BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 November, 2005, 13:45 GMT 18:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی والے تباہ حال وادیوں میں

تباہ حال گاؤں
سردیوں میں یہاں تین فٹ برف پڑتی ہے
شاہراہ قراقرم کے قریبی گاؤں سنگل کوٹ کے باسیوں کے لیے کراچی سے آئے ہوئے کچھ کاروباری لوگوں کی مدد سے تعمیر ہونے والے کیبن اب تک امید کا واحد پیغام ہیں۔ سنگل کوٹ میں چھیاسی خاندان آباد ہیں۔

کراچی کے کاروباری میمن حضرات ایک ماہ سے خیمہ بنا کر اس گاؤں میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔

سنگل کوٹ مانسہرہ سے پچاس کلومیٹر شمال میں شاہراہ قراقرم کے علاقے چنار کوٹ سے پانچ چھ کلومیٹر آگے ہے۔ پہاڑوں میں بل کھاتی ہوئی اور جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ایک پکی سڑک اس گاؤں تک جاتی ہے جس پر صرف فور وِیل جیپ کے ذریعے جایا جاسکتا ہے۔

جستی چادروں کے گھروں کی تیاری
آٹھ اکتوبر کے زلزلہ کے بعد سنگل کوٹ کا کوئی مکان سالم نہیں بچا۔ یہاں روایتی طرز تعمیر کے تحت پہاڑ پر زینے کے قدموں کر طرز پر مکان بنائے گئے تھے۔ مکان پتھر، لکڑی اور مٹی کی چنائی سے بنے تھے۔ جب زلزلہ آیا تو مکان اس طرح منہدم ہوئے کہ اُوپر کے مکان نچلی سطح کے مکانوں پر گِر گئے۔

سنگل کوٹ میں زلزلہ سے کوئی شخص ہلاک تو نہیں ہوا لیکن کوئی مکان اور گھر ایسا نہیں تھا جس کی کوئی چیز باقی بچی ہو۔ پہلے لوگوں کو رضاکاروں نے خیمے مہیا کیے اور اب جستی چادروں سے عارضی کیبن بنائے جارہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت یا فوج نے اب تک ان کی کوئی امداد نہیں کی۔

سنگل کوٹ کے ایک رہائشی الطاف نے بتایا کہ سکول ٹیچرز اور پٹواری مکانوں کا سروے کرگئے ہیں لیکن ابھی تک کوئی چیک کسی متاثرہ خاندان کو نہیں ملا۔

سنگل کوٹ کی خیمہ بستی
الطاف کا کہنا ہے کہ مشکل یہ ہے کہ ہر گھر میں مشترکہ خاندانی نظام کے تحت ایک سے زیادہ خاندان آباد تھے اس لیے امدادی رقم کا ایک چیک جو فی الحال پچیس ہزار مالیت کا دیا جارہا ہے سنگل کوٹ میں نقصان کی تلافی نہیں کرسکتا۔

علاقہ کے سماجی کارکن عنایت شاہ کا کہنا ہے کہ پچیس ہزار سے تو سنگل کوٹ کے ایک مکان کا ملبہ ہٹانا بھی دشوار ہوگا کیونکہ یہاں ایک مکان دوسرے پر گرا ہوا ہے۔

انہوں نے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کہ ملبہ ہٹایا جائے یا اس کی بجائے کسی دوسری جگہ پر نیا گاؤں بسایا جائے۔

چیڑھ کے درختوں سے گھرے اس پہاڑی علاقے میں سردی بڑھ چکی ہے اور ایک مہینہ تک تین تین فٹ برف باری ہونے لگے گی۔ لوگوں کی پہلی فکر یہ ہے کہ خیمہ کی جگہ جستی چادروں کے کیبن بنائے جائیں جہاں اپریل تک جاری رہنے والی برف باری کے دن گزارے جاسکیں۔

بستی میں تباہی
کراچی کے کاروباری میمن حضرات ایک ماہ سے خیمہ بنا کر اس گاؤں میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انکا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اپنے دوستوں کے تعاون سے یہاں کام کررہے ہیں۔

کراچی سے آئے ان لوگوں نے گاؤں کے متاثرہ خاندانوں کے لیے جستی چادروں سے کیبن بنانے شروع کردیے ہیں۔گاؤں کے لوگوں کے مشورے سے ان کے بنائے ہوئے یہ کیبن ہی فی الحال اس گاؤں میں امید کا پیغام ہیں۔

66جامعہ کی تعمیرِ نو
’ 480 ملین روپے اور 3 سے 5 برس لگیں گے‘
66زلزلہ اور تبلیغ
زلزلے والے علاقوں میں مذہبی جماعتوں کی تبلیغ
66بالاکوٹ کی شہناز
نہ میکہ سلامت رہا اور نہ ہی سسرال
اسی بارے میں
جستی چادروں کے گھر
22 November, 2005 | پاکستان
خیموں میں آگ، تین بچے زخمی
23 November, 2005 | پاکستان
’قرضے: پیشکش مسترد کی جائے‘
23 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد