BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 October, 2006, 15:30 GMT 20:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لوگ جھوٹ بولتے ہیں: مشرف

مشرف نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں تعینات فوج میں کمی کی گئی ہے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ باجوڑ میں مارے جانے والے معصوم افراد نہیں بلکہ عسکریت پسند طالبان تھے جو کہ عسکری تربیت میں مصروف تھے۔

یہ بات انہوں نے منگل کے روز ’جنوبی ایشیا میں سلامتی کے غیر روایتی پہلو‘ کے عنوان سے منعقد کردہ دو روزہ سیمینار کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔

صدر نے کہا کہ مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کا جب حکومت کو پتہ چلا تو انہیں ایسا کرنے سے روکا گیا تھا لیکن جب وہ باز نہیں آئے تو سیکورٹی فورسز نےکارروائی کی۔

مقامی لوگوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کچھ بچے بھی شامل ہیں

واضح رہے کہ باجوڑ میں ایک مدرسے پر پیر کو فجر کے وقت کی گئی بمباری سے اسی افراد ہلاک کیے جانے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ صدرِ مملکت نے اس پر کھل کر بیان دیا ہے۔

صدر نے سخت لہجے میں کہا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ باجوڑ میں مارے جانے والے معصوم ہیں تو وہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں کہیں بھی کسی کو حکومت کی رٹ کو چیلینج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ان کے بقول جب ایسے عناصر کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ صرف طاقت کے استعمال سے حل ممکن نہیں اور اس کے لیے سیاسی عمل اور بات چیت کی بھی ضرورت ہے۔

باجوڑ میں یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ تھا
ان کے بقول وہ قبائلی علاقوں میں معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جہاں بھی عسکریت پسند ہوں گے ان کے خلاف فوجی کارروائی بھی کی جائے گی۔

صدر نے بتایا کہ پاکستان فوج کے پاس جدید اور تباہ کن اسلحہ کی موجودگی کی وجہ سے فوج کی تعداد میں پچاس ہزار کمی کی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اب فوجی کی تعداد کتنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی پوری دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ان کے مطابق جب تک مسئلہ کشمیر سمیت دنیا کے تنازعات ختم نہیں ہوتے اس وقت تک روایتی سلامتی کے خطرات موجود رہیں گے۔

یہ سیمینار ’انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز‘ اور ’نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈیولپمینٹ‘ نے منعقد کیا ہے جو بدھ کو ختم ہوگا۔

منگل کے روز سیمینار سے بھارت سمیت مختلف ممالک کے ریٹائرڈ فوجی جرنیل، ماہرین اور سابق سفارتکاروں نے بھی محتلف موضاعات پر اپنے مقالے پڑھے۔

اسی بارے میں
باجوڑ: منگل کو یوم احتجاج
30 October, 2006 | پاکستان
بمباری: حکومت مخالف مظاہرے
31 October, 2006 | پاکستان
’حملہ امریکیوں نے کیا ہے‘
31 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد