BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو مہینے کی نوکری

آئی ایل او کا کیمپ
دو مہینے کے بعد کیمپ بند ہو جائے گا اور سب بیروزگار ہو جائیں گے
جس وقت شوگران میں ملک خان زمان کا جھونپڑا ہوٹل زلزلے سے تباہ ہوا عین اسی وقت بیسیوں کیلومیٹر دور گھنول میں اسکے دونوں بچے گھر کی دیوار تلے آ کر مر گئےاور ایک اور گاؤں میں پچپن سالہ کسان نذیر کی دس بیگھہ زرعی زمین کو بھی ایک لینڈ سلائیڈ اپنے ساتھ لے گئی۔

یہ دونوں جب کل بالاکوٹ میں فوج کے بیس کیمپ میں پچیس پچیس ہزار روپے وصول کرنے والوں کی طویل لائن میں کھڑے تھے انہیں کسی نے بتایا کہ سامنے اقوامِ متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا خیمہ لگا ہے جہاں نوکریاں مل رہی ہیں۔

میری ملک خان زمان اور نذیر سے عالمی ادارہ محنت کے اسی خیمے کے باہر ملاقات ہوئی۔ خان زمان کے لیے کسی بھی طرح کی نوکری کرنا کوئی مسئلہ نہیں۔وہ ہمیشہ سردیوں میں اپنا جھونپڑا ہوٹل بند کرکے مانسہرہ، ہری پور وغیرہ میں کام کرتا رہا ہے لیکن نذیر کو کاشتکاری کے علاوہ کچھ نہیں آتا مگر اب وہ سڑکوں کی صفائی اور کچرا صاف کرنے پر بھی آمادہ ہے۔

آئی ایل او کے اس روزگار خیمے کے باہر فہیم فیروز ایک میز کرسی ڈالے بیٹھے ہیں۔انکے پاس روزانہ تین سو تک لوگ نوکری کی تلاش میں آتے ہیں۔نہ انٹرویو نہ کنٹریکٹ۔ بس کل صبح ساڑھے سات بجے سے آجاؤ اور صفائی کے کام پر لگ جاؤ۔

اس طرح سے اب تک گزشتہ تین ہفتے کے دوران ڈھائی ہزار کے لگ بھگ متاثرین کو تین سو روپے دھاڑی پر کام دیا جا چکا ہے۔ کئی ضرورت مند مستقل کام کر رہے ہیں۔ کچھ ہفتے میں ایک دو دن دھاڑی لگا کر چلے جاتے ہیں اور پھر آجاتے ہیں۔

بقول فہیم فیروز انکے پاس ایف اے، ایف ایس سی پاس نوجوان بھی کام کے لیے آتے ہیں۔ مگر ہمارے پاس فی الحال کوئی ٹریننگ پروگرام نہیں ہے اس لیے ہم لوگوں سے ملبہ نہیں اٹھواتے بلکہ اردگرد کی صفائی کے کام کروا لیتے ہیں اور شام کو تین سو روپے دے دیتے ہیں۔ ہر آدمی اپنی مرضی سے کام کرتا ہے کوئی سختی نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس بہانے ان متاثرین کی جیب میں کچھ پیسہ آجائے تاکہ انکا روزمرہ کا کام نکلتا رہے۔

جب شروع کے دنوں میں بالاکوٹ میں امداد کا سیلاب آیا تو بڑی تعداد میں ایسے کپڑے بھی آئے جو متاثرین کے کام کے نہیں تھے چنانچہ وہ انہیں سڑک پر پھینک دیتے تھے۔ آئی ایل او والوں نے یہ کپڑے جمع کروا کر کیمپوں میں مقیم ضرورت مند خواتین سے صاف کروائے اور اسکے لیے ڈیٹرجنٹ پاؤڈر بھی دیا گیا۔ سلائی مشینیں بھی دی گئیں۔ چنانچہ یہ خواتین بے کار کپڑوں کو سی کر لحاف اور چادریں تیار کرتی ہیں جنہیں متاثرین میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ جبکہ یہ کام کرنے والی خواتین کو دھاڑی مل جاتی ہے۔

آئی ایل او اگلے پندرہ بیس روز کے اندر عارضی روزگار کی یہ اسکیم مظفرآباد، باغ ، بٹگرام اور شانگلہ میں بھی شروع کر رہی ہے۔ لیکن یہ پروگرام صرف دو ماہ تک جاری رہے گا۔ اسکے بعد ان کارکنوں کا کیا ہوگا یہ وہ جانیں ، حکومت جانے یا خدا جانے۔ لیکن آئی ایل او کے ریکارڈ پر یہ بات ضرور چڑھ جائے گی کہ اس نے بھی زلزلہ زدگان کی مدد میں حصہ لیا۔

بالاکوٹ کے اس کیمپ کے مینجر کی نوکری بھی دوماہ کے لئے ہے اسکے بعد وہ بھی ان لوگوں کی طرح روزگار تلاش کریں گے جنہیں وہ آج کام پر لگارہے ہیں۔مگر انہیں امید ہے کہ کوئی نہ کوئی این جی او انہیں پھر رکھ لے گی۔

66یہ ایک مہینہ
زلزلے کےایک ماہ میں کیا کیا ہوا: وسعت اللہ خان
66سفید پوشی کا بھرم
مدد کرنے والے اب مدد لینے سے گریزاں کیوں؟
صاحب ایک تنبو لادو
’مجھے اور میری بہن کو سردی لگتی ہے‘
66دکھ میں شانہ بشانہ
بٹگرام میں ہرجیت سنگھ کا موبائل کلینک
اسی بارے میں
الائی کا کیا ہوگا؟
25 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد