BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 November, 2005, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیٹو کی امدادی ٹیم ضلع باغ میں

زلزلے کے متاثرین نئی زندگی کی تلاش میں
زلزلے کے متاثرین نئی زندگی کی تلاش میں
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں نیٹو کی امدادی ٹیم کے سربراہ ایئر کموڈور اینڈریو جی والٹن نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ اور گردو نواح کے علاقوں میں انتہائی بلندی پر رہنے والے چھ ہزار لوگوں کو برفباری سے قبل امدادی سامان پہنچانے اور عارضی چھت فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں نیٹو کی ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ باغ اور ملحقہ علاقوں میں پانچ ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر رہنے والے انتیس ہزار افراد کو نچلے مقامات پر لایا گیا ہے مگر ابھی بھی وہاں چھ ہزار سے زائد لوگ وہاں موجود ہیں جن کو اب وہیں سامان پہنچایا جائے گا۔

اس سوال پر کہ پاکستان میں نیٹو کی ٹیم کب تک رہے گی انہوں نے کہا کہ وہ یہاں پاکستانی حکومت کے بلاوے پر آئے ہیں اور یہاں قلیل مدت کے لیے قیام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں برفباری شروع ہونے سے پہلے ان کی ٹیم اپنا کام مکمل کرنا چاہتی ہے جس میں لوگوں کو عارضی اور گرم پناہ گاہوں کی فراہمی، ہسپتال اور سکولوں کی مرمت شامل ہیں۔

نیٹو کے ترجمان کے مطابق ان کی ٹیم برفباری سے پہلے باغ اور متاثرہ علاقوں میں دھاتی چھتوں اور کنکریٹ کی دیواروں والے چھوٹے گھر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے لیے انجینئرنگ کا سامان جلد ہی پاکستان پہنچ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ گھر ڈیزائن کے اعتبار سے بھلے ہی خوشنما نہ ہوں مگر کم از کم وہ لوگوں کو سرد موسم اور برفباری سے بچا سکیں گے۔

ایک اور سوال پر کہ جن علاقوں میں نیٹو کی ٹیم کام کر رہی ہے وہیں پاکستان کی دیگر تنظیمیں خصوصا مذہبی اور جہادی تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کی ٹیم کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور وہ اپنا کام کر رہی ہیں اور نیٹو کی ٹیم اپنا۔ان کے مطابق نیٹو کی ٹیم میں ایک ہزار سے زائد انجینیئر، میڈیکل سٹاف، ہیلی کاپٹر کا عملہ اور کچھ دفتری عملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو کی ٹیم نے ابتک زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں چودہ ہزار سے زائد خیمے،گیارہ ہزار آٹھ سو کمبل، ساڑھے سترہ ہزار سلیپنگ بیگ اور میٹریس کے علاوہ ادویات، پانی اور خوراک بھی بڑی تعداد میں زلزلے سے متاثرین کو فراہم کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ باغ اور ملحقہ علاقوں میں پانی کو صاف کرنے کے لیے پیوریفکیشن پلانٹ بھی لگائے گئے ہیں۔

66بے بس وزیرِاعظم
مظفرآباد:وزیرِاعظم ہاؤس میں پہلے جیسا کچھ نہیں
66جستی چادر کے گھر
زلزلہ متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہیں
66عمران خان بتاتے ہیں
’قرضوں کی پیشکش کیوں مسترد کی جائے؟
66زلزلہ اور تبلیغ
زلزلے والے علاقوں میں مذہبی جماعتوں کی تبلیغ
66بالاکوٹ کی شہناز
نہ میکہ سلامت رہا اور نہ ہی سسرال
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد