درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گرگیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں موسم سرما کی بارش اور ہلکی برفباری کی وجہ سے درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا گیا ہے اور امدادی آپریشن میں رکاوٹیں پیدا ہونی شروع ہو گئی ہیں۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق اس بار موسم سرما پچھلے برسوں کی نسبت زیادہ شدید ہو گا۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل قمر الزماں کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بارشیں اور سات ہزار فٹ سے اونچی پہاڑیوں پر برفباری ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے چھتیس گھنٹوں میں ان علاقوں میں مزید بارش اور برفباری کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسم سرما کی شدت فروری کے آخری ہفتے تک جاری رہے گی۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ بارشوں اور برفباری سے امدادی آپریشن میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور اگر یہ بارشیں شدید ہو گئیں تو ان علاقوں میں لینڈ سلائیلانگ بھی شروع ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی کارروائی میں کوئی بڑا تعطل نہیں آیا ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد، ضلع باغ اور ملحقہ علاقوں میں آج موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹر امدادی پروایزیں نہیں کر سکے۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کے ترجمان ڈیرن بوائزووٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت بھی پچھتر فی صد سے زائد زلزلے سے متاثرہ افراد ایسے خیموں میں رہ رہے ہیں جن میں سردی کی شدت برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی سڑک کے ذریعے ان علاقوں میں خواراک اور کمبل پہنچانے میں تیزی لائی گئی ہے تاکہ لوگ سردی اور برفباری میں خود کو گرم رکھ سکیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورتحال خاصی پیچیدہ ہے اور آئی او ایم نے ہیلی کاپٹروں کے بجائے زمینی راستوں سے ان افراد کو امدادی سامان پہنچانے کے لیے جیپوں کی ایک بڑی تعداد کو کرائے پر حاصل کیا ہے تاکہ سڑکیں بند ہو جانے یا بہہ جانے سے پہلے ان علاقوں میں امدادی سامان پہنچایا جا سکے۔ پاکستانی حکومت اور بین الاقوامی اور مقامی امدادی ادارے موسم سرما کے شروع ہونے کے بارے میں پہلے ہی اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض اداروں کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں متاثرین زلزلہ خصوصاً خواتین اور بچوں کی ہلاکت کا امکان ہے۔ پاکستانی حکومت اور امدادی اداروں نے گذشتہ چند ہفتوں سے ان علاقوں میں آپریشن ونٹر ریس کے تحت امدادی کارروائی تیز کر دی تھی جس کا مقصد ان علاقوں میں بسنے والے افراد کے لیے خوارک،پانی اور ادویات کے بڑے ذخائر ان علاقوں میں پہنچانا تھا جو ان علاقوں میں رہتے ہیں جہاں اب تک امداد نہیں پہنچی اور ان لوگوں کو عارضی چھتیں اور موسم کی شدت کو برداشت کرنے والے خیمے فراہم کرنا تھے۔ تاہم بیشتر لوگ ابھی تک ان خیموں میں زندگی بسر کر رہے ہیں جن میں سردی کی شدت کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں زلزلہ بطور پروڈکٹ20 November, 2005 | پاکستان متاثرہ علاقوں میں ماحول کو خطرہ20 November, 2005 | پاکستان شہروں پر متاثرین کے مسائل کا دباؤ23 November, 2005 | پاکستان ’آفات سے نمٹنے کا طریق کار بدلیں‘23 November, 2005 | پاکستان خیموں میں آگ، تین بچے زخمی23 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||