ہزارہ یونیورسٹی کا گزارا کیسے ہوگا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سفیرالدین کا خیال ہے کہ پاکستان میں چاہے عام آدمی ہو یا حکومت سب میں یہ سوچ عام ہے کہ امدادی اقدامات تب کیے جانے چاہیں جب بندے زخمی ہوں یا لاشیں دبی ہوئی ہوں۔ اگر اس طرح کے مناظر نہ ہوں تو کسی کو یقین ہی نہیں آتا کہ کوئی سانحہ ہوا ہے۔ سفیر کا کہنا ہے کہ’اب اسی کو ہی دیکھ لیں آپ کے سامنے ہماری یہ یونیورسٹی ہے۔ سڑک سے آپ کو سب ٹھیک دکھائی دے گا لیکن ذرا کسی بھی بلڈنگ میں گھس کر دیکھیں۔ کسی کی دیوار میں شگاف ہے تو کسی کی چھت نیچے آگئی ہے۔کوئی ایک دیوار ایسی نہیں ہے جو پھٹی نہ ہو۔ اسی لیے ہماری کلاسیں کھلے آسمان تلے ہورہی ہیں اور یونیورسٹی کا عملہ خیموں میں بیٹھا کام کررھا ہےلیکن چونکہ کوئی اسٹوڈنٹ دب کے نہیں مرا اس لیے نہ حکومت کو کوئی فکر ہے اور نہ کسی این جی او نے حال پوچھا ہے‘۔ سفیر الدین ہزارہ یونیورسٹی کے بتیس سو سے زائد طلبا میں شامل ہیں اور ایم ایس سی فزیکل کیمسٹری کے طالبِ علم ہیں۔ اس وقت یونیورسٹی میں صرف ایم اے، ایم ایس سی کے آخری سمسٹر کے کوئی پانچ سو طلبا و طالبات کی خیموں میں یا زمین پر کلاسیں ہو رہی ہیں۔کوئی ستائیس سوجونیئر طلبا فارغ گھوم رہے ہیں۔ سفیر الدین کی ایک ہم جماعت عظمٰی کا کہنا ہے کہ’گرلز ہوسٹل کے ہر کمرے کی دیوار کریک ہوچکی ہے۔میرے ساتھ کی سب لڑکیاں رات آنکھوں میں کاٹتی ہیں۔چونکہ خیمے نہیں ہیں اس لیے مجبورا سردی کی وجہ سے انہی کمروں میں رہنا پڑتا ہے‘۔
ایک اور طالب علم خوشی محمد کا کہنا ہے کہ نیند پوری نہ ہونے کے سبب اکثر طلبا کلاسوں میں اونگھتے رہتے ہیں۔کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ہم بم پر بیٹھے ہیں جو کسی وقت بھی پھٹ جائے گا۔ ایم ایس سی کے استاد محسن نواز نے شکایت کی کہ طلبا و طالبات لیکچر پر کم دھیان دیتے ہیں اور گیٹ کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔کہ کب جھٹکا آئے اور وہ بھاگیں۔ ہزارہ یونیورسٹی سن دو ہزار دو میں قائم ہوئی تھی ۔اس وقت یہاں ڈیڑھ سو اسٹوڈنٹ اور چھ اساتذہ تھے۔ یہاں پوسٹ گریجویٹ کلاسیں ہوتی ہیں اور فیکلٹی میں صرف بیرونِ ملک سے پی ایچ ڈی کرنے والے چالیس ٹیچرز بھی شامل ہیں۔ اس یونیورسٹی کی پینتیس جدید ترین لیبارٹریوں میں سے اب ایک بھی کام نہیں کررہی کیونکہ زلزلے کے بعد تمام سائنسی آلات اور کمپیوٹرز گودام میں رکھ دیے گئے ہیں۔ ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد داؤد اعوان نے بتایا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے اور بعد کے جھٹکوں سے مختلف عمارات کو جو نقصان پہنچا ہے اسکا تخمینہ چار سو اسی ملین روپے لگایا گیا ہے جبکہ کیمپس کے نقصان پر رپورٹ مرتب کرنے والے ماہرین کی تین کمیٹیوں نے سفارش کی ہے کہ تمام عمارات ازسرِ نو بنیں گی۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ ہونے کو آ رہا ہے لیکن اب تک انہیں کلاسوں کے لیے فوج کی طرف سے صرف دو بڑے اور تیس چھوٹے خیمے ملے ہیں۔جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پچاس چھوٹے خیموں کا انتظام کیا ہے۔لیکن یہ چھوٹے خیمے لے کر ہم کیا کریں جن میں صرف دو تین آدمی بیٹھ سکتے ہیں۔نہ تو دفتر لگ سکتا ہے اور نہ ہی کلاس ہو سکتی ہے۔اس لیے اسی فیصد کام کھلے آسمان تلے ہو رہا ہے۔ایک کنٹینر جوہری سائنسداں ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے عطیہ کیا ہے تاکہ اس میں عارضی لیبارٹری قائم کی جاسکے لیکن اس طرح کہ ہمیں کوئی پینتس کنٹینر چاہییں۔
وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ کیمپس کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے تین سے پانچ برس کا عرصہ درکار ہے لیکن تین سے پانچ برس یونیورسٹی تو بند نہیں ہوسکتی اس لیے ایبٹ آباد میں کوئی متبادل عمارت ڈھونڈی جا رہی ہے ۔اگر نجی شعبے میں کوئی بڑی عمارت کرائے پر لی جائے تو اسکا کرایہ کم ازکم ایک ملین روپے ماہانہ ہوگا۔اس کے لیے ہم کسی خدا ترس مخیر شخصیت کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر داؤد کے بقول سارا کیمپس منتقل کیا جانا بہت مشکل ہے اس لیے وہ کلاسیں جن کے لیے لیبارٹری کی ضرورت نہیں ہے اسی جگہ ہو سکتی ہیں بشرطیکہ ہمیں بڑے ٹینٹ، بجلی کے جنریٹر اور پانی کی موٹریں مل جائیں جبکہ سائنس کی کلاسیں کہیں اور منتقل ہوں گی۔ ڈاکٹر داؤد کا کہنا ہے کہ کیمپس کی منتقلی کا کام ایک آدھ ہفتے میں شروع ہوسکتا ہے۔لیکن مجھے یونیورسٹی کے حالات دیکھ کر محسوس ہوا کہ باقاعدہ کلاسیں شروع کرنے کے لیے کم ازکم ایک ماہ درکار ہوگا۔ جب میں مانسہرہ سے کوئی پندرہ کلومیٹر پرے شاہراہ قراقرم پر قائم اس ہزارہ یونیورسٹی سے باہر نکلا تو یہ سوچتا ہوا نکلا کہ آج فیض صاحب حیات ہوتے تو اپنی ہی یہ لائنیں پڑھنے کے علاوہ اور کیا کرتے مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت گھڑی ہے |
اسی بارے میں ایک بے بس وزیرِ اعظم سے ملاقات21 November, 2005 | پاکستان زلزلہ بطور پروڈکٹ20 November, 2005 | پاکستان ’پانچ بلین ڈالر سے زیادہ چاہئیں‘16 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: سولہ ہزار تعلیمی ادارے متاثر14 November, 2005 | پاکستان سرحد: سکول کھولنے میں مسائل10 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||