وزیرستان: دو ہلاک، ایک زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز کی مختلف چوکیوں پر راکٹوں اور دستی بموں سے حملوں میں ایک فوجی اور ایک مشتبہ شدت پسند ہلاک اور ایک مقامی شہری زخمی ہوگیا۔ جنوبی وزیرستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ماندتا کے علاقے میں نیم فوجی ملیشیا کا ایک سپاہی مقامی طور پر تیار کی گئی بارودی سرنگ کے دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔ بعد میں علاقے کی تلاشی کے دوران مشتبہ حملہ آوروں سے گولیوں کے تبادلے میں ایک شدت پسند بھی مارا گیا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں ایک اور مشتبہ شدت پسند گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ’ میران شاہ کے جنوب مغرب میں ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر شکئی وادی میں ہونے والی جھڑپ میں ایک جوان اور ایک مشتبہ شخص ہلاک ہو گیا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’ تلاشی کے آپریشن کے دوران فوجیوں کا کچھ مشتبہ افراد سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ یہ آپریشن علاقے میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے کے بعد شروع کیا گیا تھا‘۔ ادھر شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے پچیس کلومیٹر مشرق میں میرعلی بازار چوک میں کل رات نامعلوم افراد نے سیکورٹی فورسز کی ایک چوکی پر چار راکٹ داغے گئے جو کہ چوکیوں کے قرب و جوار میں گرے۔ اس حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم مقامی حکام کے مطابق ایک راکٹ بجلی کے کھمبے سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں پورے علاقے میں بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی۔ درین اثناء گورنمنٹ ہائی سکول ہرمز میں اتوار کو دن نو بجے نامعلوم افراد نے سکاؤٹس چوکی پر دستی بم پھینکا جس سے ایک مزدور زخمی ہو گیا۔ ہفتے کے روز حکومت کی جانب سے القاعدہ کے ایک رکن ابو حمزہ رابعہ کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد سے علاقے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں القاعدہ کی مدد نہ کرنے کا وعدہ04 December, 2005 | پاکستان وزیرستان: ’القاعدہ کا کمانڈر ہلاک‘03 December, 2005 | پاکستان وزیرستان: دھماکے میں پانچ ہلاک01 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||