BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 December, 2006, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد ڈائری

اشتہار
اگلے روز وزیر اعظم کی تصویر کو اشتہار سے نکال دیا گیا تھا
پاکستان کے دارالحکومت میں اِن دنوں ’رھبرِ ترقی و کمال‘ کے عنوان سے بیشتر اخبارات میں شائع ہونے والے سرکاری اشتہار کا جہاں چرچا ہے وہاں پارلیمانی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی کی جانب سے وزیراعظم کے جلسے کا بائیکاٹ کرنے اور شہر میں مرغی سے ٹماٹر کے مہنگے داموں فروخت پر تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔

حکومت نے بانیِ پاکستان محد علی جناح کے یوم ولادت کی مناسبت سے بائیس دسمبر کی کئی اخبارات میں نصف صفحے پر مبنی ایک رنگین اشتہار ’رھبرِ ترقی و کمال‘ کے عنوان سے شایع کرائے ۔ ان میں اوپر قائد اعظم اور نیچے صدر جنرل پرویز مشرف کی تصاویر شائع کی گئی ہیں۔

لیکن جب تئیس دسمبر کی اخبارات میں یہ اشتہار شائع ہوا تو اس میں وزیراعظم شوکت عزیز کی تصویر بھی ’رھبرِ ترقی و کمال‘ میں صدر کے ساتھ نظر آئی۔ جب چوبیس مارچ کی اشاعت کے لیے یہ اشتہار جاری ہوا تو بعض اعلیٰ حکومتی اہلکاروں نے یہ اشتہار رکوانے کی کوشش کی اور بعض اخبارات کے شعبہ اشتہارات کو اس بارے میں فون بھی موصول ہوئے۔

لیکن بعد میں انہیں وہ ہی اشتہار شائع کرنے کی اجازت مل گئی اور ویسے بھی پاکستانی اخبارات کو جاری کردہ خبر کی نسبت اشتہار رکوانا قدرِ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جب یہی اشتہار پچیس دسمبر کو مختلف اخبارات میں شائع ہوا تو ’رھبرِ ترقی و کمال‘ میں سے وزیراعظم کی تصویر غائب تھی۔

 جب تئیس دسمبر کی اخبارات میں یہ اشتہار شائع ہوا تو اس میں وزیراعظم شوکت عزیز کی تصویر بھی ’رھبرِ ترقی و کمال‘ میں صدر کے ساتھ نظر آئی۔ جب چوبیس مارچ کی اشاعت کے لیے یہ اشتہار جاری ہوا تو بعض اعلیٰ حکومتی اہلکاروں نے یہ اشتہار رکوانے کی کوشش کی اور بعض اخبارات کے شعبہ اشتہارات کو اس بارے میں فون بھی موصول ہوئے

اس بارے میں جب معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ صدارتی کیمپ آفس کے بعض افسران کو وزیراعظم کی تصویر کی اشاعت پر اعتراض تھا۔ کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ’رھبر‘ ایک ہی ہو۔

تاہم حکومت کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر چوہدری رشید کا کہنا ہے کہ یہ غلط ہے۔ ان کہ مطابق ایسا نہیں تھا کہ کسی کو وزیرِ اعظم کی تصویر پر اعتراض تھا بلکہ یہ اشتہار ڈیزائن ہی اس طرح کیا گیا تھا۔

دوسری طرف پاکستان کی حزب مخالف کی جماعتیں جو پہلے ہی صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جلسے جلوسوں میں اپنے حامیوں کے لیے ووٹ مانگنے پر اعتراض کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتی رہیں ہیں انہوں نے سرکاری اشتہارات کے ذریعے حکومتی کارکردگی پر مبنی اشتہارات کی اشاعت پر حکومت پر تنقید کرنا شروع کردیا۔

حزب مخالف کی جماعتوں کا اتحاد ’اے آر ڈی‘ ہو یا متحدہ مجلس عمل دونوں کے رہنما حکومت پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ صدر کے منصب کا آئینی تقاضا ہے کہ وہ غیر جانبدار ہیں۔

لیکن حکومت ان کا موقف رد کرتی رہی ہے اور پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی ہوں یا وزیر اطلاعات محمد علی درانی وہ واضح کرچکے ہیں کہ صدر کا عہدہ سیاسی ہے اور انہیں منتخب ہی سیاسی جماعت کرواتی ہے تو وہ ان کے لیے ووٹ کیسے نہیں مانگ سکتے؟

صدر جنرل پرویز مشرف نے چند ماہ قبل جب شمالی علاقہ جات میں ایک جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ عوام اگر پاکستان میں ترقی چاہتے ہیں تو وہ ان کے حامیوں کو ووٹ دیں۔ لیکن اس کے چند روز بعد ایک نیوز کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا تھا کہ آئین کے مطابق صدر مملکت کسی سیاسی جماعت کی انتخابی مہم نہیں چلاسکتے۔

