BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 January, 2006, 16:40 GMT 21:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ کے حالات کا آنکھوں دیکھا حال
وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے
باجوڑ میں ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا گیا
بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید نے باجوڑ ایجنسی پر حملے کے بعد علاقے کا دورہ کیا ہے اور علاقے کا آنکھوں دیکھا حال انہوں نے کچھ یوں بیان کیا ہے:

’باجوڑ ایجنسی میں ہیڈکوارٹر خار سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں ڈمہ ڈولا میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت پر لوگوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔

باجوڑ میں حملہ کے مقام پر تین مکانوں کا ملبہ اور مرے ہوئے مویشی پڑے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں جائے وقوعہ پر آ رہے ہیں تاکہ اصل واقعات اور حالات کا پتہ چل سکے۔

مقامی حکام اس وقت تک سولہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر رہے ہیں جبکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اٹھارہ ہے۔

تباہ ہونے والے مکانات کے قریب ہی ایک کھیت میں تیرہ تازہ قبریں دیکھی جا سکتی ہیں جبکہ باقی پانچ قبروں کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں تدفین کے لیے ان کے آبائی دیہاتوں میں لے جایا گیا ہے۔

مرنے والے زیادہ تر لوگ اور ان کے لواحقین زرگر ہیں اور ان کا خار کے بازار میں سونے کا کاروبار ہے۔ اس کے علاوہ ان کا ذریعہ معاش چھوٹے پیمانے پر کھیتی باڑی بھی ہے۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس جگہ پر بارہ برس سے رہائش پذیر ہیں اور وہ نہ تو افغانی ہیں اور نہ ہی ان کی افغانستان میں کوئی رشتہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا القاعدہ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ حملے کے دن نہ تو ان کے علاقے میں کوئی افغانی موجود تھا اور نہ ہی کوئی مہمان آیا ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ایمن الظواہری سمیت کوئی بھی غیر ملکی شہری موجود نہیں ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا یہ واقعہ کسی حملے کا نتیجہ ہے یا ان گھروں میں پہلے سے موجود بارود پھٹا ہے۔ ان حالات میں باجوڑ ایجنسی میں لیویز کی ایک بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔

علاقے میں ان ہلاکتوں کے خلاف شدید غم و غصہ ہے اور سینچر کے روز مذہبی جماعتوں نے اس واقعے کے خلاف احتجاجی جلسہ بھی منعقد کیا ہے۔

اس موقع پر مظاہرین نے سی ڈیز فروخت کرنے والی دکانوں پر پتھراؤ کیا اور امریکی امداد سے چلنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے دفتر کو آگ لگا دی۔ مظاہرین اس دفتر کا سامان بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

ماضی میں اس علاقے میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کا بہت مضبوط تھی تاہم گیارہ ستمبر کے بعد حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔

یہ علاقہ سوات اور دیگر جگہوں سے افغانستان جانے کے لیے ایک گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے اور یہاں سے افغانستان کے برف پوش پہاڑ سامنے دکھائی دیتے ہیں۔

علاقے کے زیادہ تر خاندانوں کے افراد کراچی میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور باقی لوگ معمولی کاروبار اور کھیتی باڑی کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد