قیدی افغانستان سے پشاور منتقل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کی جیل سے رہائی پانے والے ساٹھ سے زائد پاکستانی قیدیوں کو سوموار کی رات گئے پشاور سینٹرل جیل پہنچا دیا گیا ہے- افغان دارالحکومت سے گاڑیوں میں لائے گیے یہ قیدی کافی خوش اور مطمئن نظر آرہے تھے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان پر مزار شریف میں جنرل دوستم کے سپاہیوں نے سخت مظالم کئے۔ ایک قیدی نے نام نہ بتاتے ہوئے کہا کہ دوستم کے آدمیوں نے انہیں مارا پیٹا اور ان کی آنکھوں کے سامنے قیدیوں کو ذبح کیا۔ ان پاکستانی قیدیوں کو جن کا تعلق سندھ، پنجاب اور صوبہ سرحد سے بتایا جاتا ہے دو برس قبل طالبان کے ساتھ مل کر امریکہ کے خلاف لڑنے کی غرض سے افغانستان گئے تھے لیکن پکڑ لیے گئے۔ ایک جیل اہلکار کے مطابق ان قیدیوں کو تفتیش کے لئے جیل میں رکھا جائے گا اور ان کی رہائی میں ایک ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ دو برس قبل افغانستان میں طالبان کی مدد کے الزام میں تقریبا بارہ سو پاکستانی گرفتار کیے گئے تھے جن میں سے حکام کے بقول چھ سو رہائی پا کر واپس لوٹ چکے ہیں جبکہ مزید پانچ سو اب بھی قید میں ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں بیمار قیدیوں کے ایک اور گروپ کے آئندہ چند روز میں رہا ہونے کی امید ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||