BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 July, 2007, 18:29 GMT 23:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈیل‘، چودھری برادران کی مشکل

بعض کا کہنا ہے کہ اگر بینظیر سے ڈیل ہوسکتی ہے تو نواز شریف سے کیوں نہیں؟
پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان ممکنہ ڈیل کی باتوں نے حکمران مسلم لیگ کے چودھری سربراہان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

چودھری شجاعت حسین مسلم لیگ (ق) کے صدر اور وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی صوبائی صدر ہیں۔ حال ہی میں مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے ایک ٹی وی پروگرام میں پیپلز پارٹی سے سمجھوتے یا اتحاد کا امکان ظاہر کیا جس کے ردعمل میں وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے پیپلز پارٹی کو ملک توڑنے والی جماعت بھی قرار دیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی سے کسی صورت انتخابی اتحاد نہیں ہوسکتا۔

حکمران مسلم لیگ پیپلز پارٹی سے اتحاد کر بھی کس طرح سکتی ہےکیونکہ چودھری صاحبان آج بھی ہمیشہ کی طرح مسلم لیگ نواز کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ اس نے ان کے بقول اپنے نظریے سے انحراف کر کے نسبتاً بائیں بازو کے نظریات رکھنے والی اس پیپلز پارٹی سے اتحاد (اے آر ڈی) بنایا جس کے خلاف وہ ہمیشہ جد و جہد کرتے آئے تھے۔

اس کے علاوہ چودھری برادران پیپلز پارٹی کو چودھری ظہور الہی کا قاتل بھی گردانتے ہیں۔

لیکن صدر جنرل پرویز مشرف کا کیا کیا جائے جن کے سامنے دوبارہ صدر بننے کی ایک آئینی مجبوری آن کھڑی ہوئی ہے اور وہ اس کے لیے وہ محض مسلم لیگ (ق) پر انحصار نہیں کر نا چاہتے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ وہ اسی اسمبلی سے منتخب ہوں یا اگلی سے، انہیں بہرحال مسلم لیگ (ق) کے علاوہ بھی سیاسی حمایت کی ضرورت ہوگی۔

 ایک بات میں باالکل واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی سے سمجھوتے کی بات مسلم لیگ (ق) نہیں کر رہی بلکہ یہ جو بھی معاملہ ہے وہ صدر، حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ہے اور چودھری صاحبان کو ان فیصلوں کے بارے میں صرف مطلع کیا جائےگا۔
فاروق امجد میر
مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی فاروق امجد میر کا کہناہے کہ یہ دراصل مسلم لیگ کی ناکامی ہے کہ آج صدرمشرف اور اسٹیبلشمنٹ سیاسی قوت کے لیے پیپلز پارٹی کی طرف دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ حکمران پارٹی میں یہ بات زیر بحث ہے کہ پیپلز پارٹی سے کس نوعیت کا سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے تاہم ان کے بقول یہ بات ابھی بالکل ابتدائی سطح پر ہے۔

حکمران پارٹی کے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات پر غور شروع کر دیا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی سے انتخابات سے قبل مفاہمت کی جائے یا پھر الیکشن کے نتائج آنے کے بعد کسی قسم کے حکمران اتحاد کی شکل بنائی جائے۔

فاروق امجد میر مسلم لیگ کی پارلیمانی کمیٹی برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق کے سربراہ ہیں اور پارٹی میں گجرات کے چودھریوں کے مخالف شمار کیے جاتے ہیں۔انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک بات میں بالکل واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی سے سمجھوتے کی بات مسلم لیگ (ق) نہیں کر رہی بلکہ یہ جو بھی معاملہ ہے وہ صدر، حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ہے اور چودھری صاحبان کو ان فیصلوں کے بارے میں صرف مطلع کیا جائےگا۔‘

انہوں نے کہا کہ’ پانچ سالہ اقتدار کے دوران اگر مسلم لیگ (ق) نے عوام کی حمایت حاصل کر لی ہوتی تو اسے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔‘ ان کے بقول یہ واضح ہے کہ مسلم لیگ قائد اعظم مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔انہو ں نے کہا کہ ’جماعت کی موجودہ قیادت کی وجہ سے حکومت کا ووٹ بینک کم ہوا ہے اور مزید گرتا چلا جارہا ہے۔‘

