القاعدہ کی مدد نہ کرنے کا وعدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک اور اہم اور حکام کو مطلوب شخصیت نے اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کرتے ہوئے اسے القاعدہ کی مدد نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مولانا عجب نور نے حکام کو یہ یقین دہانی سنیچر کے روز شمالی وزیرستان کے خیسور علاقے میں ایک مدرسے میں جرگے کے دوران کرائی۔ مولانا عجب نور علاقے کی روحانی شخصیت مولانا گل منیر کے صاحبزادے ہیں اور افغانستان میں روسی مداخلت کے خلاف مزاحمت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق یہ معاہدہ غیرمشروط تھا جس کے تحت مولانا عجب نور نے یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں کسی غیرملکی کو پناہ نہیں دیں گے۔ اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ کسی شک کی بنیاد پر علاقے میں فوجی کارروائی سے قبل علاقے کے علماء اور مشیران کو اعتماد میں لے گی۔ اس سے چند روز قبل میران شاہ میں اسی طرح کے ایک معاہدے کے تحت پینتیس مطلوب افراد نے حکومت کو تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ لیکن اس کے فورا بعد میرعلی میں غیر واضع حالات میں پانچ افراد کی ہلاکت سے ان معاہدوں کو دھچکا لگنے کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ مقامی قبائل حکومت پر طیاروں کے ذریعے اس مکان پر حملہ کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ | اسی بارے میں قبائلی رہنما راضی، تلاش شروع01 October, 2005 | پاکستان عسکریت پسندوں سے معاہدہ 28 November, 2005 | پاکستان وزیرستان: دھماکے میں پانچ ہلاک01 December, 2005 | پاکستان وزیرستان: ’القاعدہ کا کمانڈر ہلاک‘03 December, 2005 | پاکستان فوج ملوث نہ ہو: این جی اوز22 October, 2005 | پاکستان مدرسوں کے خلاف نہیں: وزیر28 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||