ملاقات پر بینظیر کیا کہتی ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئر پرسن بینظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان ابوظہبی میں بتائی جانے والی ملاقات اب ایک معمے کی شکل اختیار کر چکی ہے جو کسی سے حل نہیں ہو رہا۔ بی بی سی اردو کے شاہ زیب جیلانی نے اس سلسلے میں ان سے بات کی ہے لیکن اس بات چیت سے اس معمے کو حل کرنے میں کتنی مدد مل سکتی ہے اس کا فیصلہ آپ اس انٹرویو کی تفصیلات پڑھ کر خود ہی کر سکتے ہیں۔ سوال: بینظیر صاحبہ سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ جمعہ کو آپ ابوظہبی میں تھیں؟ بینظیر بھٹو (بی بی ): جی اس بارے میں آپ مجھ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا جنرل مشرف صاحب اور میری ملاقات ہوئی؟ اس سلسلے میں گورنمنٹ سپوکس مین پہلے سے کلیریفیکیشن (وضاحت) دے چکے ہیں اور میرے خیال میں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہم ملیں یا نہ ملیں۔ مسئلہ یہ قوم کے لیے ہے کہ کیا ہمارے ملک میں کوئی ایسا امکان ہے کہ خوش اسلوبی کے ساتھ ہم منزل کی جانب رواں دواں ہو سکیں۔ اگر آپ یہ پوچھیں گے تو میں خوشی سے بتاؤں گی۔ سوال: تو آپ یہ کنفرم نہیں کر رہیں کہ ملاقات ہوئی یا نہیں ہوئی؟ بی بی: میں آپ کو بتا چکی ہوں کہ حکومت کے ترجمان اس تردید کر چکے ہیں۔
سوال: لیکن آپ کی پیپلز پارٹی کے ذرائع نے کا کہنا ہے کہ آپ وہاں گئیں بہت ہی مختصر وقت کے لیے؟ بی بی: نہیں کوئی ایسے ذرائع نہیں ہیں، آپ مجھے ایک ذریعہ بتائیں پیپلز پارٹی کا یا پریزیڈنسی کا جس نے کہا کہ ہم ملے ہیں۔ نہ میرے میڈیا آفس نے کہا نہ ان کے میڈیا آفس نے کہا مگر اخباروں میں خبر چھپی تھی تو اس کا ہم نے ری ایکشن دیا ہے۔ ابھی اس وقت ہمارے ملک میں بڑے مسئلے ہیں جیسے آبپارہ میں بم کا دھماکہ ہوا اور بے گناہ عورتیں، بچے اور مرد مر گئے ہیں، ہمارے ملک میں غربت کا مسئلہ ہے اور لوگ یہ دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے سال جو ڈھانچہ آیا تھا اس کے تحت قوم کی صورتحال بگڑ گئی۔ ہمیں مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے اور پیپلز پارٹی کی یہ کوشش ہے کہ اگر کوئی پُر امن سیاسی سمجھوتہ ہو سکتا ہے جس سے عوام کو ان کے ووٹ سینکٹٹی (تقدیس) دوبارہ مل جائے تو ہم اس کی کوشش کر کر رہے ہیں۔ سوال: بینظیر صاحبہ اگر آپ کی جنرل مشرف سے ملاقات ہوئی تو کیا آپ اسے چھپائیں گی؟ بی بی: میرا خیال ہے کہ میں آپ کو جواب دے چکی ہوں۔ جو مجھے دینا تھا اور پہلے بھی پیپلز پارٹی ٹرانسپیرنٹ رہی ہے اور ہم نے کہا ہے کہ ہمارے مذاکرات ہیں اور لوگوں کے خفیہ مذاکرات ہیں مگر ہم کہہ چکے ہیں کہ ہمارے مذاکرات ہیں۔ اسی سال نہیں پہلے بھی، ایل ایف او کے وقت، سن دو ہزار میں بھی، دو ہزار دو میں بھی، جب بات چلی تھی کہ ہماری پارٹی کے وائس پریذیڈنٹ اگر پرائم منسٹر بنیں گے، تو اس وقت بھی ہوئی، تو ہم بہت کھلے طور بات چیت کرتے ہیں۔ لیکن جہاں تک گوسپ (بے پر کی) ہے، ریومر (افواہوں) ہے، لوگوں کا ذاتی تجسس ہے تو اس پر سے ہم پردہ نہیں اٹھا سکتے۔
