BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 July, 2005, 13:28 GMT 18:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محسود جنگجو، جنگ کی دھمکی

جنوبی وزیرستان
معاہدے کے بعد جنوبی وزیرستان میں حالات معمول پر آ گئے تھے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے محسود جنگجوؤں کے سربراہ نے حکومت پر فروری میں کیے جانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے ایک خطرناک جنگ کی دھمکی دی ہے۔

جنگجوؤں کے سربراہ بیت اللہ محسود نے بی بی سی اردو سروس سے ٹیلفون پر بات کرتے ہوئے فوج پر معاہدے کے ایک فی صد حصے پر بھی عمل درآمد نہ کرنے کی شکایت کی ہے۔

سینکڑوں محسود جنگجوؤں کی جانب سے امن معاہدے پر دستخط ان کے امیر بیت اللہ محسود نےکیے تھے جبکہ حکومت کی جانب سے اسٹنٹ پولیٹکل آفیسر عبدالکمال نے سراروغہ کے مقام پریہ کام سرانجام دیا تھا۔

اس چھ نکاتی معاہدے کے تحت جنگجوؤں نے سرکاری اور فوجی ٹھکانوں پر حملے نہ کرنے اور پرامن رہنے کا اعلان کیا تھے جبکہ حکومت نے انہیں اس کے بدلے معافی دے دی تھی۔

اس معاہدے کے بعد سے جنوبی وزیرستان کے محسود علاقوں میں بھی حالات قدرے معمول پر آگئے تھے۔ حکومت نے اس کے بعد شمالی وزیرستان پر توجہ دینا شروع کر دی تھی اور حالیہ دنوں میں وہاں طالبان اور القاعدہ کے مشتبہ ارکان کے خلاف کئی کارروائیاں کیں۔

اس کے بعد سے اس علاقے میں سرکاری اہداف پر راکٹوں کے حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ بیت اللہ کی ایسے وقت ناراضگی کا اظہار حالات کی سنگینی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

کافی غصیلے لہجے میں بیت اللہ نے کہا کہ ان کے ساتھ محسود علاقے میں بڑی بےعزتی کا رویہ روا رکھا جا رہا ہے۔ انہیں شاید علاقے میں قائم فوجی چوکیوں کی سب سے بڑی شکایت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میری اپنی بےعزتی کی جا رہی ہے چوکیوں پر‘۔

جنگجو سردار نے افسوس کے ساتھ کہا کہ کور کمانڈر اور سپاہی میں کوئی فرق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ کور کمانڈر کہتے ہیں ہماری عزت ہوگی لیکن ان کا سپاہی ہماری بےعزتی کر رہا ہے۔ غلاموں جیسے سلوک کر رہا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ غیرت اور بے غیرتی کا ہے۔ ’ہمارے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں ہم سروغہ کے معاہدے کے تحت جھک گئے ہیں لیکن بات ایسی نہیں۔ ہم ایک غیرت مند اور آزاد قوم ہیں اور اپنی آزادی کے حلاف ہم نے انگریزوں سے بھی ٹکر لی تھی‘۔

بیت اللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے مصالحتی جرگے سے پوچھا ہے کہ وہ حکومت سے معلوم کر کے انہیں بتائے کہ آیا وہ معاہدے کو تسلیم کرتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ کور کمانڈر نے ابھی تک اس اکیس رکنی مصالحتی کمیٹی سے بھی ایک ملاقات تک نہیں کی۔

ہم آزاد قوم ہیں
 ہمارے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں ہم سروغہ کے معاہدے کے تحت جھک گئے ہیں لیکن بات ایسی نہیں۔ ہم ایک غیرت مند اور آزاد قوم ہیں اور اپنی آزادی کے حلاف ہم نے انگریزوں سے بھی ٹکر لی تھی
بیت اللہ محسود

ایک سوال کے جواب میں کہ اگر حکومت نے مثبت جواب نہ دیا تو ان کا اگلا قدم کیا ہوگا، بیت اللہ کا کہنا تھا کہ وہ ایسی خطرناک جنگ حکومت کے خلاف کریں گے کہ وہ عام لڑائی نہیں ہوگی۔ ’وہ ہمارے لئے شدت پسند، دہشت گرد جیسے الفاظ استعال کرتے ہیں ہم انہیں ان الفاظ کے صحیع معنی بتا دیں گے‘۔

بیت اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت ان پر واضح کر دے کہ وہ معاہدے کو تسلیم کرتی ہے یا نہیں۔ اگر وہ کہہ دے کہ وہ معاہدے کو نہیں مانتی تو ہم جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’انشا اللہ ہم آخری دم تک عزت کی زندگی بسر کرتے رہیں گے‘۔

حکومت کے نفی کی صورت میں جواب کے بعد بیت اللہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی شوریٰ سے رجوع کریں گے اور انہیں توقع ہے شوریٰ عزت والا فیصلہ ہی کرے گی۔ یہ فروری میں امن معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ بیت اللہ نے اپنی خاموشی توڑی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد