چل رہی ہے اور یوں ہی چلے گی۔

مصطفی قریشی، امریکہ:
زلزلہ ایک قدرتی آفت ہے اور کچھ پتہ نہیں کب زلزلے سے کہاں کتنی تباہی آئے۔ کیا ہر زلزلے کے بعد کام رک جاتا ہے؟ نہیں، بلکہ اور محنت، ہمت اور جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی بات کو ہر دفعہ حکومت پر تنقید کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ مثبت خیالات ہی حالات کا رخ آسانی سے بدل سکتے ہیں۔

یار بہادر، مغربی سہارا:
انجم ملک صاحب کرکٹ اور مجرے میں بہت فرق ہوتا ہے۔۔۔

محمد ارشد، کراچی، پاکستان:
یہ ماصب موقع نہیں ہے کرکٹ سیریز منعقد کرنے کا۔ بلکہ اس وقت تو زلزلہ متاثرین کی مدد کی جانی چاہیے۔

ندیم رحمٰن، مظفرگڑھ، پاکستان
ملتان ٹیسٹ کی 70 فیصد ٹکٹیں تو مفت دے دی گئی ہیں۔ لوگ بھی جوش و خروش سے میچ نہیں دیکھ رہے، تو آمدنی کیا خاک ہوگی۔ اگر زلزلہ متاثرین کے لیے سیریز کرانی تھی تو ان ممالک میں کرواتے جو دولت مند ہیں اور مہنگی ٹکٹیں خرید سکتے ہیں۔

الیاس خان، پاکستان
اگر اس سیریز کی تمام آمدن متاثرین کے لیے دے دی جائی تو ٹھیک ہے، ورنہ یہ مناسب وقت نہیں ہے۔

عنی سعیدہ، کراچی، پاکستان
سانحہ کوئی کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو، جس ملک میں آمریت ہو وہاں عوام کو کھیل تماشے میں لگا کر ان کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دی جاتی ہے۔ پاکستان کا ہر فوجی آمر اس کوشش میں رہتا ہے کہ میرا اقتدار طویل سے طویل ہو۔ اس کے لیے وہ ہر رستہ نکال لیتا ہے، چاہے کرکٹ ہو یا ناچ گانا۔

انجم ملک، جرمنی
ہم یورپ میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں بیٹھ کر جتنے بھی وطن کی عظمت کے ترانے گاتے رہیں اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات ہے۔ حالانکہ ہم دوغلے اور دنیا کے لیے ناقابلِ اعتبار لوگ ہیں۔ کاش انگریز سو سال اور ہمارے اوپر حکومت کرتے تو کم از کم دیسی انگریزوں کی لاقانونیت سے تو بچتے۔

جمال اختر، فیصل آباد، پاکستان
جب انسان دکھی ہو تو کچھ بھی اچھا نہیں لگتا، یہ تو پھر میچ ہے جس سے وقت کے ضیاع کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت زلزلے سے لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے تاکہ ان پر تنقید کرنے کا لوگوں کو وقت نہ ملے۔ کرکٹ دکھوں کا مداوا نہیں ہے۔

حلیم عباسی، ایبٹ آباد، پاکستان
سیریز کئی ماہ پہلے سے طے تھی، بدقسمتی سے ایک ماہ پہلے زلزلہ آ گیا۔ انگلینڈ بھی امدادی کاروائیوں میں مصروف ہے۔ ہم ان کے کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

اعجاز احمد، سعودی عرب
حکومت کی بے شرمی کی حد ہو گئی ہے۔ اگر اسلام آباد لاہور یا کراچی میں ایسی تباہی ہوتی تو کیا پھر بھی یہ کرکٹ کھیلتے؟ روتے ہیں کشمیر کو۔

نصیر عباسی، اسلام آباد، پاکستان
مجھے ٹیسٹ میچوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے البتہ ایک روزہ کبھی کبھی دیکھ لیتا ہوں۔ بےشک ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں لیکن ہمیں معتدل رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ لوگوں کو زلزلے کے اثرات سے نکالنے کے لیے تفریح مہیا کرنا بری بات نہیں ہے۔

