وزیرستان میں مزید ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوج نے ان افراد کے خلاف کارروائی شروع کی ہے جنہوں نے کل رات ایک چوکی پر حملہ کرکے آٹھ سپاہیوں کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک سرکردہ ملک سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس طرح وزیرستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تشدد کے مختلف واقعات میں آٹھ فوجیوں سمیت بائیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ حالیہ دنوں میں اب تک وزیرستان میں کسی ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔ فوج نے مقامی قبائل کو حملے میں ملوث افراد حوالے کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کی مہلت بھی دی ہے۔ شمالی وزیرستان کے سرحدی گاؤں سیدگئی میں لوگوں کا کہنا ہے کہ کل رات فوجی ہیلی کاپٹروں سے داغے گئے راکٹ سے ایک مکان میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں بچے اور عورتیں بھی بتائی جاتی ہیں۔ مقامی قبائلیوں نے الزام لگایا ہے کہ پہلے امریکی فوجیوں نے مکان سے دو افراد کو گرفتار کیا اور بعد میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے راکٹ داغے۔ میران شاہ سے تقریبا بارہ کلومیٹر مغرب میں واقع سیدگئی کا یہ مکان مولانا نور محمد نامی شخص کا بتایا جاتا ہے جس پر حکام کو طالبان کا حامی ہونے کا شک تھا۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی سے بات میں سیدگئی میں واقعے اور فائرنگ کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا وہ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ میران شاہ میں پاکستان فوج کے میجر جنرل اکرم ساہی نے مقامی قبائل سے ایک ملاقات میں انہیں اگلے چوبیس گھنٹوں میں حملہ آور حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سیدگئی کے ایک مقامی قبائلی ملک مومن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے گلہ کیا کہ وہ امریکی مداخلت سے انہیں بچانے میں ناکام رہی ہے۔ ادھر شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے مشرق میں میر علی کے گاؤں اسوخیل کے قریب بنوں جانے والی سڑک پر ایک چوکی پر حملے کے بعد علاقے میں تلاشی کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ علاقے کا ٹوچی سکاوٹس پہلے ہی محاصرہ کیے ہوئے ہے اور بنوں جانے والی شاہراہ تمام ٹریفک کے لئے بند ہے۔ علاقے میں مزید فوج بھی بھیجی گئی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ میران شاہ سے آنے والے ہیلی کاپٹر علاقے میں جگہ جگہ مبینہ حملہ آوروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم اس سے کسی جانی نقصان کی تازہ اطلاع نہیں ملی ہے۔ ایک مقامی شخص افغان اللہ نے بتایا کہ یہ کارروائی ہفتے کی شام تک جاری تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خسوخیل گاؤں تقریبا خالی ہوگیا ہے اور لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔ قبائلیوں کا کہنا ہے کہ ایک مقامی عسکریت پسند تنظیم نے حکومت سے اس چوکی کو قائم نہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا تاہم حکام اس پر راضی نہیں ہوئے۔ کل رات جب سپاہی چوکی پر پہنچے تو نامعلوم افراد نے ان پر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ حملے کہ بعد سے نو مزید سپاہی لاپتہ ہوگئے تھے جن میں سے تین واپس آچکے ہیں جبکہ باقی نو کے بارے میں معلومات میسر نہیں۔ حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ کسی نے ابھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں ایک سرکردہ ملک سمیت پانچ افراد ہلاکت کا واقعہ لدھا تحصیل کے کوٹ کئی کے مقام پر ہفتے کی سہہ پہر اس وقت پیش آیا جب نامعلوم حملہ آوروں نے ڈاٹسن پک اپ میں سفر کر رہے ملک عیسی خان، اس کے بھائی، چچازاد بھائی اور ایک بچے سمیت پانچ افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے نتیجے میں پانچ افراد موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔ ملک عیسی خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حکومت نواز سردار تھے۔ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں بھی ایک افغان کے مکان کے باہر نامعلوم افراد کی جانب سے رکھے گیے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے ایک چھ سالہ بچہ ہلاک جبکہ ایک آٹھ سالہ بچہ زخمی ہوا ہے۔ اس حملے کی وجہ بھی واضح نہیں ہو سکی۔ افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقعہ قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پاکستان فوج القاعدہ اور طالبان کے کارکنوں اور حامیوں کی تلاش میں کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز بھی حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ | اسی بارے میں وزیرستان: میجر سمیت گیارہ ہلاک30 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||