BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 December, 2005, 13:33 GMT 18:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایمن کا وڈیو غلطی سے نشر ہوا‘
ایمن الظواھری
ایمن الظواھری نے کہا کہ لندن بم دھماکوں کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ تھا
عرب ٹی وی چینل الجزیرہ نے القاعدہ تنظیم کے نائب رہنما ایمن الظواھری کےایک ویڈیو پیغام کے بارے میں کہا ہے کہ یہ وڈیو ستمبر میں نشر ہونے والا وڈیو ہے جسے غلطی سے دوبارہ نشر کیا گیا۔

اس وڈیو میں ایمن الظواھری نے کہا تھا کہ ’اسامہ بن لادن زندہ ہیں اور مغرب کے خلاف جہاد میں مصروف ہیں‘۔

الجزیرہ کے ایڈیٹر انچیف احمد شیخ کا کہنا ہے کہ ان کے چینل نے یہ وڈیوغلطی سے نشر کیا۔

شیخ نے کہا کہ انہیں یہ وڈیو ستمبر میں ملاتھا اور اس کے ’اہم حصے‘ اسی وقت نشر کردیئے گئے تھے۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ آج غلط فہمی کی وجہ سے غلطی سے وہی حصے دوبارہ نشر کر دیے گئے‘۔

الظواھری کا یہ ویڈیو پیغام پہلے انٹرنیٹ پر شائع ہوا تھا جس کے بعد اس کو عربی ٹیلی وژن چینل الجزیرہ پر نشر کیا گیا ۔

اس وڈیو میں اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواھری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ القاعدہ سات جولائی کو لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کے پیچھے القاعدہ کا
ہاتھ تھا۔

ستمبر میں ایمن الظواھری نے یہ دعوی کیا تھا کہ اسامہ بن لادن ابھی تک زندہ ہیں اور مغرب کے خلاف ’ہولی وار‘مقدس جنگ کی قیادت کر رہے ہیں۔

اس ویڈیو پیغام میں الظواھری نے تیل کے تنصیبات کو نشانہ بنانے پر زور دیا اور کہا کہ القاعدہ کو مزید وسیع اور مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ بیشتر ایسی تنصیبات مسلمان ممالک میں ہیں لیکن اس تیل کا منافع ’اسلام دشمن عناصر‘ کو جاتا ہے۔

ایمن الظواہری نے اسامہ بن لادن کے صحتیاب ہونے کے بارے میں کہا کہ یہ خبر ’تمام مسلمانوں کے لیے باعث خوشی ہوگی‘۔

ڈاکٹر ایمن الظواھری کا تعلق مصر سے ہے اور وہ پیشے سے آنکھوں کے سپیشلسٹ تھے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملے الظواھری کے ہی منصوبہ بندی سے ہوئے تھے۔

سنہ دو ہزار ایک میں امریکہ نے بائیس انتہائی مطلوب افراد کی فہرست جب جاری کی تھی تو الظواہری کا نام اسامہ کے بعد دوسرے نمبر پر تھا اور ان کی سر کی قیمت پچیں ملین ڈالر لگائی گئی تھی۔

اسی بارے میں
القاعدہ کی ٹیپ کا تجزیہ
05 August, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد