باجوڑ بمباری پر شدید احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قبائلیوں نے باجوڑ ایجنسی پر حملے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ اس حملے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ باجوڑ کے ایک گاؤں ڈمہ ڈولا میں ایک مبینہ امریکی فضائی حملے میں اٹھارہ افراد کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس حملے کا ٹارگٹ القاعدہ کے اہم رہنما ایمن الظواہری تھے، جن کے بارے میں قیاس تھا کہ وہ باجوڑ کے کسی علاقے میں روپوش ہیں۔ باجوڑ کے ایک اہم قصبہ کھر کے ایک سٹیڈیم میں ہفتے کے روز قریباً پانچ ہزار افراد نے یہ احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ یہ علاقہ ڈمہ ڈولا گاؤں کے نزدیک ہے۔ اسی دوران کچھ مظاہرین نے ایوسی ایٹڈ ڈویلپمنٹ کنسٹرکشن نامی ایک غیر سرکاری ادارے کے دفتر کو نذر آتش کردیا۔ اس ادارے کو امریکی ایجنسی فنڈز مہیا کرتی ہے۔ ایک سائیٹ انجینیئر فضل محمود نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’جمہ کے حملے کے خلاف احتجاج کے طور پر قبائلیوں نے ہمارے آفس کو آگ لگادی جس سے ان دفاتر کو شدید نقصان پہنچا ہے‘۔ اس سے قبل امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ ایمن الظواہری جمعے کے حملے میں شاید ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم حکومت پاکستان نے امریکی ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی سے ہفتے کی صبح بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی اس خبر کی تصدیق یا تردید کرنے سے قاصر ہیں کہ آیا حملے کے وقت اس علاقے میں الظواہری موجود تھے بھی یا نہیں۔ تاہم دیگر پاکستانی حکام کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ انہوں نے ڈمہ ڈولا گاؤں میں ایمن الظواہری کی موجودگی کی تردید کی ہے۔ گاؤں کے افراد کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد ہی مقامی تھے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایسا کوئی فضائی حملہ کرنے کی تردید کی ہے۔ باجوڑ ایجنسی کے مقامی باشندوں کا اس واقعے کے بارے میں کہنا تھا کہ جمعہ کی رات ایک سرحدی گاؤں میں امریکی افواج کی بمباری کے نتیجے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔ پہلے مقامیوں کا کہنا تھا کہ یہ حملہ جمعہ کی صبح سرحد پار افغانستان کی سرزمین سے راکٹوں کے ذریعے کیا گیا ہے تاہم وہاں موجود حکام نے اس کی تردید کردی تھی۔ سرکاری طور پر ان ہلاکتوں کی تعداد اور وجہ کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال ابھی بھی پوری طرح واضح نہیں ہے۔ رات تین بجے کے لگ بھگ فضا سے داغے جانے والے راکٹوں سے باجوڑ ایجنسی کے ڈمہ ڈولا گاؤں کے تین مکانات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
تاہم باجوڑ کے صدر مقام خار میں ذرائع کا کہنا تھا کہ انہیں اندیشہ تھا ہلاکتوں کی تعداد اٹھارہ سے زیادہ تھی۔ مزید پانچ افراد کی ہلاکت کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اب غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ان پانچ افراد کی لاشیں امریکی فوجی حملے کے بعد ساتھ لے گئے تھے۔ علاقے کے ایک مقامی شاہ زمان کا کہنا ہے ’اس حملے میں میرے دو بیٹے اور اور ایک بیٹی ہلاک ہوگئے ہیں۔ میں دوڑ کر باہر آیا اور میں نے طیارے دیکھے۔ میں اپنی بیوی کو لے کر ایک قریبی پہاڑی کی طرف چلا گیا۔ تب میں نے مزید تین دھماکے سنے۔ میں نے دیکھا کہ میرے گھر کو تباہ کردیا گیا ہے‘۔ ’مجھے نہیں معلوم کہ یہ حملہ کس نے اور کیوں کیا؟ ہم پر حملہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ہم تو قانون کی پاسداری کرنے والے لوگ ہیں‘۔ ڈمہ ڈولا کا تقریبا چالیس ہزار افراد پر مشتمل پہاڑی علاقہ افغان سرحد سے تقریبا پچیس کلومیٹر دور ہے۔ پاکستان کے ایک خفیہ ادارے کے ایک اہلکار نے رائیٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ ماضی میں یہ علاقہ کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کا گڑھ بتایا رہا ہے۔ ادھر باجوڑ میں جماعت اسلامی کے ایک ترجمان نے اس حملے میں کسی غیرملکی کے ہلاک ہونے کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے تمام لوگ مقامی تھے۔ افغانستان میں امریکہ کے تقریباً بیس ہزار فوجی تعینات ہیں تاہم پاکستان انہیں سرحد پار کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتا۔ پاکستان نے سرحدی علاقے میں اپنے قات ہزار فوجی تعینات کررکھے ہیں۔ |
اسی بارے میں القاعدہ کا ’سربراہ‘ اجلاس16 August, 2004 | پاکستان امریکہ: مطلوب افراد کی فہرست 14 January, 2005 | پاکستان ’قاتلانہ حملوں میں القاعدہ کا ہاتھ‘15 March, 2004 | پاکستان القاعدہ سے تعلق، گھر مسمار20 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||