BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 November, 2003, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت پرقیدی قبول نہ کرنےکا الزام

اسفندیار ولی

صوبہ سرحد کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے حکومتِ پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ وہ افغان حکام کی جانب سے تمام پاکستانی قیدیوں کو رہا کر کے اس کے حوالے کرنے کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کر رہی ہے۔

اے این پی کے صدر اسفندیار ولی نے یہ الزام افغانستان کے دورے سے واپسی پر پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں لگایا۔ ’افغان حکام پاکستان کو یہ دعوت سرکاری سطح پر کئی مرتبہ دے چکے ہیں کہ اپنے قیدی لے جاؤ اور ان کی خود سکرینِنگ کرو اور جنہیں چاہو جیل میں رکھو جہنیں چاہو رہا کر دو۔‘

حکومتِ افغانستان نے اس سال مارچ میں ملک کی مختلف جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا اعلان کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خبر کی تشہیر بھی کابل میں پاکستان کے سفیر رستم شاہ مہمند نے ایک اخباری کانفرنس میں کی تھی۔ لیکن اس کے بعد معاملہ بظاہر ٹھنڈا پڑ گیا۔

اب عوامی نیشنل پارٹی کے ایک پانچ رکنی وفد نے کابل کے دورے سے واپسی پر الزام لگایا ہے کہ افغان حکام تو تمام قیدیوں کی رہائی کے لئے تیار ہیں لیکن حکومتِ پاکستان انہیں لینے کو تیار نہیں۔

اے این پی کے اس وفد کے سربراہ اور پارٹی کے صدر اسفندیار ولی کا کہنا تھا کہ اس تجویز کا فائدہ وہ نہیں لینا چاہتے کیونکہ یہ پہلے سے افغان حکومت کئی مرتبہ کہہ چکی ہے لیکن پاکستان اس کا جواب نہیں دے رہا تھا۔

اے این پی کے وفد نے صدر حامد کرزئی سمیت اعلیٰ افغان حکام سے ملاقاتوں میں ان قیدیوں کا مسئلہ اٹھایا اور ان کا دعویٰ ہے کہ اُن کی درخواست پر افغان حکومت نے پچاس قیدی رہا کرنے کا اعلان کیا۔ ان میں سے تیس کابل جبکہ بیس شبرغان جیل سے رہا کئے جا رہے ہیں۔

اے این پی التبہ اس رہائی میں کابل میں پاکستانی سفارت خانے کی کارکردگی سے خوش نہیں تھی۔ اسفندیار ولی نے کہا کہ ’ہم دو گھنٹے تک افغان وزارت داخلہ میں پاکستانی سفارت کاروں کا انتظار کرتے رہے کہ وہ آئیں اور ان کی موجودگی میں قیدی رہا کئے جائیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان قیدیوں کی اے این پی کو حوالے کرنے کی صورت میں حکومت پاکستان انہیں تسلیم نہیں کرے گی۔

’میں خود انہیں ایک بس میں ساتھ لا سکتا تھا لیکن ہم نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ اس سے طورخم پر بدمزگی پیدا ہوگی۔ کیونکہ ان قیدیوں کے کاغذات مکمل نہیں تھے۔ ‘

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شبرغان جیل میں خراب حالات کی اطلاعات پر انہوں نےافغان حکام سے تمام پاکستانی قیدیوں کو کابل منتقل کرنے کی درخواست کی جوکہ قبول کرلی گئی۔

دریں اثنا کابل میں رہا پانے والے تیس پاکستانی قیدی اتوار کی شب واپس پشاور پہنچ گئے ہیں۔ انہیں سڑک کے راستے پاکستان لایا گیا جہاں سے انہیں سینٹرل جیل پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ باقی بیس قیدی بھی منگل کو شبرغان سے کابل پہنچیں گے جہاں سے انہیں رہا کیا جائےگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد