BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 October, 2006, 08:57 GMT 13:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بمباری: حکومت مخالف مظاہرے

باجوڑ
باجوڑ میں صحافیوں اور سیاسی قائدین کے داخلے پر پابندی بدستور قائم ہے

باجوڑ ایجنسی کے علاقے خار میں گزشتہ روز فوجی بمباری سے اسی افراد کی ہلاکت پر احتجاج کرتے ہوئے ہزاروں قبائلیوں نے مظاہرہ کیا اور سینکڑوں رضا کاروں نے افغانستان کےاندر اتحادی فوج پر خود کش حملے کرنے کے لیے اپنے نام پیش کیئے۔

باجوڑ کے علاوہ بھی ملک بھر میں مدرسے پر بمباری کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

باجوڑ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے سنینٹر عبدالرشید اور رکن قومی اسمبلی مولانا محمد صادق نے اپنی نشتوں سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا۔

مدرسے پر بمباری سے اسی افراد کی ہلاکتوں کے خلاف جماعت اسلامی نے بھی منگل کو یوم مذمت منانے کا اعلان کیا تھا جبکہ جعمیت علماء اسلام، جماعت الدعوہ اور حقوق انسانی کے لیئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیمیں بھی پرامن احتجاج میں پیش پیش رہیں۔

سرحد اسمبلی نے بھی متفقہ قرار داد میں وفاقی حکومت کی پالیسوں کو پختون دشمن قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

باجوڑ میں ہونے والے احتجاجی جلسے میں شریک ہزاروں کی تعداد میں قبائیلوں نے ’جہاد جاری رکھنے اور شہیدوں کے لہو کا انتقام لینے کا عہد کیا ہے۔‘

ٹانک میں جعمیت علما اسلام کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے مظاہرے کی قیادت کی اور باجوڑ پر حکومتی بیان کو غلط بیانی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس احتجاج کو جاری رکھا جائے گا۔

القاعدہ سے تعلق کے شبہے میں حکومت کو مطلوب مولانا فقیر محمد کی قیادت میں ہونے والے جلسے میں بھی کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

مولانا فقیر محمد نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ امن معاہدے پر پہنچ چکے تھے جس کے تحت گزشتہ روز ان کے نو ساتھیوں کو رہا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ اس معاہدے پر اب بھی قائم ہیں۔

جلسے کے منتظمین نے اعلان کیا کہ اتحادی فوج کے لیئے جاسوسی کرنے والوں کو سرے عام پھانسی دی جائے گی اور ان کے گھروں کو نذر آتش کر دیا جائے گا۔

مولانا فقیر محمد نے خار میں کارروائیوں کو بزدلانہ فعل قرار دیتے ہوئے پاکستانی فوج کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے قبائلی علاقوں میں تعینات خاصہ دار فوج سے اپنی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا۔

متحدہ مجلسِ عمل کے رہنما قاضی حسین احمد جنہوں نے پیر کو دعویٰ کیا تھا کہ خار میں حملہ پاکستانی فوج نے نہیں بلکہ امریکہ نے کیا تھا، باجوڑ پہنچنے کی کوشش ک رہے ہیں تاکہ اعلان کردہ یومِ احتجاج کی قیادت کر سکیں۔

اے پی کے مطابق خار کے گرد و نواج میں لاؤڈ سپیکروں پر پشتو زبان میں لوگوں کو ’جہاد‘ کرنے کے لیے کہا گیا اور گزشتہ روز کی بمباری میں لوگوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی گئی۔

خار کے گرد و نواح میں لاؤڈ سپیکروں پر ’جہاد اور انتقام‘ کا عہد کیا گیا

مولانا روح الامین نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے: ’ہم شہدا کے خون کا انتقام لیں گے۔ کفر کی طاقتیں ہمارے وجود کو مٹانے کے درپے ہیں۔‘

پشاور میں ایم ایم اے نے نمک منڈی، طلبہ تنظیم آئی جے ٹی نے جی ٹی روڈ، جماعت الدعوہ نے فوارہ چوک اور غیرسرکاری تنظیموں نے پشاور پریس کلب کے سامنے مظاہرے کئے۔

پشاور میں ہی صوبائی اسمبلی نے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی جس میں وفاقی حکومت کی باجوڑ میں کارروائی کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔ اراکین نے حکومت پر پختون دشمن پالیسی پر کام کرنے کا بھی الزام لگایا۔

بعض اراکین نے افواج پاکستان کے ترجمان شوکت سلطان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں واحد احتجاج کا اہتمام جماعت اسلامی نے کیا۔ ایمپریس مارکیٹ کے اس احتجاج میں ڈھائی تین سو مظاہرین نے امریکی پرچم نذر آتش کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں سرعام سزائیں دینے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کی قیادت پروفیسر غفور احمد نے کی۔

اسلام آباد، کراچی اور پشاور میں مظاہرین کی تعداد منتظمین کی توقعات سے کم رہی

کوئٹہ میں جماعت اسلامی اور ژوب میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے مظاہرے ہوئے۔ ژوب میں مظاہرے کی قیادت دینی اتحاد کے صوبائی امیر مولانا محمد شیرانی نے کی۔ کوئٹہ میں مظاہرین نے امریکی پرچم نذر آتش کیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کا اہتمام جماعت اسلامی نے کیا۔ مظاہرین نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر ’امت مسلہ کے قتل سے مشرف کو رسوائی ملی’ اور ’مشرف امریکی ایجنٹ’ جیسی عبارتیں درج تھیں۔

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں علی سلمان کا کہنا ہے کہ احتجاج میں شرکا کی تعداد قدرے کم رہی۔ لاہور میں جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام چار احتجاجی مظاہرے ہوئے لیکن کسی بھی مظاہرے کے شرکاء کی تعداد ایک سو سے زائد نہیں تھی۔

اسلامی جمعیت طلبہ کے زیراہتمام تین مظاہرے تعلیمی اداروں کے اندر ہوئے جبکہ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس مظاہرے میں چند درجن افراد شریک تھے جنہوں نے مختلف پوسٹر اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر باجوڑ حملے کے خلاف جملے لکھے تھے۔ جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے حکومت مخالف نعروں کے دوران خطاب کیا اور اس واقعے کے ذمہ دار افراد کو سزائیں دینے کا مطالبہ کیا۔

باجوڑ ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرےباجوڑ ہلاکتیں
مجلس عمل کی کال پر احتجاجی مظاہرے
قبائلی علاقے کے لوگباجوڑ میں کیا دیکھا
’ملبہ، مرے ہوئے مویشی اور تازہ قبریں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد