’قاتلانہ حملوں میں القاعدہ کا ہاتھ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف نے پہلی مرتبہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان پر قاتلانہ حملوں میں القاعدہ کا ہاتھ تھا۔ صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں گورنر ہاوس کے سبزا زار میں قبائلی عمائدین کے ایک اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والا ایک لیبیائی شخص ان حملوں میں ملوث تھا۔ انہوں نے اس شخص کا نام تو نہیں بتایا البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس شخص نے ان پر حملوں کے لئے انتہا پسندوں کو پندرہ سے بیس لاکھ روپے کی رقوم دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص کے رابطہ کار کوگرفتار کر لیا گیا ہے اور جلد اسے بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔ صدر مشرف گزشتہ برس دسمبر میں دس روز کے وقفے سے دو قاتلانہ حملوں میں بال بال بچے تھے۔
صدر نے ان افراد کے بارے میں مزید معلومات بھی سرکاری ٹی وی کے ذریعے عوام سامنے لانے کا وعدہ کیا۔ سرکاری طور پر بلائے گئے اس اجلاس میں وہ قبائلی ملک اور عمائدین ہی مدعو کئے گئے تھے جو ہمیشہ سے حکومت وقت کے گن گاتے رہے ہیں۔ اس اجلاس میں نہ تو صوبے میں حکمراں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کا کوئی نمائندہ موجود تھا اور نہ اس کے فاٹا سے منتخب اراکین قومی اسمبلی۔ اس موقع پر صدر مشرف نے اپنے جارحانہ انداز میں قبائلی علاقوں میں موجود القاعدہ کے غیرملکی عناصر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس وقت وہاں پانچ سو تک شدت پسند پناہ لئے ہوئے ہیں۔ صدر مشرف نے واضع کیا کہ ان افراد کی کسی صورت بھی ان علاقوں میں موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ صدر پرویز مشرف نے قبائلیوں سے ان افراد کو حکومت کے حوالے کرنے لے لئے مدد کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان افراد کو افغانستان جا کر مسلمان بھائیوں کو قتل کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے۔ اس اجلاس میں چند صحافیوں کو ہی شرکت کی دعوت دی گئی تھی البتہ ایک بڑی تعداد میں نجی ٹی وی چینلز اور دیگر اداروں کے صحافیوں کو نظر انداز کیا گیا۔ گورنر ہاوس، پی آئی ڈی اور فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ صحافیوں کی یہ لسٹ کس نے تیار کی تھی اور اس کی معیار کیا تھا۔ صدر کے دورے کی دوران شہر میں سخت حفاظتی اقدامات اختیار کئے گئے تھے جس سے ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم رہا اور شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||