وزیرستان: 15مطلوبہ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مختلف مقامات پر چھاپوں میں کم از کم پندرہ افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں سے نو افغان بتائے جاتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں مطلوب دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ حکام مزید گرفتاریوں کی بھی توقع کر رہے ہیں۔ پاکستان فوج کے مطابق شمالی وزیرستان میں آج صبح سکیورٹی دستوں نے تین مقامات پر چھاپے مارے۔ ان میں صدر مقام میران شاہ، میر علی اور ڈانڈے درپہ خیل شامل ہیں۔ پہلی کارروائی میران شاہ سے تقریباً چار کلومیٹر جنوب میں گاؤں ڈانڈے درپہ خیل میں صبح چار بجے کے قریب شروع کی گئی۔ کارروائی میں سکیورٹی دستوں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل تھی۔ پشاور میں فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق اس کارروائی میں ایک مکان کو جس میں مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع تھی گھیرے میں لے لیا گیا۔ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کو مقامی انتظامیہ کے اہلکار اور قبائلی عمائدین کی مدد بھی حاصل تھی۔ حکام نے مکان میں موجود افراد کو اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنے کا کہا جس کے بعد کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد تعطل ختم ہوا اور محصور افراد نے بارہ ساتھیوں کو حکام کے حوالے کر دیا جن میں سے نو افغان بتائے جاتے ہیں۔ اس مکان کی تلاشی پر وہاں سے بھاری اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا جن میں دستی بم، راؤنڈز اور دھماکہ خیز مواد شامل ہے۔ مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ یہ عمارت طالبان کے رہنما مولوی جلال الدین حقانی کا ممبع العلوم نامی مدرسہ تھا۔ اسی طرح کی کارروائی میران شاہ اور میرعلی کے قریب ایک گاؤں مچی خیل میں بھی کی گئی جہاں سے مزید دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اُن کے قبضے سے بھی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ حکام کے مطابق حراست میں لیے جانے والوں میں سے چند کا تعلق صوبہ سرحد اور پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ رزمک، میران شاہ روڈ پر پلاسٹک کی بوری میں بند ایک شخص کی لاش ملی ہے جسے گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔ اس ہلاکت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی اور نہ اس شخص کی شناخت ہوسکی تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ بظاہر افغان معلوم ہوتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||