’قرضے: پیشکش مسترد کی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کو زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے چار ارب ڈالر قرضوں کی صورت میں مل رہے ہیں جو اسے فوری طور پر مسترد کر دینا چاہیں۔ وہ بدھ کو لاہور میں اپنی پارٹی کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعلان شدہ چار ارب ڈالراس ملک پر قرضے کی صورت میں چڑھیں گے ان کا کہنا تھا کہ بے شک یہ نرم شرائط پر مل رہے ہیں لیکن ہیں تو قرضے ہی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں انہوں نے اپنےزیرانتظام ہسپتال کے لیے بیرون ملک سے نرم شرائط پر قرض لیا تھا جس کا مارک اپ اگرچہ صرف ایک فی صد تھا لیکن وہ انہیں اتنا مہنگا پڑا کہ اس نے ان (ہسپتال)کی کمر ہی توڑ دی کیونکہ جیسے جیسے روپے کی قیمت گرتی تھی قرض بڑھتا چلا جاتا تھا۔ انہوں نے موجودہ امدادی قرضے کو پاکستان کے لیے ایک بڑا مالیاتی جال قرار دیا اور کہا کہ ان قرضوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جائےگا اور اسے اتارنے کے لیے بالواسطہ ٹیکس لگائے جائیں گے اور مہنگائی بڑھے گی۔ عمران خان نے کہا کہ ایک طرف حکومت قرض اتارنے کا دعوی کرتی ہے تو دوسری طرف مزید قرضے لیے جارہے ہیں۔ انہوں نے امدادی رقوم کی تقسیم کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ان رقوم کا غیر جانبدارانہ احتساب چاہتے ہیں جس کے لیے غیر جانبدار اکاؤنٹنٹ اور آڈیٹر مقرر کرنے چاہیے۔ عمران خان نے کہا کہ انہیں صدر مشرف اور ان کی ٹیم پر ذرہ برابر بھی اعتماد نہیں ہے کیونکہ ان کے بقول صدر مشرف نے وردی اتارنے کا وعدہ پورا نہ کر کے اور واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دینے کے بعد اس سے انکار کرکے اپنی ساکھ کو متاثر کر لیا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے کہا کہ حکومت کو یہ قرض لینے کی بجائے اپنے غیر ضروری اخراجات کم کرنے چاہیے۔ انہوں نے فوج کے لیے نئے جی ایچ کیو کی تعمیر پر اعتراض کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا ان حالات میں قوم کو اتنی بھاری رقم سےایک نئے جی ایچ کیو کی ضرورت ہے یا پھر اس بات کی ضرورت ہے کہ اس قوم کے بچوں کو مستقبل کے قرضے سے بچایا جائے؟
انہوں نے کہا کہ مطالبہ کیا کہ نئے جی ایچ کیو کی تعمیر روک کر اس پرلگنے والی رقم زلزلہ متاثرین پر لگائی جائے اور قرضوں کو مسترد کر دیاجائے۔ عمران خان نے حکومت کے وزراء کی بڑی تعداد اور نئی گاڑیوں کی خرید کے معاملے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت اپنے غیر ضروری اخرجات کم کرنے کو تیار نہیں ہے اور عوام پرمزید قرضوں کا بوجھ ڈالا جارہاہے۔ انہوں نے امدادی رقوم اور سامان کی تقسیم کے لیے پارلیمانی کمیٹی کو بھی غیرملکی امدادی اداروں کو خوش کرنے کا ایک ڈھونگ قرار دیا اور کہا کہ حکومت اگر اس معاملے میں مخلص ہوتی تو اسے شروع سے ہی اراکین پارلیمان کو اعتماد میں لے لینا چاہیے تھا۔ عمران خان نے کہا کہ وہ خود کئی متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے آئے ہیں ان کے بقول ان علاقوں میں غیر سرکاری تنظیمیں اور اداروں نے بہت کام کیا ہے جبکہ سب سے کم کام حکومت نے کیا ہے۔ انہوں نے اپنے جس دفتر میں پریس کانفرنس کی وہاں ٹین اور لکڑی کے گھروں کے نمونے رکھے تھے انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے اس طرز کے سو مکانات بنا دیے ہیں اور مزید سو جلد متاثرہ علاقوں میں پہنچا دیے جائیں گے۔ عمران خان بدھ کو ہی امریکا کے پانچ روزہ دورے سے لوٹے تھے انہوں نے بتایا کہ اس دوران انہوں نے پانچ لاکھ ڈالر کی امداد بھی اکٹھا کی ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان کو5.8 ارب ڈالر کی امداد19 November, 2005 | پاکستان تعلیمی اداروں پر 61 کروڑ 40 لاکھ 19 November, 2005 | پاکستان ڈونر کانفرنس ایک امتحان ہے: آکسفیم18 November, 2005 | پاکستان ریلیف فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ18 November, 2005 | پاکستان دنیا فراخ دلی کا مظاہرہ کرے: عنان17 November, 2005 | پاکستان کانفرنس پر اقوام متحدہ کی مایوسی26 October, 2005 | پاکستان متاثرین کے لیے مزید 58 کروڑ ڈالر26 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||