BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 May, 2005, 16:51 GMT 21:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
القاعدہ سے تعلق، گھر مسمار

فائل فوٹو
قبائلی علاقوں میں القاعدہ سے ہمدردی رکھنے والوں کے خلاف کافی عرصے سے کارروائی کی جا رہی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں جمعہ کے روز مسلح لشکر نے ان دو افراد کے مکانات نذر آتش اور منہدم کر دیے جن پر القاعدہ کے مشتبہ افراد کو پناہ دینے کا الزام تھا۔

یہ کارروائی باجوڑ میں سیوائے کے علاقے میں مولانا محمد امین اور چوپترا میں مولانا فقیر محمد کے مکانات کے خلاف کی گئی۔ موقعے پر موجود افراد نے بتایا کہ تقریبًا ایک ہزار افراد پر مشتمل مسلح لشکر نے ان مکانات کو آگ لگائی اور بعد میں گرا دیا۔

تاہم اس دوران کسی قسم کی کوئی مزاحمت سامنے نہیں آئی۔

اس موقعہ پر لشکر کے سربراہ ملک شاہ جہان نے کہا کہ وہ حکومت کے کہنے پر یہ کارروائی بغیر کسی ثبوت کے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بعد میں تحقیقات کے ذریعے یہ لوگ بے قصور ثابت ہوئے تو ان کی صلاح بھی کرائی جا سکتی ہے۔

اس ماہ کی چار تاریخ کو سیکورٹی دستوں نے ان دو مکانات پر چھاپے مارے تھے۔ سرکاری سطح پر تو ان میں کی جانے والی گرفتاریوں کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا تاہم اخبارات میں مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ گرفتار ہونے والے گیارہ افراد میں غیرملکی بھی شامل تھے۔ ان میں ایک ازبک باشندہ بھی بتایا جاتا ہے۔

بعد میں ایک جرگے نے ان افراد کے مکانات مسمار کرنے کے علاوہ ان پر دس دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

تاہم ان افراد نے اخباری بیانات میں کسی غیرملکی کو پناہ دینے کی تردید کی تھی۔ دونوں ابھی روپوش ہیں۔

ادھر صوبہ سرحد کے جنوبی شہر بنوں میں پولیس کا کہنا ہے اس نے تین افراد کو جن میں سے ایک پر کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا رکن ہونے کا شک ہے شہر کے چھاونی کے علاقے پر راکٹ داغنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے افسر عابد علی کے مطابق ان سے اسلحے کے علاوہ راکٹ بھی برآمد کئے گئے ہیں۔ ان افراد کو جمعرات کے صبح ایک نیا راکٹ داغنے کی تیاری کرتے ہوئے پولیس نے گرفتار کیا ہے۔

بنوں شہر پر جنوبی وزیرستان میں گزشتہ برس جاری فوجی کارروائیوں کے دوران بنوں میں یہ راکٹ حملے ہوئے تھے۔

66عبداللہ محسود کون؟
گونتانامو کا سابق اسیر پھر میدان جنگ میں
66 گوریلا جنگ جاری
پاکستان فوج کو گوریلا جنگ کا سامنا ہے۔
66شیخ رشید کا کہا
’اسامہ کی حالیہ ٹیپ کی سی ڈی وانا میں بنی تھی‘
66صحافت کی چاندی
وانا کے صحافی دنیا کو پل پل کی خبریں دےرہے ہیں
665 کروڑ کہاں گئے؟
’ہمیں کچھ نہیں ملا‘: سرداروں کا شکوہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد