کراچی والے تباہ حال وادیوں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاہراہ قراقرم کے قریبی گاؤں سنگل کوٹ کے باسیوں کے لیے کراچی سے آئے ہوئے کچھ کاروباری لوگوں کی مدد سے تعمیر ہونے والے کیبن اب تک امید کا واحد پیغام ہیں۔ سنگل کوٹ میں چھیاسی خاندان آباد ہیں۔ کراچی کے کاروباری میمن حضرات ایک ماہ سے خیمہ بنا کر اس گاؤں میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ سنگل کوٹ مانسہرہ سے پچاس کلومیٹر شمال میں شاہراہ قراقرم کے علاقے چنار کوٹ سے پانچ چھ کلومیٹر آگے ہے۔ پہاڑوں میں بل کھاتی ہوئی اور جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ایک پکی سڑک اس گاؤں تک جاتی ہے جس پر صرف فور وِیل جیپ کے ذریعے جایا جاسکتا ہے۔
سنگل کوٹ میں زلزلہ سے کوئی شخص ہلاک تو نہیں ہوا لیکن کوئی مکان اور گھر ایسا نہیں تھا جس کی کوئی چیز باقی بچی ہو۔ پہلے لوگوں کو رضاکاروں نے خیمے مہیا کیے اور اب جستی چادروں سے عارضی کیبن بنائے جارہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت یا فوج نے اب تک ان کی کوئی امداد نہیں کی۔ سنگل کوٹ کے ایک رہائشی الطاف نے بتایا کہ سکول ٹیچرز اور پٹواری مکانوں کا سروے کرگئے ہیں لیکن ابھی تک کوئی چیک کسی متاثرہ خاندان کو نہیں ملا۔
علاقہ کے سماجی کارکن عنایت شاہ کا کہنا ہے کہ پچیس ہزار سے تو سنگل کوٹ کے ایک مکان کا ملبہ ہٹانا بھی دشوار ہوگا کیونکہ یہاں ایک مکان دوسرے پر گرا ہوا ہے۔ انہوں نے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کہ ملبہ ہٹایا جائے یا اس کی بجائے کسی دوسری جگہ پر نیا گاؤں بسایا جائے۔ چیڑھ کے درختوں سے گھرے اس پہاڑی علاقے میں سردی بڑھ چکی ہے اور ایک مہینہ تک تین تین فٹ برف باری ہونے لگے گی۔ لوگوں کی پہلی فکر یہ ہے کہ خیمہ کی جگہ جستی چادروں کے کیبن بنائے جائیں جہاں اپریل تک جاری رہنے والی برف باری کے دن گزارے جاسکیں۔
کراچی سے آئے ان لوگوں نے گاؤں کے متاثرہ خاندانوں کے لیے جستی چادروں سے کیبن بنانے شروع کردیے ہیں۔گاؤں کے لوگوں کے مشورے سے ان کے بنائے ہوئے یہ کیبن ہی فی الحال اس گاؤں میں امید کا پیغام ہیں۔ |
اسی بارے میں جستی چادروں کے گھر22 November, 2005 | پاکستان نیٹو کی امدادی ٹیم ضلع باغ میں24 November, 2005 | پاکستان خیموں میں آگ، تین بچے زخمی23 November, 2005 | پاکستان ’قرضے: پیشکش مسترد کی جائے‘23 November, 2005 | پاکستان شہروں پر متاثرین کے مسائل کا دباؤ23 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||