BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 April, 2007, 16:26 GMT 21:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کی پراعتمادی یا مشرف سے ڈیل؟

بینظیر بھٹو
جاگیردارانہ انداز والی بینظیر بھٹو کی ’ورکنگ رلیشن‘ بہت مشکل ہوگی۔
روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے موضوعات پر ہم خیال ہونے کے باوجود بھی اپنے اپنے مزاج کے اعتبار سے خود کو سیر پر سوا سیر سمجھنے والے صدر جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کا ایک ساتھ چلنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے حالیہ انٹرویو میں حکومت سے رابطوں کی تصدیق کے بعد ایک بار پاکستان بھر میں مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے بارے میں بحث چل پڑی ہے۔

بعض مبصرین کہتے ہیں کہ اکھڑ طبیعت والے صدر جنرل پرویز مشرف اور جاگیردارانہ انداز والی بینظیر بھٹو کی ’ورکنگ رلیشن‘ بہت مشکل ہوگی۔ ان کے مطابق اگر ان کے درمیاں محبت کے بجائے حالات کی مجبوری کے تحت کوئی مفاہمت یا ’ڈیل، ہوتی ہے تو اس کی پائیداری بال سے بھی زیادہ باریک اور کیلے کی کھال پر پاؤں کے برابر ہوگی۔

کراچی یونیورسٹی میں پاکستان سٹڈیز سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جعفر احمد کہتے ہیں کہ ’بینظیر بھٹو اور صدر جنرل پرویز مشرف میں سے کوئی بھی خوش دلی سے سیاسی مفاہمت نہیں چاہیں گے۔ لیکن بیرونی دباؤ اور اندرونی حالات کے پیش نظر اگر وہ ملتے بھی ہیں تو شخصیتوں کے ٹکراؤ کا خدشہ ضرور رہے گا کیونکہ بینظیر بھٹو ظفراللہ جمالی یا شوکت عزیز کی طرح بے اختیار وزیراعظم نہیں بننا چاہیں گی‘۔

اس بارے میں وفاقی وزیر شیخ رشید سے جب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ’صدر جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو باہر سے اکھڑ لگتے ہیں، دونوں وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اور اندرون خانہ دونوں لچک رکھتے ہیں‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے ترجمان فرحت اللہ بابر سے جب پوچھا کہ ان کی جماعت نے صدر مشرف سے بات چیت میں بنیادی نکتہ کیا رکھا ہے اور وہ کہاں تک جاسکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’جمہوریت اور وردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے اس لیے پیپلز پارٹی فوجی وردی میں جنرل پرویز مشرف کو کسی قیمت پر صدر نہیں مان سکتی‘۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے اس بنیادی اصول کے بارے میں جب وزیر شیخ رشید احمد سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ’ سیاستدان مطالبے بڑے بڑے کرتے رہتے ہیں‘۔

درپردہ ڈیل
 بینظیر بھٹو کے حالیہ اعتماد کے بارے میں کچھ مبصر کہتے ہیں کہ جس دھڑلے سے بینظیر بھٹو نے رواں سال کے آخر میں انتخابت سے قبل ہر قیمت پر پاکستان پہنچنے کا اعلان کیا ہے اس سے انہیں لگتا ہے کہ کوئی درپردہ ڈیل ہوچکی ہے۔
مبصر

’اگر یہ مسئلہ حل کرنا ہے تو بینظیر کو کچھ نہ کچھ تو دینا ہوگا۔ ویسے بھی وہ خود کہہ چکی ہیں کہ وردی کا مسئلہ سپریم کورٹ طے کرسکتی ہے‘۔

اس بارے میں فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ ’اگر صدر جنرل پرویز مشرف وردی اتار کر سویلین صدر بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کا کوئی علم نہیں جب وہ بات کرے گا تو اس وقت دیکھا جائے گا اور اس وقت کا پارلیمان فیصلہ کرے گا‘۔

پاکستانی امور کے ماہر ڈاکٹر جعفر احمد کہتے ہیں کہ ’صدر مشرف کی پہلی چوائس تو وردی اتارنا نہیں ہوگی اور ان کے سامنے دو تین متبادل تجاویز ہوں گی‘۔ ان کے مطابق ہوسکتا ہے کہ فی الحال بینظیر بھٹو ملک آجائیں اور انتخاب بھی لڑیں اور نئی پارلیمان میں ان کی سیاسی قوت کے مطابق معاملات آخری وقت میں طے ہوں‘۔

