BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 September, 2004, 08:09 GMT 13:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشت گردی کی وجوہات ختم کریں‘
صدر جنرل پرویز مشرف
صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف
امریکی چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام ہونے والے ایک عشائیے سے خطاب کے دوران پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے فلسطین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اگر امریکہ شدت پسندانہ انتہا پسندی کو جنم دینے والے تنازعات حل نہیں کرتا تو عین ممکن ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ہار جائے۔

’امریکہ کو سیاسی تنازعات کے علاوہ غربت اور ناخواندگی کے خاتمے پر بھی توجہ دینی ہو گی کیونکہ یہی مسائل دہشت گردی کوجنم دیتے ہیں۔ مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے فلسطین کا تنازعہ ختم کرنا ہو گا تاکہ لوگوں میں یہ احساس بیدار ہو کہ امریکہ ان کے مسائل سمجھتا ہے۔‘

اس سے پہلے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز سے ایک انٹرویو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ’فی الوقت ہم دہشت گردی کا صرف سطحی اور فوجی نقطہ نظر سے مقابلہ کر رہے ہیں جس سے فوری نتائج سامنے آتے ہیں۔ لیکن ہم دہشت گردی کی اصل جڑ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ مجھے امید ہے کہ اس کی اصل وجہ پر توجہ دی جائے گی بصورت دیگر ہم کبھی نہیں جیتیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم لڑائی تو جیت جائیں لیکن ہم اصل جنگ ہار جائیں گے۔‘

صدر پاکستان نے کہا کہ شدت پسند گروہ سیاسی تنازعات سے اکتائے ہوئے غریب اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو باآسانی اپنی طرف مائل کر لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر وسیع پیمانے پر ہمدردی پائی جاتی ہے۔ جبکہ امریکہ کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کا حامی اور مسلمانوں کا قطعی مخالف ہے۔ اس لیے میرے خیال میں اس تاثر کو ختم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے اور القاعدہ کے بچے کھچے ارکان کی تلاش کے سلسلے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان کی کوششیں کارگر رہی ہیں اور بدستور جاری ہیں۔ البتہ انہوں نے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

پاکستان کے داخلی امور کے حوالے سے صدر جنرل مشرف نے کہا کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ چھوڑنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پائے ہیں اور آئندہ چند ماہ میں اس امر کے بارے میں بھی کوئی اعلان کریں گے۔

نیویارک سے بی بی سی اردو سروس کے شاہ زیب جیلانی نے بتایا ہے کہ امریکہ کے صدر جارج بش بائیس ستمبر کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کریں گے۔

ملاقات کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار، قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی کارروائیوں، پانچ سو شدت پسندوں کی گرفتاری، انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کے سلسلے میں پاکستان کی کوششوں، ملک میں مدرسوں کے سلسے میں کی جانے والی اصلاحات اور اقدامات، پاک بھارت مذاکرات، ایٹمی عدم پھیلاؤ کے سلسلے میں پاکستان کی کوششوں، پاکسستان کے لیے اقتصادی اور فوجی امداد کے علاوہ عراق اور پاکستان کے آئندہ کردار جیسے معاملات پر غور کیا جائے گا۔

صدر بش سے ملاقات کے بعد صدر مشرف اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔

صدر مشرف بدھ کو واشنگٹن جائیں گے جہاں وہ پاکستان کے کانگریسی کاکس کا افتتاح کریں گے۔ صدر مشرف واشنگٹن ڈی سی میں ہی پاکستانی کمیونٹی کے ایک اجتماع میں شرکت کریں گے۔ اس کے بعد تئیس ستمبر کو صدر مشرف اقوام متحدہ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کریں گے اور کونسل آف فارن ریلیشنز کے ایک ظہرانے میں شرکت کریں گے۔ وہ جمعہ کو ہندوستان کے وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات بھی کرنے والے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد