’میں جنت میں تھا‘ عبداللہ محسود | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کو دو چینی انجنیئروں کے اغوا میں مطلوب قبائلی عسکریت پسند عبداللہ محسود نے پہلی مرتبہ اپنی ہلاکت کی خود تردید کی ہے۔ جمعہ کے روز کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنی چار ماہ کی خاموشی کی وجہ اپنی علالت اور کسی دور مقام کا سفر بتائی۔ تاہم انہوں نے نہ تو اپنی علالت اور نہ ہی اس سفر کی وضاحت کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس افواہ کی بھی تردید کی کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ کسی جھڑپ میں زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے محض اتنا کہا کہ وہ ’جنت‘ گئے ہوئے تھے۔ عبداللہ محسود حکومت کو گزشتہ برس اکتوبر میں گومل زام ڈیم منصوبے پر کام کرنے والے دو چینی انجنیئروں کے اغوا اور بعد میں ایک کی ہلاکت کے واقعے میں مطلوب ہیں۔ ان کی گرفتاری پر حکومت نے پچاس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہوا ہے۔ عبداللہ کا کہنا تھا کہ جب تک ان کا سر تن سے جدا نہیں ہوگا وہ آرام سے بیٹھنے والے نہیں۔ انہوں نے کوئی بیان دینے سے اجتناب کیا تاہم حکومت سے کسی معاہدے کی خبر کو بھی غلط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ امریکی قیدخانے گوانتناموبے کیوبا سے رہائی پانے والے اٹھائیس سالہ عبداللہ کے بارے میں گزشتہ مارچ یہ افواہیں سامنے آئیں کہ وہ سکیورٹی دستوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم سرکاری اور فوجی اہلکار اس کی تصدیق نہیں کرتے رہے ہیں۔ اب یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انہوں نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے بی بی سی سے بات کی ہے۔ مختصر بات چیت میں وہ پرسکون دکھائی دے رہے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||