BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 September, 2004, 08:04 GMT 13:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف کی وردی قبول نہیں‘

قاضی حسین احمد
ایم ایم اے کے صدر اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد
متحدہ مجلس عمل نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کے حق میں پیش کی جانے والی کسی بھی ممکنہ قرارداد کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے صدر اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کا کوئی صوبائی رکن اسمبلی ایسی کسی قرارداد کی تائید نہیں کرےگا جس میں پرویز مشرف کے اکتیس دسمبر کے بعد بھی وردی میں رہنے کی بات کی گئی ہو۔ انہوں نے یہ بات لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ جو بھی پالیسی مجلس عمل کی مرکزی قیادت نے جاری کی ہے صوبائی قیادت اس سے انحراف نہیں کرے گی۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) صدر جنرل پرویز مشرف کے اکتیس دسمبر دو ہزار چار کے بعد، صدر مملکت اور چیف آف آرمی سٹاف کے دونوں عہدے سنبھالے رکھنے کے خلاف ہے اور اگر صدر مشرف نے ان دونوں میں سے کوئی ایک عہدہ نہیں چھوڑا تو ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائےگی۔

بلوچستان کے گورنر نے بیس ستمبر کو اسمبلی کا اجلاس طلب کر رکھا ہے لیکن ابھی اس کا ایجنڈہ واضح نہیں کیا گیا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ جس طرح پنجاب اسمبلی اور سرحد اسمبلی میں صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کے حق میں اور خلاف قراردادیں پیش کی گئی ہیں اسی طرح کی قرارداد بلوچستان اسمبلی میں بھی پیش کی جا سکتی ہے۔

بلوچستان میں متحدہ مجلس عمل مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان اسمبلی میں حکومت کی طرف سے وردی کے حق میں قرارداد پیش کی گئی تو ایم ایم اے کی مرکزی قیادت کے فیصلے کے تحت صوبائی اراکین کو واضح طور پر اپنی اتحادی جماعت سے اختلاف کرنا پڑے گا۔ جس کا نتیجہ صوبائی اسمبلی میں کسی نئے سیاسی جوڑ توڑ کے آغاز اور کسی نئے اتحاد کی کوششوں کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔

صوبائی اسمبلی میں اٹھائیس اراکین مرکز کی حکمران جماعت مسلم لیگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایم ایم اے کے اراکین کی تعداد اٹھارہ جبکہ حزب اختلاف کی تعداد انیس ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد