BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 January, 2007, 09:54 GMT 14:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کی آئینی مشکلات

جنرل مشرف نے انتخابی مہم شروع کر دی ہے
پاکستان میں آئینی امور کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ اسمبلیوں سے صدر مشرف کا دوبارہ انتخاب کروانا آئینی طور پر تو ممکن ہوسکتا ہے لیکن سیاسی طور پر انتہائی مشکل ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اتنا ہی آسان ہوتا تو صدر مشرف حکومتی جلسوں میں تواتر سے عوام سے یہ اپیل کرتے دکھائی نہ دیتے کہ ’ان لوگوں کومنتخب کریں جو بعد میں انہیں ووٹ دیں۔‘

حکومت کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ صدریہ اپیلیں اس لیئے کررہے ہیں کیونکہ انہیں علم ہےکہ انہی اسمبلیوں سے کامیاب ہونا ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوگا کیونکہ اس میں ایک نہیں متعدد آئینی اور سیاسی رکاوٹیں ہیں۔

جنرل مشرف کا انتخاب
آئین کہتا ہےکہ کوئی سرکاری افسر اپنی ریٹائرمنٹ کے دو برس بعد تک صدر پاکستان نہیں بن سکتا کیونکہ صدر اور رکن قومی اسمبلی کے لیے اہلیت کی شرائط برابر ہیں۔
اعتزاز احسن

پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ پرویز مشرف چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے سرکاری افسر بھی ہیں۔

ان کے بقول آئین کہتا ہےکہ کوئی سرکاری افسر اپنی ریٹائرمنٹ کے دو برس بعد تک صدر پاکستان نہیں بن سکتا کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ صدر اور رکن قومی اسمبلی کے لیے اہلیت کی شرائط برابر ہیں۔

دوسری آئینی رکاوٹ اپوزیشن کی طرف سے یہ بتائی جاتی ہے کہ کوئی شخص مسلسل تین بار صدر پاکستان نہیں بن سکتا۔

جنرل پرویزمشرف نے پہلی بار رفیق تارڑ کو صدارت سے ہٹا کر جون سنہ دو ہزار ایک میں حلف اٹھایا اور دوسری بار سولہ نومبر سنہ دوہزار دو کو پانچ برس کے لیے حلف اٹھایا۔

مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ کا استدلال بھی یہی ہے کہ ’پرویز مشرف دوبار صدارتی عہدے کا حلف اٹھا چکے ہیں اوران کے بقول آئین کے تحت وہ مسلسل تیسری بار حلف نہیں اٹھاسکتے۔‘

مشرف نے پہلی مرتبہ صدر تارڑ کو ہٹا کر صدر کا حلف اٹھایا تھا

فوجی حکمرانی جو آتی ہی آئین کو توڑنے کے بعد ہے اس کے لیے مذکورہ دونوں آئینی رکاوٹیں شائد اتنی اہمیت نہ رکھتی ہوں جتنی اہمیت اس خدشہ کی ہے کہ پرویز مشرف جب بھی صدارتی انتخاب کی بات کریں گے اپوزیشن پارٹیاں اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائیں گی۔

یہ بات ان حالات میں اور بھی اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ایک فوجی صدر دنیا کی نظروں میں اپنا جمہوریت پسند ہونے کا تاثر قائم کرنے کی خواہش رکھتا ہو۔

ادھرصدارتی الیکشن ایک ایسا معاملہ ہے جس کی مخالفت پر بظاہر تمام اپوزیشن متحد دکھائی دے رہی ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور ریٹائرڈ جسٹس ملک قیوم کہتے ہیں کہ’ یہی وہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو پرویز مشرف کواسی اسمبلی سے دوبارہ صدارتی الیکشن سے روک سکتی ہے۔‘

صدر مشرف کا کہنا ہے کہ بے نظیر اور نواز شریف الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے

