شمالی وزیرستان میں جھڑپیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جمرات کی رات گئے سکیورٹی دستوں اور نامعلوم افراد کے درمیان میں میران شاہ کے قریب گولیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مقامی قبائلیوں کے مطابق یہ جھڑپ کل شام کے وقت شروع ہوئی جب سکیورٹی دستوں نے صدر مقام میران شاہ سے دو کلومیٹر کے شمال میں درگئی منڈیے کے مقام پر ایک مدرسے شعیب العلوم کی تلاشی کے لیے پیش قدمی کی۔ سکیورٹی دستے پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ ہوا جس کا فوجیوں نے بھی جواب دیا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور مقامی افراد کو یا تو علاقے چھوڑ دینے یا پھر اپنے مکانات میں رہنے کا حکم دیا ہے۔ چند افراد تو وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہے تاہم اکثریت گھروں میں ہی پھنسی ہوئی ہے۔ علاقے سے چار افراد کو حراست میں لئے جانے کی بھی خبر ہے۔ گولیوں کے مسلسل تبادلے کی وجہ سے کسی مصالحت کی کوشش کارآمد ثابت نہیں ہو رہی تھی۔ شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے القاعدہ اور طالبان کے مشتبہ افراد کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے بعد سے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ کئی دنوں سے میران شاہ اور دیگر علاقوں میں سرکاری اور فوجی اہداف نامعلوم افراد کی طرف سے راکٹ حملوں کی زد میں رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||