سوال: بینظیر بھٹو میں آپ سے اس لیے بار بار پوچھ رہا ہوں کہ جب تک کلیریفیکیشن نہیں ہو گی تو گوسپ تو ہو گی، پھر قیاس آرائیاں بھی ہوں گی اور جیسے میاں نواز شریف کے ساتھ آپ نے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے، اے آر ڈی میں وہ آپ کے ساتھ ہیں، ان کا کافی شدید ردِ عمل آیا ہے کہ بینظیر بھٹو نے ایک نیا راستہ اپنا لیا ہے ہمارے ساتھ انہوں دستخط کیے کہ فوج کے ساتھ اشتراک نہیں ہو گا اور وہ اپنا راستہ الگ کرتی ہوئی جا رہی ہیں تو جب تک آپ کی طرف سے تصدیق نہیں ہو گی تو لوگ تو باتیں کریں گے۔ بی بی: باتیں تو لوگ کرتے ہیں سیاست میں، اور جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم تو آزادیِ اظہار کے حق میں ہیں۔ میثاقِ جمہوریت ایک دستاویزی ڈاکومنٹ ہے وہ سب دیکھ سکتے ہیں کہ اس کا مقصد ہے کہ سویلین اور ڈیموکریٹک حکومت لائی جائے اور جو ہمارے مذاکرات ہیں وہ سویلین اور ڈیموکریٹک گورنمنٹ کے لیے ہیں۔ ہر جماعت نے جا کر خفیہ طور پر سمجھوتہ کیا اور پھر اعلان کیا۔ ایم ایم نے کیے، نون نے اپنے لیڈروں کو جیل سے نکالنے کے لیے کیے، جب کہ آصف زرداری صاحب آٹھ سال جیل میں رہے ہیں۔ یا آپ دیکھیں کہ قبائلی علاقوں کے اندر فائر بندی ہوئی ہے، مگر ہم لوگ کھل کر بات کرتے ہیں، اور ہمارا طریقہ ٹرانسپیرنٹ ہے، جو کہنا ہوتا ہے ہم کہتے ہیں۔ اگر کوئی آفیشیل سورس آپ کے پاس ہے تو میں جواب دوں گی۔ لیکن اگر غیر سرکاری ذرئع ہیں تو ہم بے نام، نامعلوم ذرائع کی باتوں کو فشنگ ایکسپیکٹیشنز (دور از کار خیال آرائیاں) سمجھتے ہی اور ان سے گریز کرتے ہیں۔ سوال: ہماری شیر افگن سے بات ہوئی، منسٹر ہیں وہ، انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو اور جنرل مشرف کی ملاقات ہوئی ہے۔ تو اب یہ کنفیوژن ہے کافی۔ بی بی: ٹھیک ہے تو پھر آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں۔ سوال: اس لیے کہ آپ دوسری پارٹی ہیں۔
بی بی: میں آپ سے کہ رہی ہوں کہ دو پارٹیاں ہیں۔ پریزیڈینسی اور پیپلز پارٹی، پریزیڈنسی اس بات کی تردید کی ہے اور پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ اس کی تردید آ چکی ہے اب یہ بات آگے کریں تا کہ ہم آگے چل سکیں۔ سوال: ایک بات میں آپ سے یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ آپ کہہ رہی ہیں کہ آپ کی بات چلتی رہی ہے حکومت سے جمہوریت کی بحالی کے لیے، تو اس سےسلسلے میں آپ نے، میں نواز شریف کو، اے آر ڈی کو اور دوسری جماعتوں کو اعتمادمیں لیا کچھ مشورہ کیا اپنی پارٹی کے لوگوں سے؟ بی بی: جی جو ہمارے مشورے ہیں، ہماری جو جاری پالیسی ہے وہ ہم کرتے ہیں لیکن میں لیڈر ہوں اور میں فائنل فیصلہ لیتی ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||