محمد طاہر، سعودی عرب
پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ متاثرین کو ادویات، کمبل اور خیموں کے علاوہ ٹی وی بھی دے تاکہ وہ اپنے زخموں کو بھول سکیں۔ کیا مذاق ہے کہ میچ ان کے زخموں پر مرحم رکھے گا۔ کسی کا ہاتھ اور کسی کی ٹانگ نہیں ہے اور کسی کی کمر ٹوٹی ہوئی ہے، ذہنی مریض اس کے علاوہ ہیں۔ ان کو یہ مشورہ مردہ ضمیر لوگ ہی دے سکتے ہیں۔

عطیہ عارف، کینیڈا
بہت افسوس کی بات ہے جب گھر کا ایک فرد بھی فوت ہو جاتا ہے تو ہم لوگ ایک سال تک عید نہیں مناتے، کوئی خوشی نہیں کرتے، اور یہ تو ہزاروں لوگوں کی اموات ہیں۔ یہ گھروں میں بیٹھنے کا وقت نہیں ہے بلکہ متاثرین کے پاس جا کر انکی مدد کرنے کا وقت ہے۔

عزیز، یو کے
بحیثیتِ مسلمان، ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ رمضان کے مہینے میں جو اس آفت کا شکار ہو گئے، وہ شہید ہیں۔ شہید کی موت پر ماتم کیا جانا چاہیے یا نہیں، یہ سب کو بخوبی معلوم ہے۔ جہاں تک میچ کا تعلق ہے، جس طرح انگلینڈ نے ہماری امداد کی اور انکی ٹیم نے ہمارے ہسپتالوں میں جا کر زخمیوں کی عیادت کی، اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ ہمارا دکھ درد ہی بانٹنے آئے ہیں۔

انگلینڈ کی غلام؟
 بی بی سی کا بلی باؤڈن کی امپائرنگ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ دو پاکستانی غلط آؤٹ دیے اور پھر ٹریسکوتھک کو 48 ہر ناٹ آؤٹ دے دیا جو صاف آؤٹ تھا۔ کبھی بی بی سی بھی اس کا ذکر کرے گی؟
محمد، امریکہ

محمد، امریکہ
بی بی سی کا بلی باؤڈن کی امپائرنگ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ دو پاکستانی غلط آؤٹ دیے اور پھر ٹریسکوتھک کو 48 ہر ناٹ آؤٹ دے دیا جو صاف آؤٹ تھا۔ کبھی بی بی سی بھی اس کا ذکر کرے گی؟ پر کیوں بی بی سی تو خود انگلینڈ اور بھارت کی غلام ہے۔ بی بی سی صرف پاکستان پر ہی تنقید کر سکتی ہے۔

شیریار خان، سنگاپور
پاکستان سمیت ساری دنیا کے حالات تباہ کن ہیں لیکن زندگی کو جاری و ساری رکھنا پڑے گا۔ یہ دنیا بھی ایک طرح کا کرکٹ کا کھیل ہے، کہیں وکٹ گری ہے تو کہیں چوکے اور چھکے لگ رہے ہیں۔ زلزلہ کی تباہیوں کو کم کرنے کے لیے بھی کرکٹ کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کرکٹ پر تنقید کرنے والوں کو اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنا چاہیے کہ وہ زبانی جمع خرچ کے علاوہ کیا کر رہے ہیں۔

تبلیغی جماعت کہاں ہے؟
تبلیغی جماعت کا حلقہِ اثر بہت وسیع ہے، اس کے ایک اشارے پر اربوں روپے جمع ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس موقع پر وہ لوگ بالکل خاموش میں، پتا نہیں کیا حکمت ہے؟ ان کے مشہور ستارے سعید انور اور جنید جمشید بھی غائب ہیں۔ جبکہ فلمی ستارے جنہیں مذہبی جماعتوں والے مسلمان ہی نہیں مانتے، اس کام میں پیش پیش رہے۔ کیا زلزلہ زدگان کی امداد کرنا اسلام میں منع ہے؟
علی عمران شاہین، لاہور،