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے مسلم لیگ کا ووٹ بینک کم ہونے اور صدر مشرف کے سیاسی حمایت کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب دیکھنے کے کئی دوسرے محرکات بھی ہیں۔

صدر مشرف کی سوچ پارٹی سے الگ
 حکمران مسلم لیگ کے قائدین اپنے ناقدین کے اس الزام کی ہمیشہ نفی کرتے آئے ہیں کہ ان کی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے جو صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے تشکیل دی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اس بات کی بھی تردید کرتے ہیں کہ پانچ برس کے دور حکمرانی کے دوران ایسے کئی مواقع آئے جب صدر مشرف اور مسلم لیگ (ق) کی سوچ میں اختلاف کا تاثر ملا۔
حکمران مسلم لیگ کے قائدین اپنے ناقدین کے اس الزام کی ہمیشہ نفی کرتے آئے ہیں کہ ان کی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے جو صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے تشکیل دی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اس بات کی بھی تردید کرتے ہیں کہ پانچ برس کے دور حکمرانی کے دوران ایسے کئی مواقع آئے جب صدر مشرف اور مسلم لیگ (ق) کی سوچ میں اختلاف کا تاثر ملا۔

سیاسی مبصرو صحافی سلمان غنی کا کہنا ہے کہ ’عراق کی جنگ، پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا اندراج، ڈاکٹر قدیر کی حراست اور ان پر الزامات، خواتین بل اور لال مسجد آپریشن سمیت ایسے کئی معاملات سامنے آئے جن پر مسلم لیگ کے بعض حلقوں اور صدر مشرف کی سوچ میں واضح اختلاف نظر آیا اور ہر بار کمپرومائز صرف مسلم لیگ کی قیادت کو کرنا پڑا۔ ان کے بقول اس بات کا اثر ان کے ووٹروں پر بھی پڑا ہے۔‘

بہرحال یہ وہ تمام ایشوز ہیں جن پر پیپلز پارٹی کے حزب اختلاف میں ہونے کے باوجود اس کے صدر مشرف کے نظریات ایک نظر آئے اور انہی لِبرل نظریات کی بنیاد پر اب یہ تاثر مل رہا ہے کہ بین الاقوامی طاقتیں بھی صدرمشرف اور بے نظیر کے مفاہمت کے حق میں ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرف بے نظیر مفاہمت حکمران مسلم لیگ پر تلوار بن کر گرے گی۔ ان کی اسٹیبلشمنٹ میں پوزیشن خراب ہوگی ہی اس کے برے اثرات آئندہ ممکنہ عام انتخابات کے دوران بھی سامنے آئیں گے۔

سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ (ق) کی صدر مشرف سے ہٹ کر بھی کوئی حیثیت ہے اور کیا اگر اسے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہ رہے تو وہ انتخابات میں مطلوبہ نتائج حاصل کر سکےگی۔

ان حالات میں مسلم لیگ (ق) کے سینیئر نائب صدر ملک مجید کا یہ بیان اہم ہے کہ اگر سیاسی مفاہمت کرنا ہی ہے تو پھر پیپلز پارٹی کی بجائے مسلم لیگ کو متحد کیوں نہ کر لیا جائے۔

ان کا کھلا اشارہ معزول وزیراعظم میاں نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) سے اتحاد کی طرف ہے جو واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن مشرف سے سمجھوتہ تو ایک طرف بات بھی نہیں ہوسکتی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں ہلچل شروع ہوگئی ہے اور اگلے چند ہفتوں یا چند ماہ کے دوران سیاسی افق پر نئے سیاسی اتحاد ابھرنے والے ہیں جن میں سے بعض انتہائی غیر متوقع بھی ہوسکتے ہیں۔

بے نظیر’عدالتی بحران‘
حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں: بے نظیر بھٹو
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹوبینظیر کی پراعتمادی؟
بینظیر کی پراعتمادی یا مشرف سے ڈیل
بینظیرہوئی یا نہیں ہوئی
مشرف بینظیر ڈیل پر متضاد حکومتی بیانات
ڈیل کی کڑوی گولی
پیپلز پارٹی کی یہ پہلی ڈیل نہیں ہو گی۔
بینظیر کی ’ڈیل‘
نواز شریف نے بینظیر پر شدید تنقید کی ہے
بینظیر بھٹوگرفتاری کا ڈر نہیں
’اگرگرفتار بھی کریں پھر بھی واپس جاؤں گی‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد