صدر کی آمد، شہر بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کان تو اُسی وقت کھڑے ہوگئے تھے جب جنرل پرویز مشرف نے یہ اعلان کیا کہ اُن کی آمدورفت کے وقت ٹریفک کو پندرہ منٹ سے زیادہ عرصہ کے لئے بند نہ کیا جائے۔ مگر کراچی کے شہریوں کو اس بات کا عملی تجربہ کہ حاکم کے پندرہ منٹ عوام کے کتنے گھنٹے ہوتے ہیں، کل رات اور آج ہوا۔ اور یہ ایک تلخ تجربہ تھا۔ صدرجنرل پرویز مشرف کل کسی اعلان کے بغیر اچانک کراچی آ وارد ہوئے۔ اُن کی آمد سے کئی گھنٹے پہلے ہوائی اڈے سے آرمی ہاؤس تک جانے والی سڑک شارع فیصل پر حفاظتی انتظامات شروع کردیئے گئے تھے۔ سروس روڈ بند کردی گئی تھیں اور پیٹرول پمپوں پر تالے ڈال دیئے گئے تھے۔ شارع فیصل کے دونوں جانب شہر کے کئی علاقوں سے آنے والی سڑکوں پر گاڑیاں روک دی گئیں اور چھوٹی سڑکوں پر پانی کے ٹینکر کھڑے کرکے انہیں بھی بند کردیا گیا۔ ٹینکروں کا یہ استعمال شہریوں کے لئے حیرانی، تعجب اور غصہ کا باعث تھا کہ ٹینکر پیاسوں کو پانی فراہم کرنے کی بجائے ٹریفک روکنے کے لئے استعمال کئے جارہے تھے۔ صدر صاحب کی کراچی ائیر پورٹ پر آمد سے کوئی ڈیڑھ گھنٹے پہلے چودہ، پندرہ کلو میٹر لمبی شارع فیصل ہر قسم کے لئے ٹریفک کے لئے بند کردی گئی اور وہاں غیر اعلانیہ مگر عملاً کرفیو نافذ کردیا گیا۔ آس پاس کی سڑکوں پر ہزاروں گاڑیوں کو روک کے رکھا گیا۔ اِن گاڑیوں میں بچے، بوڑھے اور جوان سب ہی سوار تھے۔ کوئی گھر جارہا تھا اور کوئی شادی میں شریک ہونےاور کئی باراتیں بھی ان حفاظتی اقدامات کا شکار ہوئیں۔ انہیں دیر ہورہی تھی مگر اس سے شاید اتنا فرق نہیں پڑتا۔ سب سے زیادہ متاثر تو ایک درجن سے زائد ایمبولینسوں میں پھنسے ہوئے وہ مریض ہوئے جو اسپتال جانا چاہتے تھے۔ مگر اسپتالوں کے راستے بھی ٹینکر کھڑے کر کے بند کردیئے گئے تھے۔ ایک فرد کی سیکیورٹی کئی افراد کی جان سے زیادہ قیمتی تصور کی جارہی تھی۔ شارع فیصل پر کرفیو غیر اعلانیہ ہی سہی، اتنا سخت تھا کہ پیدل بھی کسی کو سڑک پار کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اُس ماں کو بھی نہیں جس کا سات ماہ کا بچہ اسپتال میں دم توڑ گیا تھا اور جو اسے گھر لے جانا چاہتی تھی۔ شارع فیصل اور اس کے آس پاس کی سڑکیں صدر کے احکامات کے مطابق پندرہ منٹ بند نہیں رہیں۔ ایک گھنٹہ بھی نہیں۔ یہ سڑکیں ڈیڑھ گھنٹے سے زائد تو اس طرح بند رہیں کہ اس اہم شارع پر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا اور آس پاس کی سڑکوں پر ہزاروں گاڑیاں پھنسی رہیں۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد جب جنرل مشرف اس سڑک سے محفوظ گزرگئے تو لوگوں کو ہلنے جلنے کی اجازت دی گئی۔ ٹریفک جام سے نکلنے اور اپنی منزلوں تک پہچنے میں انہیں مزید کافی وقت لگا۔ جنرل مشرف اور اُن کی حفاظت پر مامور عملے اور حکام نے بادشاہ اور نمک کی وہ روایت یاتو سنی ہی نہیں اور اگر سنی تو اس کا کوئی اثر نہیں لیا کہ اگر حاکم لوگوں کا نمک مفت لے لے گا تو اُس کے اہلکار عوام کو لوٹ کھائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||