علی عمران شاہین، لاہور، پاکستان

پاکستان کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جسے زلزلہ متاثر نہ کر سکا اور نہ وہ مدد کو آئے۔ تبلیغی جماعت کا حلقہِ اثر بہت وسیع ہے، اس کے ایک اشارے پر اربوں روپے جمع ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس موقع پر وہ لوگ بالکل خاموش میں، پتا نہیں کیا حکمت ہے؟ ان کے مشہور ستارے سعید انور اور جنید جمشید بھی غائب ہیں۔ جبکہ فلمی ستارے جنہیں مذہبی جماعتوں والے مسلمان ہی نہیں مانتے، اس کام میں پیش پیش رہے۔ کیا زلزلہ زدگان کی امداد کرنا اسلام میں منع ہے؟

بے روزگار بابا، جرمنی
کتنے عجیب لوگ ہیں گھر میں ماتم رکھا ہے اور یہ کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ اللہ سے ڈرواور ان لوگوں کی مدد کرو، کرکٹ سے کچھ نہیں بنتا۔

نجف علی شاہ، بھکر، پاکستان
ہمیں تو بابا کرکٹ سے دلچسپی ہی نہیں ہے۔

انجم ملک، جرمنی
یہ تو ایسے ہی ہے کہ باپ کی میت گھر میں پڑی ہو اور نالائق بیٹا مجرا دیکھ رہا ہو۔ اس وقت قوم کو اکٹھے ہو کر ہم وطنوں کی مدد کرنی چاہیے۔ صدر اور وزیرِ اعظم اس بات کا رونا رو رہے ہیں کہ عالمی برادری امداد نہیں دے رہی۔ خود قوم کو بھی کھیل تماشوں میں بھٹکا دیا ہے۔

شریف خان، جرمنی
ہر ایک کام شوق سے ہوتا ہے، کرکٹ بھی آدمی شوق سے دیکھتا ہے، لیکن یہ وقت شوق کا نہیں بلکہ غریب بے گھر لوگوں سے ہمدردی کا ہے۔ کرکٹ دیکھنے سے کوئی اپنے مرنے والوں کو نہیں بھول سکتا۔ ساری دنیا کی نظر ان متاثرین کی طرف ہے اور حکومت ان کی نظر کرکٹ کی طرف موڑ رہی ہے۔ ان لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں جو سردی میں بھوکے پیاسے گھروں سے باہر رہتے ہیں۔

نصیر احمد، اٹلی
میچ ہونے چاہئیں کیونکہ لوگوں کو ایک تفریح میسر آئے گی اور کچھ دیر کے لیے ان کے درد کی شدت کم ہو گی، بھولنا تو ناممکن ہے۔

کریم خان، کینیڈا
پشتو میں ضرب المثل ہے کہ ’ زمین وہی گرم ہوتی ہے جہاں پر آگ جلتی ہے، پرائے غم تو برف سے بھی زیادہ ٹھنڈے ہوتے ہیں‘۔

علی عمران، لاہور، پاکستان
روم جلتے وقت نیرو بانسری بجا رہا تھا، پاکستان وہی تاریخ دہرا رہا ہے۔ اس پر افسوس کے علاوہ کہا بھی کیا جا سکتا ہے؟

عذرا یاسمین، لاہور، پاکستان
میرے نزدیک یہ ایک مذموم اور بھونڈی حرکت ہے، جو اسلام کی روح کے بھی شایانِ شان نہیں۔ ایک طرف لوگ مر رہے ہیں دوسری طرف ناچ ہو رہے ہیں۔ البتہ روشن خیالوں کے لیے شائد کوئی مضائقہ نہ ہو کیونکہ ان کا تو نظریہ یہی ہے کہ ’اماں مرے تو حلوہ، ابا مرے تو حلوہ‘۔

