| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے رکن یا عام شہری؟
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ان قبائلیوں کا، جن کے مکانات پر گزشتہ روز پاکستان فوج نے ایک کارروائی میں آٹھ افراد کو القاعدہ کا بتاتے ہوئے ہلاک کردیا تھا، کہنا ہے کہ ان کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں اور ان پر القاعدہ کے ارکان کو پناہ دینے کا الزام بھی غلط ہے۔ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے پینسٹھ کلومیٹر مغرب میں افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب باغڑ کے مقام پر اتوار کے روز پچاس سالہ نواب خان اپنے مکان سے ان گولیوں اور راکٹوں کے خول اکھٹے کر رہے تھے جو دو روز قبل پاکستانی فوج نے ان کے مکان کے علاوہ چار ہمسایہ مکانات پر داغے تھے۔ پاکستانی عسکری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کارروائی کے دوران القاعدہ کے آٹھ ارکان کو ہلاک اور ڈیڑھ درجن کو گرفتار کیا ہے۔
نواب کا کہنا تھا کہ ان کے تین بیٹے بھی گرفتار ہیں۔ لیکن جب کوئی غیرملکی پاکستان میں داخل ہوتا ہے تو اسے اس وقت کیوں نہیں گرفتار کیا جاتا۔ ’یہاں مصری بھی تھے اور عربی بھی۔ حکومت کو معلوم ہے وہ کہاں ہیں اس کے باوجود ان کو پکڑا نہیں جا رہا ہے۔‘ باغڑ کا علاقہ باقی ایجنسی کے برعکس کافی سرسبز ہے اور یہاں اخروٹ کے جنگلات خاصے بڑے رقبے پر پھیلے ہیں۔ سڑک پختہ نہیں اور آمدورفت انتہائی مشکل ہے۔ آبادی بھی انتہائی کم ہے اور دور دور تک آباد ہے۔
جنوبی وزیرستان میں حکام نے وزیر قوم کی زلی خیل شاخ کو جو باغڑ کے علاقے میں آباد ہے سوموار تک کا وقت دیا ہے کہ وہ القاعدہ کے مبینہ ارکان کو پناہ دینے والے تین افراد ان کے حوالے کر دیں۔ البتہ زلی خیل قوم کے سرداروں کا کہنا ہے کہ وہ خود ان افراد کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے۔ افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکہ کے مقابلے میں طالبان کے لئے آج بھی ہمدردی پائی جاتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی بنا پر امریکی اور افغان حکومتیں اس علاقے کو آج بھی طالبان اور القاعدہ کی پناہ گاہوں کے طور پر شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||