اکتوبر، نومبر میں واپسی کی تیاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی تاحیات چیئر پرسن بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ وہ اس سال اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں پاکستان واپس جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے پاکستان واپس جانے کی قطعی تاریخ کا تعین تو نہیں کیا لیکن انہوں نے کہا کہ وہ عام انتخابات سے قبل پاکستان میں ہوں گی۔ بے نظیر بھٹو جنرل مشرف کے حکومت میں آنے سے قبل سے خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں۔ محترمہ سے نظیر بھٹو کی یہ پریس کانفرنس واشنگٹن کے باہر میری لینڈ میں پارٹی کے ایک رہنما جاوید منظور کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی جس میں ان کے شوہر آصف علی زرداری بھی موجود تھے۔ تاہم آصف علی زرداری پوری پریس کانفرنس میں خاموش رہے اور ان سے نہ کوئی سوال پوچھا گیا اور نہ ہی انہوں نے کسی سوال کا ازخود جواب دیا۔
بے نظیر بھٹو نے مشرف حکومت سے ہونے والے رابطوں کے بارے میں متعدد سوال ہوئے۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ سن دو ہزار سے مشرف حکومت کی طرف سے انہیں کئی پیش کشیں ہوئی ہیں لیکن ان کا مشرف حکومت سے نہ کوئی سمجھوتہ ہوا ہے اور نہ کوئی ’ڈیل‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک ہی نکتہ ہے اور وہ ہے جمہوریت کی بحالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت کی بحالی سے کم کسی بھی چیز پر مشرف حکومت سے سمجھوتہ یا ڈیل نہیں کر سکتی۔ واشنگٹن میں موجودگی کے دوران بے نظیر بھٹو کی کسی بھی قابل ذکر امریکی لیڈر سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ بے نظیر بھٹو نےواشنگٹن میں قیام کے دوران وائٹ ہاوس میں ایک دعائیہ ناشتے میں شرکت کی تھی جس میں تین سے چار ہزار افراد شرکت کرتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے واشنگٹن میں اپنی مصروفیات کے بارے میں کہا کہ یہاں پر ان کی نجی یا غیر رسمی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ کے رہنما نواز شریف کی طرف سے لندن میں بلائی جانے والی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ آصف زرداری سے مبینہ علیدگی کی خبروں کے سوال پر بے نظیر بھٹو ذرا سے غصے میں آگئیں اور انہوں نے کہا کہ یہ آئی بی (انٹیلیجنس بیورو) کی طرف سے افواہیں اور ڈس انفامیشن پھیلائے جانے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی کو اپنی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان میں عام انتخابات کا سال ہے اور ایسے میں عوام میں اس طرح کی اور بھی افوائیں پھیلائی جانے کا امکان ہے۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ جنرل مشرف کی خارجہ پالیسی میں تضادات ہیں۔ وہ اوپر سے کچھ کہتے ہیں اور زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی اطلاعات پر سخت تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں ’اسٹرٹیجک ڈیپتھ‘ کے نظریہ کو نہیں مانتے۔ انہوں نہ کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا پورا حق ہے اور ہم افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت بھارت کے ساتھ تمام مسائل شملا معاہدے کے تحت دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے حق میں رہی ہے۔ بےنظیر بھٹو نے پاکستان میں سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کی گمشدگی پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا بلوچستان میں اکبر بگٹی کے قتل اور اختر مینگل کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے اس سے صوبے میں بے چینی کی صورتحال خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری حکومت ہی پاکستان کو ان مسائل سے نکال سکتی ہے۔ | اسی بارے میں پیپلزپارٹی پنجاب میں تبدیلیاں11 November, 2006 | پاکستان وردی ابھی نہیں اترےگی : مشرف06 December, 2006 | پاکستان آل پارٹیز کانفرنس کی کوششیں 21 December, 2006 | پاکستان مشرف کی آئینی مشکلات01 January, 2007 | پاکستان پی پی پی (ن) لیگ کواعتراض بتائے گی21 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||