BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعلیمی اداروں پر 61 کروڑ 40 لاکھ

زلزلے سے متاثرہ علاقے
ایک سو مکانوں کے ایک گاؤں میں ایک پرائمری سکول اور چار گاؤں میں ایک مڈل سکول بنایا جائے گا
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ایک سو مکانوں کے ایک گاؤں میں پرائمری سکول، چار گاؤں میں مڈل سکول، بارہ گاؤں میں ہائی سکول، پچاس گاؤں میں ایک کالج ہے اور ایک تحصیل میں تین سے چار کالج کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امدادی اداروں سے کہا کہ وہ اس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے تعمیر نو میں حصہ لیں۔

صدر نے کہا ہے کہ زلزلے سے چار لاکھ مکانات تباہ ہوئے ہیں اور ان کے مالکان کو فی مکان دو لاکھ روپے یعنی تینتیس سو ڈالر دیے جائیں گے۔

عالمی امدادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ، عالمی بینک اور پاکستان حکومت نے اتفاق رائے سے زلزلے کی تباہ کاریوں کا سروے کر کے اعداد وشمار مرتب کیے ہیں۔ جس کے مطابق پانچ ارب بیس کروڑ ڈالر درکار ہیں۔ کانفرنس میں پچھتر وفود شریک ہوئے۔

انہوں نے تعمیر نو، بحالی اور امداد کے بارے میں عالمی اداروں کی مشاورت سے بنائی گئی حکمت عملی کی تفصیل بتائی اور کہا کہ فی ہلاک شدگاں ایک لاکھ روپے، فی شدید زخمی پچاس ہزار روپے اور معمولی زخمی کو پچیس ہزار روپے دیے جارہے ہیں اور رواں ماہ کے آخر تک بیس ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے۔

صدر نے کہا کہ جو لوگ اب بھی اپنے تباہ حال گھروں میں موجود ہیں انہیں فوری طور پر ایک کمرہ بنانے کے لیے پچیس ہزار روپے دیے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت تباہ شدہ سرکاری دفاتر، تعلیمی اور صحت کے ادارے، سڑکیں اور پل بنائے گی۔

صدر نے کہا کہ لوگوں کو رقم دیں گے اور زلزلے اور سردی سے بچاؤ کے لیے مکان بنانے کے لیے رہنمائی بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا اگر ڈونرز کچھ لوگوں کو بہتر مکان بناکر دیں گے تو دوسرے اعتراض کریں گے اس لیے لوگ خود اپنے مکان بنائیں گے۔

انہوں نے کانفرنس کو بتایا کہ صوبہ سرحد کے پانچ اور کشمیر کے چار اضلاع کی پچیس تحصیلوں کے چار ہزار گاؤں میں چار لاکھ مکان تباہ ہوئے ہیں۔ جس سے ان کے مطابق تیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ تباہ شدہ مکانوں میں سے نوے فیصد دیہی علاقوں میں ہیں۔

زلزلے سے تمام تعلیمی ادارے منہدم ہو گئے

صدر نے صحت کے نیٹ ورک کے بارے میں بتایا کہ ہر ایک سو مکانوں والے گاؤں کے لیے بنیادی صحت مرکز، چار گاؤں کے لیے دیہی صحت مرکز اور ہر تحصیل میں پچہتر بستروں والا ہسپتال اور ضلعی ہیڈ کوارٹر میں ڈیڑہ سو بستروں کا ہسپتال بنانا ہے۔ البتہ ان کے مطابق مظفرآباد میں دو سو بستروں کا ہسپتال تھا جو تباہ ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ضرورت میں نے بتائی ہے اور اگر اس ’پیٹرن‘ سے ہٹ کر کوئی تعمیراتی کام ہوگا تو شاید اس کا زیادہ فائدہ نہ ہو اور رقم ضائع جائے گی‘۔

صدر نے کہا کہ پاکستانی چاہے ملک کے اندر ہیں یا بیرون ممالک میں وہ یا دیگر مخیر افراد، ادارے اور مالک چاہیں تو ایک گاؤں، تعلیمی اور صحت کے اداروں کی تعمیر کی ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں اور وہ گاؤں یا ادارہ ان کے نام سے منسوب بھی کیا جاسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بہتر یہ ہوگا کہ ڈونر خود تعمیراتی کام کرنے کے بجائے صدارتی فنڈ میں نقد رقم دیں۔

صدر نے کہا کہ تباہ حال مظفر آباد سے بیس منٹ کے فاصلے پر واقع ایک مقام پر ماڈل ضلعی حکومت کے سرکاری دفاتر بنائے جائیں گے۔

صدر نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ہزاروں پاکستانی ایک ایک مکان بناکر دے سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایک گاؤں کے سو مکان بنانے پر دو کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ جبکہ ایک تحصیل کے مکان بنانے کے لیے پانچ کروڑ ڈالر اور ایک ضلع کے مکان بنانے پر صرف پندرہ کروڑ ڈالر لگیں گے۔ ان کے مطابق جب ایبٹ آْباد اور جیکب آْباد کے شہر ان کے بسانے والوں کے ناموں سے منسوب ہیں تو دوسرے کیوں نہیں ہو سکتے۔

صدر نے کہا کہ ساڑھے نو ہزار پرائمری سکولز کی ضرورت ہے اور ایک سکول کی تعمیر پر پندرہ لاکھ روپے یا پچیس ہزار ڈالر کی ضرورت ہو گی۔ ان کے مطابق سات سو بانوے مڈل سکولز کی ضرورت ہے اور ہر سکول پر تراسی ہزار ڈالر یا تیس لاکھ روپے لاگت آئے گی۔ ایک سو نوے کالج تعمیر کرنے ہیں فی کالج پانچ کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ مظفر آباد کی یونیورسٹی پر دو ارب روپے خرچ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک تحصیل کے تعلیمی ادارے بنانے پر چار کروڑ بیس لاکھ ڈالر جبکہ پورے ضلع کے تعلیمی اداروں کی تعمیر پر ساڑھے چھ کروڑ اور تمام یعنی نو اضلاع کے تعلیمی اداروں کی تعمیر کے لیے اکسٹھ کروڑ چالیس لاکھ ڈالر درکار ہیں۔ صدر کے مطابق یہ اندازہ عالمی ماہرین کے اندازے سے کچھ زیادہ ہے۔

مظفر آباد میں ایک یونیورسٹی تعمیر کی جائے گی

صدر نے بتایا کہ گیارہ سو چالیس بنیادی صحت مراکز، دو سو پچاسی دیہی صحت مراکز، پچیس تحصیل ہسپتال اور نو ضلعی ہسپتالوں کے لیے اکتالیس کروڑ بیس لاکھ ڈالر درکار ہیں۔ صدر کے مطابق اس مطلوبہ رقم کا اندازہ عالمی ماہرین کے اندازے سے چھتیس فیصد زیادہ ہے۔

جناح کنوینشن سینٹر میں زخمیوں اور معذوروں کی تصاویر لگائی گئی تھیں جبکہ نقشے بھی لگے ہوئے تھے۔ کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے بھی شرکت کی۔

اسی بارے میں
جانور کی کیا اوقات
18 November, 2005 | پاکستان
میرا کا ’فور سٹار‘ کیمپ
18 November, 2005 | پاکستان
’امید ہے مایوسی نہیں ہوگی‘
18 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد