برفباری، مزید جھٹکے، راستے بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے زلزلے سے شدید متاثر ہونے والے ضلع الائی میں سنیچر کی رات سے جاری برفباری اور اتوار کی شام آنے والے زلزلے کے شدید جھٹکوں کے بعد امدادی کارروائیاں مزید تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔ بٹگرام سے صحافی احسان داور کے مطابق گزشتہ جوبیس گھنٹے کے دوران الائی کے بالائی علاقوں میں ڈیڑھ فٹ تک برف پڑ چکی ہے جس سے الائی آنے جانے والے تمام راستے اور سڑکیں عملی طور پر بند ہو چکے ہیں۔ جو بالائی علاقے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں ان میں گنگوال اور پاشتو کے بڑے دیہات بھی شامل ہیں۔ بٹگرام اور الائی میں صورت حال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب اتوار کی شام چھ بجے کے قریب زلزلے کے تین شدید جھٹکے آئے۔ اگرچہ یہ جھٹکے چند سیکنڈ سے زیادہ نہیں تھے لیکن یہ اس قدر شدید تھے کہ بٹگرام شہر میں دکاندار اپنی دکانیں کھلی چھوڑ کر بازار سے نکل گئے۔ زلزلے کے آفٹر شاک سے کسی جانی یا مالی نقصان کی ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ادھر الائی میں امدادی کارروائیوں کے نگران کرنل ذکیر عباسی نے بتایا ہے کہ الائی کے ایک بالائی گاؤں گنگوال میں سات سو افراد برف میں پھنسے ہوئے تھے جنہیں فوج کے جوان نکال کر الائی میں قائم خیمہ بستی میں منتقل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ کرنل ذکیر کے مطابق برف اور مسلسل جاری لینڈ سلائڈنگ سے کئی دیہاتوں کو جانے والے چھوٹے راستے بند ہو گئے ہیں اور ان دیہاتوں میں پیدل امداد پہنچانا بھی مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ علاقے میں کام کرنے والے سرکاری ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں بٹگرام شہر تک امداد پہنچا رہے ہیں لیکن اس امداد کی آگے ترسیل نہیں ہو پا رہی۔ الائی کے بالائی دیہاتوں میں زیادہ تر لوگوں کے پاس چند دنوں کی امدادی خوراک کے علاوہ موسم سرما کے لیے خوراک کا ذخیرہ ناکافی ہے۔ | اسی بارے میں الائی میں سردی، انخلاء متنازع27 October, 2005 | پاکستان الائی انخلاء آپریشن مؤخر کردیاگیا26 October, 2005 | پاکستان درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گرگیا27 November, 2005 | پاکستان ناران میں برفباری، نئی مصیبتیں25 November, 2005 | پاکستان ’خوراک ذخیرہ کرنا پہلی ترجیح‘25 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||