آصف ججہ، کینیڈا
یہ قدرتی سانحہ ہے، ہم اسے کیوں اپنے ذہنوں میں زندہ رکھیں؟ ہمیں اس کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ اگر کھیل ہو رہے ہیں تو یہ لوگوں کا ذہن تازہ دم رکھیں گے۔ اس لیے میچ میں کوئی برائی نہیں ہے۔

صائمہ شاہ، اوسلو
بی بی سی اس صفحے پر لوگوں کے دقیانوسی خیالات کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اس سے مجھے بہت حیرت ہوئی ہے۔

دلاور سلیمی، لندن
میں تو صرف یہی کہوں گا کہ کچھ لوگ صرف تنقید کرنا جانتے ہیں، آج یہ کرکٹرز کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، اگر یہی کرکٹرز نہ کھیل رہے ہوتے تو بھی انکو برا بھلا کہہ رہے ہوتے کہ مشکل وقت میں انہوں نے کھیل کر قوم کا دل نہیں بہلایا۔

سلیمہ آفریدی، ٹورنٹو، کینیڈا
کیا کرکٹرز نے متاثرین کے لیے کچھ نہیں کیا جو لوگ ان کے کرکٹ کھیلنے پر توبہ استغفار کا درس دے رہے ہیں؟ ایک ڈاکٹر اپنے پیشے کے لحاظ سے متاثرین کا علاج کر رہا ہے تو کرکٹرز اپنے پیشے کے حساب سے کھیل کر ان کو تفریح فراہم کر رہے ہیں۔

میرا جاہ، نیویارک، امریکہ
فرصت اور تفریح کے کچھ لمحے مسلسل ڈیوٹی دینے والے امدادی کارکنوں، ڈاکٹروں اور دوسرے ہزاروں لوگوں کے لیے ضروری ہیں، ورنہ ایک وقت آئے گا کہ وہ تھک جائیں گے۔ کوئی بھی دردمند انسان کرکٹ کو امداد پر ترجیح نہیں دے سکتا، مگر فارغ وقت میں کوئی کرکٹ دیکھ لیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

سلمٰی حسین، پاکستان
بڑے افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ ہماری قوم کے مذاج ہی نرالے ہیں، اسے اپنا پینترا بدلتے ذرا دیر نہیں لگتی۔ یہ درست ہے کہ ابھی غم کچھ کم بھی نہیں ہوا اور یہ کھیل تماشے میں لگ گئے۔ نا معلوم یہ دنیا کو کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں۔ اللہ ہی اس قوم کو صحیح رستہ دکھائے آمین۔

فیضان الحق، پاکستان
زلزلے سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کا اندازہ اور افسوس سب کو ہے لیکن ہماری عالمی کمٹمنٹس بھی اپنی جگہ ہیں جنہیں ہم لوگوں کو نبھانا ہے۔ کرکٹ سیریز بھی ایسی ہی ایک کمٹمنٹ ہے جسے پورا کیا جا رہا ہےاور ویسے بھی اس سے امدادی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، بلکہ اس سیریز کی کچھ آمدن پی سی بی پہلے ہی زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے وقف کر چکی ہے جو اچھی بات ہے۔

شاہوار اکبر، لاہور:
مبارک کے مستحق ہیں گورے کہ جنہوں نے پاکستان آنے کی حامی بھری کہ وہ پاکستانیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے آئے ہیں۔

’دل میں کچھ ہے، زباں پہ کچھ ہے‘
 اسی ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی اور بےگھر ہوچکے ہیں۔ ان مظلوموں کے ساتھ دل سے نہ سہی اوپر اوپر سے ہی کم از کم اسی دنوں تک تو ہم ان کا ساتھ سے سکتے تھے۔
اسحاق ملک، ملتان

