جاسوسی طیارہ یا کھلونا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج کا القاعدہ کے حامیوں کے خلاف آپریشن کے دوران برآمد کیے جانے والا کھلونے نما ’ڈرون‘ یعنی ریموٹ سے چلنے والا چھوٹا جاسوسی طیارے سے ملتے جلتے کھلونے اسلام آباد میں دستیاب ہیں۔ پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین کا ’ڈرون، برآمد کرنے کے دعوے کے بارے میں شکوک شبہات تو پہلے ہی ظاہر کیے جا رہے تھے جس سے ان کا دعویٰ ایک معمہ بن گیا تھا۔لیکن اب وہ دعویٰ مضحکہ خیز بنتا جارہا ہے۔ اسلام آْباد کی ’سپر مارکیٹ‘ میں کھلونوں کی دوکانوں پر کور کمانڈر کے دکھائے گئے ریموٹ کنٹرول طیارے سے ملتے جلتے چین کے بننے ہوئے پیلے رنگ کے طیارے فروخت ہورہے ہیں۔ ایک دکان کے سیلز مین یونس خان نے بتایا کہ ڈیڑھ سو میٹر کی بلندی تک پرواز کی صلاحیت رکھنے والا یہ طیارہ برقی بیٹری چارج کرنے کے بعد مسلسل بیس منٹ تک پرواز کرسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پینتیس سو روپوں میں بکنے والا یہ ریموٹ کنٹرول طیارہ بڑا نازک ہوتا ہے اور کوئی وزن نہیں اٹھا سکتا۔ ایک اور دکان کے سیلز مین محمد زرین نے ایک اور ساخت کا ریموٹ کنٹرول سے چلنے والا طیارہ دکھایا اور کہا کہ اس کی قیمت اڑتیس سو روپے ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے قدرِ بڑی ساخت کے طیارے بھی دیگر بازار میں فروخت ہورہے ہیں۔ محمد زرین نے بتایا کہ اسلام آباد کے فاطمہ جناح پارک میں بچے چھٹی کے روز یہ طیارے اڑاتے ہیں۔ ان کے مطابق بیس سے پچیس ہزار روپوں کا ایک اور ریموٹ کنٹرول طیارہ آتا ہے جس میں انجن ہوتا ہے اور وہ پیٹرول سے چلتا ہے۔ لیکن اسے بھی ریموٹ سے ہی کنٹرول کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ کور کمانڈر پشاور نے پیلے رنگ کا ہلکا پھلکا کھلونے نما جو طیارہ پہلے دن دکھایا تھا اس بارے میں انہوں نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ میزائیل کے ساتھ پرواز کرکے اپنے حدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور اس پر کیمرہ بھی نصب کیا جاسکتا ہے۔ لیکن دوسرے روز جب فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے نے اسلام آباد میں تعینات ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو، جن میں بیشتر مغربی میڈیا کے نامہ نگار بھی شامل تھے، بریف کرتے ہوئے جب کورکمانڈر نے اپنی بات دہرائی تو ایک صحافی نے اس کھلونے نما طیارے کو پکڑ کر کہا کہ اس کا تو اپنا ہی وزن بہت کم ہے۔ جس پر کورکمانڈر نے کہا تھا کہ ’ہاں لیکن یہ ایک کلو گرام دھماکے دار مادہ آسانی سے اٹھا سکتا ہے اور اس پر کیمرہ بھی نصب کیا جاسکتا ہے۔‘ ان کے اس بیان کے بعد یہ شکوک و شبہات پیدا ہوئے تھے کہ ’ڈرون‘ کہیں کھلونہ تو نہیں۔ کور کمانڈر کے دکھائے گئے ’ڈرون‘ کی جب تصاویر اخبارات میں شائع ہوئی تو کچھ ماہرین نے بھی اس پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے شکوک کا اظہار کیا تھا۔ واضح رہے کہ کور کمانڈر نے کہا تھا کہ القاعدہ کے حامی شدت پسند سراج الدین حقانی کے شمالی وزیرستان میں قائم مدرسے اور اس سے ملحقہ عمارت سے بھاری اسلحہ، گولہ بارود اور ان کے بقول ’ڈرون‘ برآمد ہوا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||