BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 January, 2006, 03:28 GMT 08:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ حملے کا نشانہ ایمن الظواہری؟

ایمن الظواہری کی ہلاکت کی ایسی ہی ایک خبر چند سال قبل وزیرستان کے علاقے سے بھی آئی تھی۔
امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے القاعدہ کے اہم رہنما ایمن الظواہری پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں جمعے کے روز حملے میں شاید ہلاک ہوچکے ہیں۔

تاہم حکومت پاکستان نے امریکی ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کی فل الحال تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی سے ہفتے کی صبح بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی اس خبر کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کل رات تک ان کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں تھی۔

باجوڑ ایجنسی کے مقامی باشندوں کا اس واقعے کے بارے میں کہنا تھا کہ جمعے کی رات ایک سرحدی گاؤں میں امریکی افواج کی بمباری کے نتیجے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔

سرکاری طور پر ان ہلاکتوں کی تعداد اور وجہ کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال ابھی بھی پوری طرح واضع نہیں ہے۔ رات تین بجے کے لگ بھگ فضا سے داغے جانے والے راکٹوں سے باجوڑ ایجنسی کے ڈمہ ڈولا گاؤں کے تین مکانات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

باجوڑ ایجنسی کے ڈمہ ڈولا گاؤں کے تین مکانات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
لیکن اب امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ حملہ سی آئی اے نے ایمن کے اس علاقے میں موجود ہونے کی ’معلومات’ کی بنیاد پر کیا تھا۔ اب ان ہلاکتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا اب اس ہلاکت کے بعد ردعمل حملوں کے خطرے کی بات بھی کر رہے ہیں۔

تاہم باجوڑ کے صدر مقام خار میں ذرائع کا کہنا تھا کہ انہیں اندیشہ تھا ہلاکتوں کی تعداد اٹھارہ سے زیادہ تھی۔ مزید پانچ افراد کی ہلاکت کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اب غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ان پانچ افراد کی لاشیں امریکی فوجی حملے کے بعد ساتھ لے گئے تھے۔

ڈمہ ڈولا کا تقریبا چالیس ہزار افراد پر مشتمل پہاڑی علاقہ ماضی میں کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کا گڑھ بتایا جاتا ہے۔ یہ افغان سرحد سے تقریبا پچیس کلومیٹر دور ہے۔ اس گاؤں میں مامون قبیلہ آباد ہے۔

ادھر باجوڑ میں جماعت اسلامی کے ایک ترجمان نے اس حملے میں کسی غیرملکی کے ہلاک ہونے کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے تمام لوگ مقامی تھے۔

ایمن الظواہری کی ہلاکت کی ایسی ہی ایک خبر چند سال قبل وزیرستان کے علاقے سے بھی آئی تھی جو بعد میں غلط ثابت ہوئی تھی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں کسی ’ہائی ویلیو’ ٹارگٹ کی ہلاکت کی بات کی جس پر امریکی میڈیا نے اسے ایمن الظواہری تعبیر کیا تھا۔

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گزشتہ ایک برس کی خاموشی کے دوران ایمن الظواہری ہی مختلف مواقع پر امریکہ مخالف بیانات جاری کر رہے تھے۔ اس وجہ سے ان کی ہلاکت کی خبر کو کافی اہم تعبیر کیا جا رہا ہے۔

ایمن الظواہری کا تعلق مصر سے ہے اور پیشے کے اعتبار سے وہ ڈاکٹر تھے۔

وانا میں کیا کھویا؟
وانا میں حکومت کی ’ کامیابی‘ پر شبہات
تباہ شدہ مکانالقاعدہ یا عام شہری
کیا وانا میں ہلاک ہونے والے القاعدہ کے رکن تھے؟
طیارہ یا کھلونا
’ڈرون‘ کے بارے میں جنرل کا مضحکہ خیز دعویٰ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد