پہاڑوں پر رہ جانےوالوں کی فکر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پناہ گزینوں کے لیےاقوامِ متحدہ کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بلند پہاڑوں پر بسنے والے زلزلہ متاثرین کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے بعض متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اقوام ِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین اینٹونیوگٹارس نے کہا کہ امدادی کارکنوں کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج وہ لوگ ہوں گے جو سخت سردی کی وجہ سے اپنے علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایسے حالات پیدا کر سکیں کہ یہ لوگ بنا کسی مشکل کے سری کا موسم گزار سکیں‘۔ انہوں نے دنیا کے دیگر ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ امداد اور بحالی کا عمل جاری رکھیں۔ انتونیوگٹارس نے ان خیمہ بستیوں کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا جو کشمیر میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے وجود میں آئی ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان خیمہ بستیوں میں صاف پانی اور نکاسی کے ناکافی انتظام کی وجہ سے بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے۔ اگرچہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سخت سردی کے آغاز کے ساتھ ہی بلندی پر رہنے والے متاثرین نے کم اونچائی والےعلاقوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے اور حکام کے مطابق روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ پہاڑوں سے نیچے آ رہے ہیں۔ تاہم اب بھی ایک اندازے کے مطابق چالیس ہزار افراد بلند پہاڑوں پر موجود ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام بلند پہاڑوں پر رہائش پذیرخاندانوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ وادیوں میں قائم خیمہ بستیوں میں منتقل ہو جائیں لیکن بہت سے دیہاتی نیچے آنے کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ریلیف کمشنر سلیم بسمل کا کہنا ہے کہ ’ ہم لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور ان پر دباؤ نہیں ڈالا جا رہا‘۔ امدادی اداروں کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں تیس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں کراچی والے تباہ حال وادیوں میں 24 November, 2005 | پاکستان نیٹو کی امدادی ٹیم ضلع باغ میں24 November, 2005 | پاکستان امدادی کام کے ساتھ عقائد کی تبلیغ24 November, 2005 | پاکستان خیموں میں آگ، تین بچے زخمی23 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||