’خوراک ذخیرہ کرنا پہلی ترجیح‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں آئندہ ہفتے کے لیے امدادی کاموں کے بارے میں پانچ نکاتی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے جس میں راشن ذخیرہ کرنے کو اولیت دی گئی ہے۔ وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ دیگر ترجیحات میں پانچ ہزار اور اس سے زیادہ بلندی والے مقامات پر متاثرہ مکانوں کے ملبے سے کم از کم ایک کمرہ بنانا، متاثرین کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی گنجائش بڑھانا، معاوضوں کی ادائیگی کرنا اور سڑکوں کو کھلا رکھنا شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی ترجیحات کا اس وقت اعلان کیا ہے جب اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ امدادی افسر نے ایمرجنسی امداد کے کاموں سے توجہ ہٹا کر تعمیر نو اور بحالی کے معاملات پر مبذول نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ریلیف کمشنر نے بتایا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد سے پاکستانی فوج نے ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب امدادی پروازیں کی ہیں۔ ان پر آنے والے اخراجات کے بارے میں انہوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ فوج کے ترجمان شوکت سلطان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ چھوٹے ہیلی کاپٹر کی ایک گھنٹہ کی پرواز پر تقریباً پچاس ہزار روپے جبکہ بڑے ہیلی کاپٹر کی اس دورانیے کی اڑان پر تقریباً اسّی ہزار روپے مالیت تیل کا خرچہ ہوتا ہے۔ میجر جنرل فاروق احمد خان کے مطابق آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد 73,331 ہوچکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 128,288 ہے جس میں ان کے مطابق 69 ہزار سے زیادہ شدید زخمی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب بھی 218,759 افراد کو طبی امداد دی جا رہی ہے جبکہ 86,059 افراد کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کیا گیا اور ان میں سے انیس ہزار مریضوں کے بڑے آپریشن کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار ہزار دو سے زیادہ اب مریض داخل ہیں۔ ان کے مطابق 665 افراد کے اعضا کاٹے گئے اور 558 لوگ مفلوج ہیں۔
ریلیف کمشنر کے مطابق تاحال متاثرین میں سات ارب اناسی کروڑ باسٹھ لاکھ ستر ہزار روپے کے معاوضے ادا کیے جاچکے ہیں جس میں سے بتیس ہزار نو سو چہتر ہلاک شدگان کے ورثاء کو تین ارب انتیس کروڑ چوہتر لاکھ روپے اور پانچ ہزار سات سو پینتالیس زخمیوں کو تیرہ کروڑ اٹھاون لاکھ پینتالیس ہزار روپے معاوضہ ادا کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے مکانات کے ایک لاکھ چوہتر ہزار پانچ سو اکیس مالکان کو ایک کمرہ بنانے کے لیے چار کروڑ چھتیس کروڑ تیس لاکھ پچیس ہزار روپے دیے گئے ہیں۔ ریلیف کمشنر نے بتایا کہ کشمیر میں اڑتالیس تمبو بستیوں میں اکتیس ہزار پانچ سو ستر افراد مقیم ہیں اور وہاں بیس خیمہ سکول قائم ہیں جہاں گیارہ سو طلباء پڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق صوبہ سرحد میں اٹھارہ خیمہ بستیوں میں پانچ ہزار سات سو بارہ تمبوؤں میں آٹھ ہزار دو سو تینتالیس افراد مقیم ہیں۔ یہاں ہر بستی میں سکول بھی قائم ہے اور ان میں چار ہزار دو سو انہتر طلباء کو ایک سو چھبیس اساتذہ تعلیم دے رہے ہیں۔ میجر جنرل فاروق کے مطابق مجموعی طور پر کشمیر میں ستائیس سو بائیس تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں جس میں ایک لاکھ چوراسی ہزار پانچ سو چودہ طلباء کو گیارہ ہزار تین سو اساتذہ تعلیم دے رہے ہیں جبکہ صوبہ سرحد میں چھ ہزار پانچ سو اٹھارہ تعلیمی اداروں نے کام شروع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چالیس غیر سرکاری تنظیمیں پاک فوج کے ساتھ امدادی کام کر رہی ہیں جن میں سے اٹھارہ ملکی اور باقی غیر ملکی ہیں۔ ان کے مطابق آٹھ سو چھپن رضا کار امدادی کام میں مصروف ہیں۔ |
اسی بارے میں ریلیف فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ18 November, 2005 | پاکستان ’650 متاثرین کے اعضاء کاٹے گئے‘18 November, 2005 | پاکستان پہاڑوں پر رہ جانےوالوں کی فکر24 November, 2005 | پاکستان ’13 لاکھ افراد کو خوراک پہنچانا ہے‘25 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: سولہ ہزار تعلیمی ادارے متاثر14 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||