القاعدہ سے تعلق، گھر مسمار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں جمعہ کے روز مسلح لشکر نے ان دو افراد کے مکانات نذر آتش اور منہدم کر دیے جن پر القاعدہ کے مشتبہ افراد کو پناہ دینے کا الزام تھا۔ یہ کارروائی باجوڑ میں سیوائے کے علاقے میں مولانا محمد امین اور چوپترا میں مولانا فقیر محمد کے مکانات کے خلاف کی گئی۔ موقعے پر موجود افراد نے بتایا کہ تقریبًا ایک ہزار افراد پر مشتمل مسلح لشکر نے ان مکانات کو آگ لگائی اور بعد میں گرا دیا۔ تاہم اس دوران کسی قسم کی کوئی مزاحمت سامنے نہیں آئی۔ اس موقعہ پر لشکر کے سربراہ ملک شاہ جہان نے کہا کہ وہ حکومت کے کہنے پر یہ کارروائی بغیر کسی ثبوت کے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بعد میں تحقیقات کے ذریعے یہ لوگ بے قصور ثابت ہوئے تو ان کی صلاح بھی کرائی جا سکتی ہے۔ اس ماہ کی چار تاریخ کو سیکورٹی دستوں نے ان دو مکانات پر چھاپے مارے تھے۔ سرکاری سطح پر تو ان میں کی جانے والی گرفتاریوں کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا تاہم اخبارات میں مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ گرفتار ہونے والے گیارہ افراد میں غیرملکی بھی شامل تھے۔ ان میں ایک ازبک باشندہ بھی بتایا جاتا ہے۔ بعد میں ایک جرگے نے ان افراد کے مکانات مسمار کرنے کے علاوہ ان پر دس دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ تاہم ان افراد نے اخباری بیانات میں کسی غیرملکی کو پناہ دینے کی تردید کی تھی۔ دونوں ابھی روپوش ہیں۔ ادھر صوبہ سرحد کے جنوبی شہر بنوں میں پولیس کا کہنا ہے اس نے تین افراد کو جن میں سے ایک پر کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا رکن ہونے کا شک ہے شہر کے چھاونی کے علاقے پر راکٹ داغنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے افسر عابد علی کے مطابق ان سے اسلحے کے علاوہ راکٹ بھی برآمد کئے گئے ہیں۔ ان افراد کو جمعرات کے صبح ایک نیا راکٹ داغنے کی تیاری کرتے ہوئے پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ بنوں شہر پر جنوبی وزیرستان میں گزشتہ برس جاری فوجی کارروائیوں کے دوران بنوں میں یہ راکٹ حملے ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||