لیکن ڈاکٹر جعفر احمد اس بات پر وثوق سے کہنے لگے کہ چند برس پہلے کی نسبت آج صدر جنرل پرویز مشرف کی بارگیننگ کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے جبکہ بینظیر بھٹو پہلے سے زیادہ پراعتماد ہوگئیں ہیں اور قدم بڑھا کر کھیلنے کے موڈ میں لگتی ہیں۔

بینظیر بھٹو کی پراعتمادی کے بارے میں کچھ مبصر کہتے ہیں کہ جس دھڑلے سے بینظیر بھٹو نے رواں سال کے آخر میں انتخابت سے قبل ہر قیمت پر پاکستان پہنچنے کا اعلان کیا ہے اس سے انہیں لگتا ہے کہ کوئی درپردہ ڈیل ہوچکی ہے۔

لیکن فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ ان کی نظر میں درست تجزیہ یہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی سمیت دیگر حزب مخالف کی جماعتوں کے حالیہ اعتماد کی وجہ صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کی بیرونی اور اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔ ’ہماری نظر میں موجودہ حکومت ایک ڈوبتے ہوئے جہاز کے مانند ہے‘۔

جب ان سے پوچھا کہ ڈوبتی ہوئی حکومت سے پھر بات چیت کیوں کر رہے ہو تو انہوں نے کہا کہ ’سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کرتے‘۔

فوجی صدر سے مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ کے بارے میں بات چیت کے متعلق پیپلز پارٹی کا موقف اپنی جگہ لیکن ان کے اتحادی سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کہتے ہیں کہ ’میثاق جمہوریت کے مطابق آئین توڑنے والے فوجی آمر سے کوئی جماعت بات چیت نہیں کرے گی‘۔ ان کے مطابق حکومت نے ان کی جماعت سے بھی رابطہ کیا ’لیکن کسی کے گھر میں ڈاکو آئے تو کیا ان سے کوئی مذاکرات کرے گا‘۔

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے مطابق حکومت نے ان کی جماعت سے بھی رابطہ کیا

پیپلز پارٹی اور حکومت کے رابطوں کے بارے میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’یہ وقت فوجی آمر کو گھر بھیجنے کا ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ ہر دور میں فوجی ٹولے کو ایک گروہ ایسا میسر آجاتا ہے جو انہیں سلیوٹ مارتا ہے‘۔

’اگر کوئی سیاسی جماعت ایسا کرے تو کتنی شرم کی بات ہے۔ لیکن یہ وہ طبقہ ہے جسے حیا ہے نہ شرم، ضمیر ہے نہ غیرت۔ یہ بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے فوجی آمر مارشل لا لگانے کے‘۔

وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ بات چیت اب کوارٹر فائنل سے سیمی فائنل میں پہنچی ہے اور اب دیکھنا ہے کہ فائنل ہوتا ہے یا نہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف کہتے رہے ہیں کہ ان کے متعارف کردہ سیاسی اور معاشی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے ان کا اور ان کے ساتھیوں کا آئندہ پانچ برسوں تک بھی اقتدار میں رہنا ضروری ہے۔ لیکن اس بارے میں ڈاکٹر جعفر سے جب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے آٹھ برس راج کیا اور اب انہیں واپسی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، اس سے پہلے کہ یحییٰ خان کی طرح انہیں رسوا ہونا پڑے۔

’انبیاء کے بغیر دنیا چل رہی ہے اور قائد اعظم کے بغیر پاکستان چل رہا ہے اور کسی کے بغیر بھی آئندہ چلتا رہے گا‘۔

حکومت اور پیپلز پارٹی کی امکانی ڈیل کے بارے میں فریقین اور مبصرین کی باتیں اپنی جگہ لیکن وہ جو کسی مدبر نے کہا ہے کہ ’سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا‘۔ یہ مقولہ پاکستان میں جوڑ توڑ کی سیاست پر کتنا فٹ بیٹھتا ہے، یہ بھی جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔

بے نظیر’عدالتی بحران‘
حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں: بے نظیر بھٹو
نواز شریف، بینظیربی بی نواز ملاقاتیں
اصولی پیمانوں سے ماپنے کا وقت نہیں آیا
 بنظیر بھٹومیثاق کا مستقبل
میثاق جمہوریت میں دلچسپی کم ہو رہی ہے۔
بے نظیر’ملک کو حقیر کیا‘
بینظیر کے مطابق مشرف نےملک کو حقیر کیا ہے
بے نظیر اور نواز شریفمفاہمت ہو گئی
مشرف کی فوجی حکومت کے تمام اقدامات مسترد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد