BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 December, 2005, 08:16 GMT 13:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
القاعدہ کی مدد نہ کرنے کا وعدہ

قبائلی عمائدین (فائل فوٹو)
حکومت قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے خلاف حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک اور اہم اور حکام کو مطلوب شخصیت نے اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کرتے ہوئے اسے القاعدہ کی مدد نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مولانا عجب نور نے حکام کو یہ یقین دہانی سنیچر کے روز شمالی وزیرستان کے خیسور علاقے میں ایک مدرسے میں جرگے کے دوران کرائی۔

مولانا عجب نور علاقے کی روحانی شخصیت مولانا گل منیر کے صاحبزادے ہیں اور افغانستان میں روسی مداخلت کے خلاف مزاحمت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق یہ معاہدہ غیرمشروط تھا جس کے تحت مولانا عجب نور نے یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں کسی غیرملکی کو پناہ نہیں دیں گے۔ اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ کسی شک کی بنیاد پر علاقے میں فوجی کارروائی سے قبل علاقے کے علماء اور مشیران کو اعتماد میں لے گی۔

اس سے چند روز قبل میران شاہ میں اسی طرح کے ایک معاہدے کے تحت پینتیس مطلوب افراد نے حکومت کو تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔

لیکن اس کے فورا بعد میرعلی میں غیر واضع حالات میں پانچ افراد کی ہلاکت سے ان معاہدوں کو دھچکا لگنے کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ مقامی قبائل حکومت پر طیاروں کے ذریعے اس مکان پر حملہ کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

اسی بارے میں
عسکریت پسندوں سے معاہدہ
28 November, 2005 | پاکستان
فوج ملوث نہ ہو: این جی اوز
22 October, 2005 | پاکستان
مدرسوں کے خلاف نہیں: وزیر
28 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد