باجوڑ ایجنسی میں اٹھارہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی لوگوں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ کل رات سرحدی تحصیل مامون کے ایک سرحدی گاؤں میں اتحادی افواج کی بمباری کے نتیجے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کم از کم گیارہ اور زیادہ سے زیادہ چودہ افراد کی ہلاکت کی ابھی تک تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دھماکوں کی وجہ فوری طور پر واضع نہیں سکی ہے۔ تاہم اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ باجوڑ کے نواگئی علاقے کے اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ عبدالقوم نے بھی کہا ہے کہ کل رات تین بجے کے لگ بھگ علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ یہ علاقہ کافی دور ہے لہذا انہوں نے مزید تحقیقات اور معلومات اکھٹی کرنے کے لیے ٹیم علاقے کو روانہ کر دی ہے۔ باجوڑ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کنڑ کے ساتھ سرحد پر واقعے ہے۔ کنڑ میں اتحادی فوجیوں کو گاہے بگاہے طالبان اور القاعدہ کے حملے درپیش رہتے ہیں۔ مقامی قبائلیوں کے مطابق سرحد پار امریکی طیارے چند روز سے کنڑ میں طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ تاہم کل رات انہوں نے باجوڑ کے ایک گاؤں کے تین مکانات پر بمباری کی جس سے یہ ہلاکتیں ہوئیں۔ علاقے سے لوٹنے والے ایک صحافی انور اللہ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت بچوں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کو بعد میں دفنا دیا گیا۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ مرنے والوں کی تعداد اٹھارہ سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ دنوں امریکی بمباری سے آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے پر پاکستان نے امریکہ سے احتجاج بھی کیا تھا۔ باجوڑ میں بھی طالبان اور القاعدہ کے حامیوں کا مسلہ ماضی میں چلتا آیا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں قریبی علاقے وزیرستان میں سکیورٹی ایجنسیوں اور شدت پسندوں میں کئی جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن اس سے پہلے کبھی باجوڑ ایجنسی سے لڑائی کی خبریں نہیں آئیں۔ یاد رہے کہ کچھ روز قبل پاکستان فوج نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں ایک کارروائی میں میں چودہ مشتبہ شدت پسند ہلاک کر دیے تھے۔ پاکستان فوج نے یہ کارروائی میران شاہ کے نزدیک فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ایک حفاظتی چوکی پر نامعلوم شدت پسندوں کے راکٹ حملوں کے بعد کی۔ ان حملوں میں سات فوجی اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||