القاعدہ جنگ جاری رہےگی: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش نے کہا ہے کہ امریکہ کو عراق سے نہیں نکالا جائے گا اور وہ القاعدہ کے خلاف اپنی جد وجہد جاری رکھے گا۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو القاعدہ تنظیم کے اہم رہنما ڈاکٹر ایمن الظواھری کےاس بیان کے جواب میں کہی جس میں الظواھری نے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے علاوہ امریکہ پر سخت تنقید کی تھی۔ اس بیان میں ڈاکٹر الظواھری نے کہا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف لندن بم حملے جیسے مزید حملے کیے جائیں گے۔ یہ ویڈیو ٹیپ کیا ہوا بیان عربی ٹی وی چینل الجزیرہ نے نشر کیا تھا۔ الظواھری کے بیان کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی عراق میں اپنے کام پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے الظواھری کے بیان کو پسماندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراقی ایک آزادانہ معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں لیکن الظواھری ان کے لیے یہ نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا یہ سوال بنتا ہے ان دونوں نظریات کے تصادم کا، یعنی آزادی اور آمریت کے تصادم کا ۔ صدر بش نے کہا کہ ’الظواھری اُس ٹیم میں شامل تھے جس نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو ہمارے اوپر حملے کیے تھے۔ وہ اس القاعدہ گروپ کا حصہ ہیں جنہوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے امریکہ پر حملے کیے۔ لیکن ان لوگوں کو ہماری قوم کا اندازہ نہیں تھا۔ میں نے اسی وقت ہی قسم کھائی تھی کہ ہم ان لوگوں کے خلاف لڑیں گے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||