اسحاق ملک، ملتان:
اسی ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی اور بےگھر ہوچکے ہیں۔ ان مظلوموں کے ساتھ دل سے نہ سہی اوپر اوپر سے ہی کم از کم اسی دنوں تک تو ہم ان کا ساتھ سے سکتے تھے لیکن وہی ہے کہ ع ’دل میں کچھ ہے، زباں پہ کچھ ہے‘۔

شاہ مراد تالپور، حیدرآباد:
پاکستان اس وقت بہت ہی مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور اس وقت پر کرکٹ؟ ہاں اگر ان میچز سے جو رقم جمع ہوگی وہ زلزلہ زدگان کو دی جائے تو اس سے اچھی کوئی اور بات نہ ہوگی۔

سید ابو ریحان، کینیڈا:
اگر اس سیریز سے جمع ہونے والی رقم متاثرین کی امداد کے لیِ مختص کردی جائے تو یہ ضرور ہونا چاہئے۔ اس وقت ہمیں زیادہ سے زیادہ رقم کی ضرورت ہے۔

طاہر چوہدری، جاپان:
ہمارے سیاستدانوں اور فوجی حکمرانوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے جو اندھے کو ہیوی ڈرائیونگ لائسینس دے دیتا ہے، چوروں کو پولیس میں بھرتی کرتا ہے اور پاگلوں کو نوکرشاہی میں، تنقید کا رخ موڑنے کے لیے سیریز شروع کروادینا تو معمولی سی بات ہے۔ ایسے وقت اگر یہ سیریز ہونی ہی تھی تو اصولاً اس کی ساری آمدنی زلزلہ متاثرین کو جانی چاہئے تھی۔ اس سے نہ تو کرکٹ بورڈ غریب ہوجاتا اور نہ ہی کھلاڑی۔

سجل احمد، امریکہ:
اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں، اگر تو اس سیریز کی ساری آمدنی متاثرین کے لئے فنڈز میں جائے تو ٹھیک ہے۔ باقی بات اسے ہونے نہ ہونے کی تو یہ اگر نہ بھی ہوتی تو ہمارا معاشرہ اور اس میں رہنے والے لوگ بے حس ہوچکے ہیں۔ کسی چیز سے تھوڑی دیر کے لیے ڈر جاتے ہیں، مگر سبق حاصل نہیں کرتے۔ شروع میں جوش دکھاتے ہیں مگر آخر میں ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ اس لئے اس کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
جی بالکل میں نے ایشز بھی دلچسپی سے دیکھی اور پھر یہ تو میرے وطن کی بات ہے۔ انگلینڈ کے کھلاڑی جس طرح میرے ملک کے لوگوں کے اداس چہروں پر مسکراہٹیں لارہے ہیں، اس سے یقیناً اداسی میں کمی ہوگی۔ اب تو پی ٹی وی بھی تھوڑا تھوڑا کھل رہا ہے، امید ہے یہ سیریز اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگی۔ کھیل بھی ہوگا اور غم بھی بانٹے جائیں گے۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
یہی دوغلاپن، پاکستانی قوم کا المیہ ہے جس کی وجہ سے ہم پوری دنیا میں بدنام ہیں۔ ابھی تو لاشیں بھی پوری طرح ملبے سے نکالی نہیں جاسکیں اور زخمی علاج کے بروقت نہ ہونے کی وجہ سے چیخ وپکار کررہے ہیں۔ کل یہی نوجوان متاثرین کے لیِے جانیں نچھاور کر رہے تھے اور آج وہی کھیل اور رقص میں مشغول ہیں۔ اگر ایک ماہ سیریز میں تاخیر کر دی جاتی تو کوئی قیامت نہ آجاتی۔

میاں آصف محمود، لاہور:
اگر قوم میں محبت ہوتی تو معاملہ وہ ہوتا کہ ’زخم تجھ کو لگے اور چوٹ آئے مجھے‘ لیکن یہاں تو وہ ہورہا ہے جو روم کے جلنے پر ہوا تھا۔ کم از کم اس کا نام ہی ’ارتھ کوئیک بینیفٹ سیریز‘ رکھ دیا جاتا۔ میں اداسی کی وجہ سے میچ نہیں دیکھ رہا۔ ویسے بھی ہم نے کشمیر میں آنسو گیس، لاٹھ چارج اور دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ تو شروع کرہی دیا ہے جیسے مشرقی پاکستان میں کبھی کیا تھا۔ حکومت کا پروگرام خاص ہی لگتا ہے۔

