’13 لاکھ افراد کو خوراک پہنچانا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقوں میں امدادی کام کرنے والی تنظیموں کو اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایمرجنسی امدادی کام سے توجہ ہٹا کر تعمیر نو پر مرکوز نہ کی جائے۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کے امدادی کاموں کے اعلیٰ افسر جان واندے مورٹیل نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اب بھی زلزلے سے متاثر پینتیس لاکھ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔ ’یہ ضروری ہے کہ نئے ہسپتال اور سکول تعمیر کرنے کا کام جلد سے جلد شروع ہو لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہزاروں بچوں کی زندگی بچائی جائے جو یہ سکول اور ہسپتال استعمال کرسکیں،۔ اقوام متحدہ نے یہ اپیل اس وقت کی ہے جب پاکستانی حکومت گزشتہ ہفتے ہونے والی عالمی ڈونرز کانفرنس میں چھ ارب ڈالر حاصل کرنے پر اپنی کامیابیکے بعد جلد تعمیر نو اور بحالی کا کام شروع کرنے پر زور دے رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ نمائندے نے پچپن کروڑ ڈالر کی اپیل کے جواب میں دنیا سے اکیس کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر یعنی مطلوبہ رقم کا انتالیس فیصد ملنے پر عالمی برادری کا شکریہ ادا کیا اور زور دیا کہ باقی رقم بھی جلد سے جلد انہیں فراہم کی جائے۔ ’ہمیں لاکھوں اضافی ڈالر فوری طور پر چاہیے تاکہ زلزلہ زدگاں کو سخت سردی سے بچایا جاسکے‘۔ انہوں نے کہا کہ دس لاکھ متاثرہ افراد کو کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی گئی ہیں لیکن اب بھی تیرہ لاکھ دیگر افراد کے لیے خوراک کا انتظام کرنا باقی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق امدادی تنظیموں کے فنڈز موسم سرما کے وسط تک ختم ہوجائیں گے اور انہیں مزید رقم درکار ہے۔ ’متاثرین کو بر وقت مناسب شیلٹر فراہم کرنے کی دوڑ ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر فنڈز نہ ہونے کی صورت میں ناکامی کا نتیجہ اموات کی صورت میں نکلے گا‘۔ ادھر پاکستان کے فیڈرل ریلیف کمشنر میجر جنرل محمد فاروق نے جمعہ کے روز ہفتے وار بریفنگ میں بتایا کہ آئندہ ہفتے کے دوران کمیشن کی پانچ ترجیحات کا اعلان کیا جائے گا۔ان کے مطابق ان ترجیحات میں متاثرہ علاقوں میں راشن جمع کرنا، پانچ ہزار فٹ پر تباہ حال علاقوں میں ہر مکان کے اندر ایک کمرہ بنانا، پناہ گزینوں کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنا، معاوضے کی جلد ادائیگی اور سڑکیں کھولنا شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں ’امدادی آپریشن ممکن لگ رہا ہے‘09 November, 2005 | پاکستان نیٹو کی امدادی ٹیم ضلع باغ میں24 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||