مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | زلزلے کے متاثرین نئی زندگی کی تلاش میں |
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں نیٹو کی امدادی ٹیم کے سربراہ ایئر کموڈور اینڈریو جی والٹن نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ اور گردو نواح کے علاقوں میں انتہائی بلندی پر رہنے والے چھ ہزار لوگوں کو برفباری سے قبل امدادی سامان پہنچانے اور عارضی چھت فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں نیٹو کی ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ باغ اور ملحقہ علاقوں میں پانچ ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر رہنے والے انتیس ہزار افراد کو نچلے مقامات پر لایا گیا ہے مگر ابھی بھی وہاں چھ ہزار سے زائد لوگ وہاں موجود ہیں جن کو اب وہیں سامان پہنچایا جائے گا۔ اس سوال پر کہ پاکستان میں نیٹو کی ٹیم کب تک رہے گی انہوں نے کہا کہ وہ یہاں پاکستانی حکومت کے بلاوے پر آئے ہیں اور یہاں قلیل مدت کے لیے قیام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں برفباری شروع ہونے سے پہلے ان کی ٹیم اپنا کام مکمل کرنا چاہتی ہے جس میں لوگوں کو عارضی اور گرم پناہ گاہوں کی فراہمی، ہسپتال اور سکولوں کی مرمت شامل ہیں۔ نیٹو کے ترجمان کے مطابق ان کی ٹیم برفباری سے پہلے باغ اور متاثرہ علاقوں میں دھاتی چھتوں اور کنکریٹ کی دیواروں والے چھوٹے گھر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے لیے انجینئرنگ کا سامان جلد ہی پاکستان پہنچ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ گھر ڈیزائن کے اعتبار سے بھلے ہی خوشنما نہ ہوں مگر کم از کم وہ لوگوں کو سرد موسم اور برفباری سے بچا سکیں گے۔ ایک اور سوال پر کہ جن علاقوں میں نیٹو کی ٹیم کام کر رہی ہے وہیں پاکستان کی دیگر تنظیمیں خصوصا مذہبی اور جہادی تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کی ٹیم کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور وہ اپنا کام کر رہی ہیں اور نیٹو کی ٹیم اپنا۔ان کے مطابق نیٹو کی ٹیم میں ایک ہزار سے زائد انجینیئر، میڈیکل سٹاف، ہیلی کاپٹر کا عملہ اور کچھ دفتری عملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کی ٹیم نے ابتک زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں چودہ ہزار سے زائد خیمے،گیارہ ہزار آٹھ سو کمبل، ساڑھے سترہ ہزار سلیپنگ بیگ اور میٹریس کے علاوہ ادویات، پانی اور خوراک بھی بڑی تعداد میں زلزلے سے متاثرین کو فراہم کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ باغ اور ملحقہ علاقوں میں پانی کو صاف کرنے کے لیے پیوریفکیشن پلانٹ بھی لگائے گئے ہیں۔
|