ایسی صورتحال کے بعد بھی صدر صاحب نے پاکستان کے مختلف شہروں میں جلسے جاری رکھے لیکن وہ عوام کو اپنے حامیوں کے بجائے روشن خیال اور ترقی پسند سوچ رکھنے والوں کو ووٹ دینے اور مذہبی انتہا پسند سوچ رکھنے والے ان کے بقول عناصر کو رد کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔

پاکستان میں آئندہ برس متوقع عام انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے جہاں امریکہ دلچسپی لے رہا ہے وہاں یورپی یونین اور دولت مشترکہ بھی لاتعلق نظر نہیں آتے۔ یورپی یونین کے وفد نے گزشتہ دنوں صدر سے شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے متعلق تفصیلی بات کی اور بعد میں نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ اگر عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو یورپی یونین اقتصادی پابندیاں بھی لگا سکتا ہے۔

مغرب کی جانب سے آئندہ عام انتحابات کو شفاف بنانے کے بیانات کا حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کے رہنما یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ ان کے بیانات اس بات کا اقرار ہے کہ سن دوہزار دو کے عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔ لیکن حکومت ان کے اِس تاثر کو رد کرتی ہے۔

ایسے پس منظر میں صدر جنرل پرویزمشرف کی جانب سے صوبہ پنجاب کے بعض شہروں میں حالیہ جلسوں اور حکومت کی کارکردگی پر مبنی سرکاری اشتہارات کے تواتر کے ساتھ اجراء پر بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر نےآئندہ سال کے انتخابات کے لیے ابھی سے انتحابی مہم شروع کردی ہے۔

اسلام آباد میں گزشتہ چند روز سے مرغی پچاس روپے اور ٹماٹر ساٹھ روپے فی کلو گرام فروخت ہو رہے ہیں جبکہ آلو اور پیاز کی قیمتیں بھی کافی بڑھی ہیں لیکن مرغی کی قیمت سے قدرِ کم ہیں۔ کھانے پینے کی ان عام اشیاء کی قیمتوں پر اضافے سے جہاں غریب اور متوسط طبقوں کے لوگ پریشان ہیں وہاں اس کا احساس حکومت کو بھی ہے اور وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق وہ آلو، پیاز، اور ٹماٹر وغیرہ اپنے پڑوسی ملک بھارت سے درآمد کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ صارفین کو سستے دام یہ اشیاء مل سکیں۔

 وزیراعظم شوکت عزیز دریائے سندھ پر میاونوالی ضلع میں واقع جناح بیراج پر ایک پن بجلی کے منصوبہ کا افتتاح کرنے گئے تو پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی اور ضلع ناظم نے جلسے کا بائیکاٹ کیا اور کہا کہ وہ جلسہ عوامی نہیں تھا بلکہ نائب قاصدوں اور کلرکوں کا جلسہ تھا۔

آخر میں اب ذکر ایک وزیر کی جانب سے وزیراعظم کے جلسے کے بائیکاٹ کرنے کا۔ ہوا یہ کہ وزیراعظم شوکت عزیز دریائے سندھ پر میاونوالی ضلع میں واقع جناح بیراج پر ایک پن بجلی کے منصوبہ کا افتتاح کرنے گئے تو پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی اور ضلع ناظم نے جلسے کا بائیکاٹ کیا اور کہا کہ وہ جلسہ عوامی نہیں تھا بلکہ نائب قاصدوں اور کلرکوں کا جلسہ تھا۔

چودھری شجاعت حسین نے جب اس کا نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹر شیرافگن سے جواب طلبی کرنے کا بیان جاری کیا تو شیر افگن نے کہا کہ وہ شجاعت کے عاشق ہیں اور نہ محبوب اس لیے وہ انہیں جوابدہ نہیں۔

ڈاکٹر شیرافگن نیازی جو میانوالی سے منتحب تو بینظیر بھٹو کی سربراہی میں قائم پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ہوئے تھے لیکن بعد میں وہ ’پیٹریاٹ‘ میں شامل ہوکر حکومت کا حصہ بنے۔ لیکن گزشتہ دنوں فیصل صالح حیات اور آفتاب شیر پاؤ کے ادغام کے بعد قائم کردہ پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہوکر بمعرفت صدرِ مملکت بہت جلد حکمران مسلم لیگ میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

جب انہوں نے وزیراعظم کے جلسے کا بائیکاٹ کیا تو حافظ حسین احمد نے بیان داغا کہ ’شیر افگن نیازی نے سیاسی بے وفائی کی ہیٹ ٹرک مکمل کرلی ہے۔‘

جنرل مشرف’کمال کے اشتہارات‘
وزیر اعظم کو اشتہارات میں سے غائب کر دیا گیا
اسی بارے میں
لوگ جھوٹ بولتے ہیں: مشرف
31 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد