قبائلی رہنما راضی، تلاش شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کےترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں قبائلی رہنماؤں کے تعاون سے علاقے میں سرچ آپریشن دو بارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے بتایا تھا کہ فوجی کارروائی روک دی گئی ہے اور متعلقہ قبائل کے رہنماؤں سے بات چیت کی جا رہی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھٹی کلی کے علاقے میں اب فائر بندی ہوگئی ہے اور سیاسی انتظامیہ مقامی قبائل کے رہنماؤں سے بات چیت کر رہی ہے۔ قبائل اور حکومت میں یہ مذاکرات اس وقت ہورہے ہیں جب گزشتہ دو روز کی کارروائی کے دوران پاکستانی فوج کے ایک میجر سمیت سیکورٹی فورسز کے گیارہ اہلکار مارے جاچکے ہیں۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو میں شمالی وزیرستان میں جاری ’سرچ آپریشن، کے دوران شدید مزاحمت کے نتیجے میں ایک میجر سمیت گیارہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ اتنی ہی تعداد میں سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے میجر کے بارے میں سندھی اخبارات نے خبر شائع کی ہے کہ ان کا نام محمد خان کورائی ہے اور وہ صوبہ سندھ کے شہر مورو سے ہیں۔ ان اخبارات میں میجر کی تصویر بھی شائع کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کے دو بچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی ایجنسیوں کو اطلاع ملی تھی کہ خئی کلے کے علاقے میں اسلحہ موجود ہے۔ جب شر پسندوں کو ڈھونڈنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا تو انہوں نے مزاحمت شروع کر دی۔
آفتاب شیر پاؤ کے مطابق ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چھ اہلکار جمعرات کوجبکہ پانچ جمعہ کو شہید ہوئے ہیں‘۔ وزیرِ داخلہ نے کہا تھا کہ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مزاحمت کاروں کی طرف سے کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کی بیس سے پچیس کے درمیان ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مزاحمت کاروں کو کئی مرتبہ لاؤڈ سپیکر پر کہا گیا تھا کہ اپنے ہتھیار ڈال دیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ بیس کے قریب سیکورٹی فورسز کے اہلکار لاپتہ ہیں۔ لیکن حکام کہتے ہیں کہ وہ اس بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||