وہ کہتے ہیں کہ ’اس موقع پر اس سے بھی بڑھ کر یہ ہوسکتا ہے اپوزیشن کےاتحاد مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے وزیراعلی سرحد اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دے دیں جس کے نتیجے میں گورنر کو اسمبلی توڑنی پڑیں کیونکہ وہ وزیر اعلی کی ایڈوائس پر عملدرآمد کے پابند ہوتے ہیں۔‘

پیپلز پارٹی کے آئینی امور کے ماہر رکن قومی اسمبلی نئیر بخاری کہتے ہیں کہ ’الیکٹرول کالج (انتخابی حلقہ) کے نامکمل ہونے کی صورت میں صدارتی انتخاب نہیں ہوسکے گا۔‘

ملک قیوم کہتےہیں کہ ’ایسا کرنے کی کوشش کی بھی گئی تو منتخب ہونے والے صدر کی حثیت متنازعہ رہے گی کیونکہ صدر وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور جب اسی کے انتخاب میں ایک یا دو صوبے ہی شامل نہ ہوں تو پھر وہ خود کو وفاق کا نمائندہ کیسے کہلا سکےگا۔‘

بہرحال ایک صورت یہ بھی ہے کہ خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کروادئیے جائیں تاہم اپوزیشن کے آئینی ماہر کہتے ہیں کہ اگر استعفے صدارتی الیکشن کے نزدیک دیئے گئے تو الیکشن کمشن کے پاس ضمنی انتخاب کا وقت نہیں رہے گا۔

صدر اور قومی اسمبلی کے پانچ برس تقریباً ساتھ ساتھ پورے ہو رہے ہیں ان میں سے صدر کا انتخاب پانچ برس پورے ہونے سے ساٹھ دن قبل پہلے بھی ہوسکتا ہے۔

نئیر بخاری کہتےہی پنتالیس دن کا الیکشن شیڈول ضمنی انتخاب کے لیے چاہیے اور پنتالیس دن کا الیکشن شیڈول عام انتخابات کے لیے درکار ہےجو مجموعی طورپر نوے دن بنتےہیں اس لیے مشرف کو ضمنی انتخابات اور صدارتی الیکشن میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

حکومتی وزاراء کہتےہیں کہ صدر مشرف پندرہ ستمبر سے پندرہ دسمبر تک کبھی بھی صدراتی انتخاب کرواسکتے ہیں تاہم اس کے لیےحکومت کا کیا پلان ہے وہ ابھی واضح طور پر سامنے نہیں آیا۔

لیکن اگر حکومت کامیاب ہوگئی تو سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ایک جمہوری مذاق ہوگا کہ ایک ایسی اسمبلی اگلے پانچ برس کےلیے صدر منتخب کرلے جو خود ایک مہینے کے اندر ختم ہونے والی ہے۔

دوسری طرف نئی وجود میں آنے والی اسمبلی کی کیا حیثیت رہ جائے گی جسے وراثت میں پانچ برس کے لیے باوردی صدر کا تحفہ مل جائے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ابھی کچھ واضح نہیں ہےالبتہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ایک بڑی سیاسی پنجہ آرائی کا آغاز ہوچکا ہے۔

فریقین کو ایک ایک دن بلکہ شاید ایک ایک لمحے کی گنتی کرکے رکھنا ہوگی کیونکہ یہ معاملہ مناسب وقت پر صحیح چال چلنے کا ہے۔

استعفوں کاترپ کا پتہ اپوزیشن کے ہاتھ میں ہے تو پرویز مشرف وہ فوجی بوٹ پہنے ہوئےہیں جو کم از کم پاکستان میں ہر قانون اور ضابطے کو روندنے کی اہلیت رکھتےہیں۔

بہرحال پاکستان میں سیاست نے ایک نئی کروٹ لی ہےسن دو ہزار سات کاسورج یہ دیکھتے ہوئے طلوع ہورہا ہے کہ پاکستان کی سیاست کا محور صدراتی الیکشن بن چکے ہیں۔

اسی بارے میں
اسلام آباد ڈائری
26 December, 2006 | پاکستان
وردی ابھی نہیں اترےگی : مشرف
06 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد