القاعدہ کی ٹیپ کا تجزیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن اور لندن میں حکام اسامہ بن لادن کے دستِ راست ایمن الظواھری کی جمعرات کو الجزیرہ ٹی وی چینل پر نشر ہونے والی نئی ٹیپ کا جس میں انہوں نے امریکہ اور برطانیہ کو پھر دھمکیاں دی ہیں، تجزیہ کر رہے ہیں۔ ایمن الظواھری نے دھمکی دی تھی کہ برطانوی وزیر اعظم کی خارجہ پالیسی کی بنا پر لندن کو مزید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن ٹیپ کو القاعدہ کے رہنماؤں کے جولائی سات کے لندن بم حملوں میں ملوث ہونے کے ثبوت کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس امکان کے مختلف پہلؤوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بی بی سی نامہ نگار گارڈن کوریرا نے کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کو القاعدہ کی پراپیگنڈہ مہم کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس ٹیپ کو لندن میں ممکنہ حملوں کی تفتیش کے دوران مد نظر رکھا جائے گا۔ الظواھری نے اس ٹیپ میں برطانوی شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ ٹونی بلیئر نے لندن کو تباھی سے دوچار کیا ہے اور وہ ان کے لیے مزید تباھی کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراق امریکہ کے لیے ویتنام سے بدتر ثابت ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||