شاہدہ اکرام، یو اے ای:
ہم ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سانحے سے گزر رہے ہیں، ایسے وقت پر کرکٹ سیریز کا انعقاد ایک مذاق معلوم ہوتا ہے۔ کرکٹ کا دیوانگی کی حد تک شوق ہونے کے باوجود کل جیو ٹیوی کی سٹرپ پر سکور دیکھ کر معلوم ہوا کہ سیریز شروع ہوچکی ہے اور حیرت انگیز طور دوبارہ دیکھنے کی اشتہا نہیں محسوس ہوئی۔ ہر دردمند دل رکھنے والا اس المئے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ کیا ہم سب کچھ بھول کر اپنی رنگینیوں میں دوبارہ کھوچکے ہیں؟ ظاہر ہے امدادی سرگرمیاں تو اس سے متاثر ہوں گی۔

عرفان صادق، اسلام گڑھ، آزاد کشمیر:
کرکٹ سیریز سے زلزلہ متاثرین کے لئے امدادی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ امداد جمع کرنے میں مدد ملے گی۔ جس طرح انگلینڈ کی ٹیم نے متاثرین کے لئے فنڈ دینے کا اعلان کیا اور ہسپتالوں کا دورہ بھی کیا، اس سے متاثرین کے دکھوں کا کچھ مداوا بھی ہوا ہے۔

قمر عباس سید، بھکر:
پاکستان کے حالات بس اب اس سے زیادہ کچھ نہیں، نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔

وسیع اللہ بھمبھرو، میر پورخاص:
یہ بھی حکومت کی ایک چال ہے کہ عوام کو کرکٹ دکھانے میں مصروف کردو تاکہ حکومت اپنے اصل کام یعنی امداد ہضم کرنے میں مصروف ہوجائے۔

قیامت اور کھیل
 اس سے بڑی زیادتی کیا ہوگی کہ ایک طرف تو قیامت کا منظر ہے اور دوسری جانب کھیل کا میدان ہے۔ خدا کے لیے اس تماشے کو بند کریں اور اللہ کی طرف سے اپنے گناہوں پر معافی مانگیں۔ آپ لوگوں کی توجہ مبذول کرنے کے لیے یہ کھیل تماشے لگاتے ہیں۔
راجہ یونس، دمام

راجہ یونس، دمام:
اس سے بڑی زیادتی کیا ہوگی کہ ایک طرف تو قیامت کا منظر ہے اور دوسری جانب کھیل کا میدان ہے۔ خدا کے لیے اس تماشے کو بند کریں اور اللہ کی طرف سے اپنے گناہوں پر معافی مانگیں۔ آپ لوگوں کی توجہ مبذول کرنے کے لیے یہ کھیل تماشے لگاتے ہیں۔ اس پر مشرف کو قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔

شاہ شفیق پرویز، اٹک:
کھیل زندگی کا حصہ ہے، پاکستان میں کرکٹ اس وقت کا سب سے پسندیدہ کھیل ہے لیکن ہر کام اپنے وقت پر اچھا لگتا ہے۔ اس سیریز میں بالکل مزا نہیں آرہا۔

نغمانہ نیازی، اسلام آباد:
آپ کو ایسی بہت سی آراء بھی ملیں گی جن کا مؤقف یہ ہوگا کہ کرکٹ سیریز ہونی چاہئے مگر وہ لوگ اپنے مظلوم بھائیوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے والے ہوں گے۔ کرکٹ سیریز سے زلزلہ زدگان کی امداد میں ملکی اور غیر ملکی یک سوئی ختم ہوجائے گی۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد